سرینگر؍۵ ستمبر
۹ ستمبر کو نئی دہلی میں وزارت داخلہ کے ساتھ ذیلی کمیٹی کے اجلاس سے قبل لیہہ اپیکس باڈی(ایل اے بی) نے خبردار کیا ہے کہ اگر حکومت اس کے اہم مطالبات پر ’’ٹھوس‘‘ پیش رفت کرنے میں ناکام رہی تو احتجاجی تحریک میں مزید شدت لائی جائے گی۔
لیہہ اپیکس باڈی کا مطالبہ ہے کہ مرکز کے زیر انتظام علاقے کی سطح پر لداخ کے لیے قانون سازی کی جائے، آئین کے آرٹیکل۳۷۱ کے تحت تحفظات فراہم کیے جائیں، گزشتہ سال۲۴ ستمبر کے تشدد کے بعد درج مقدمات واپس لیے جائیں، متاثرین کو معاوضہ دیا جائے اور انکوائری کمیشن کی رپورٹ جاری کی جائے۔
ایل اے بی اور کرگل ڈیموکریٹک الائنس(کے ڈی اے) اگست۲۰۱۹ میں لداخ کو مرکز کے زیر انتظام علاقہ بنائے جانے کے بعد سے ان مطالبات کو لے کر مشترکہ طور پر تحریک چلا رہے ہیں اور۲۰۲۱ سے مرکز کے ساتھ مذاکرات کے کئی دور کر چکے ہیں۔
ایل اے بی کے چیئرمین تیرسنگ دورجے لکرک نے کہا کہ اگرچہ تنظیم وزارت داخلہ کے ساتھ ہونے والی ملاقات کا خیرمقدم کرتی ہے، تاہم مذاکرات کا جائزہ ان کے نتائج کی بنیاد پر لیا جائے گا۔
لکرک نے کہا، ’’اگر ملاقات کا مثبت نتیجہ برآمد ہوتا ہے اور ان مسائل پر تعمیری اور نتیجہ خیز بات چیت ہوتی ہے تو ہم اس کا خیرمقدم کریں گے۔ بصورت دیگر ہم اپنی تحریک میں انتہائی شدت لائیں گے۔‘‘
لکرک نے گزشتہ سال۲۴ ستمبر کے واقعات کی تحقیقات کے لیے قائم کیے گئے انکوائری کمیشن کی رپورٹ میں تاخیر پر بھی مایوسی کا اظہار کیا۔ ان واقعات میں چار افراد ہلاک ہوئے تھے۔
انہوں نے۲۴ ستمبر کے تشدد کے سلسلے میں گرفتار یا مقدمات کا سامنا کرنے والے افراد کے خلاف مقدمات زیر التوا رہنے پر بھی سوال اٹھایا۔ نئی دہلی کے جنتر منتر پر۲۰ جولائی کو پیش آنے والے واقعے سے متعلق مقدمات واپس لینے کی مبینہ پیش رفت کا خیرمقدم کرتے ہوئے انہوں نے لداخ کے معاملے میں مرکز پر ’’دوہرے معیار‘‘ کا الزام عائد کیا۔
لکرک کے مطابق گزشتہ سال کے تشدد سے متعلق۸۰ مقدمات میں سے اب تک صرف۲۵ مقدمات واپس لیے گئے ہیں۔
انہوں نے کہا، ’’ہم سب ہندوستانی ہیں اور سب کے ساتھ یکساں سلوک ہونا چاہیے۔ لداخ کے لوگوں کی زندگیاں اتنی سستی نہیں ہیں۔‘‘ انہوں نے تحریک کے دوران ہلاک اور زخمی ہونے والوں کے لواحقین کے لیے معاوضے کا مطالبہ کیا۔
دریں اثنا، ماحولیاتی کارکن سونم وانگچک نے کہا کہ ایل اے بی گزشتہ سال ہلاک، زخمی اور گرفتار کیے گئے افراد کی یاد میں ستمبر کو ’’شہدا کا مہینہ‘‘ کے طور پر منا رہی ہے۔
وانگچک نے کہا کہ متعدد پروگراموں کا منصوبہ بنایا گیا تھا، تاہم کارگل سے لیہہ تک مجوزہ پیدل مارچ‘ جو۱۰ ستمبر سے شروع ہونا تھا، ایک روز قبل وزارت داخلہ کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کے پیش نظر ملتوی کردیا گیا ہے۔
وانگچک نے کہا، ’’ہم نے اجتماعی طور پر فی الحال پیدل مارچ ملتوی کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔‘‘انہوں نے کہا کہ اگر۹ ستمبر کے مذاکرات تسلی بخش نتیجہ دینے میں ناکام رہے تو مارچ دوبارہ شروع کیا جا سکتا ہے۔ ان کے مطابق اگر حالات اس نہج تک پہنچے تو یہ مارچ۲۴ ستمبر سے تقریباً پانچ روز قبل منعقد کیا جائے گا۔
وانگچک نے کہا، ’’ہم ایک بار پھر پورے ہندوستان کے لوگوں سے اپیل کریں گے کہ وہ لداخ کی حمایت، ماحولیات کی حمایت اور لداخ کے ان لوگوں کی حمایت میں آگے آئیں جو ملک کی سرحدوں پر ثابت قدمی سے موجود ہیں۔‘‘
انہوں نے کہا کہ اپیکس باڈی کو توقع ہے کہ حکومت۹ ستمبر کے اجلاس میں مجوزہ لداخ اسمبلی کے بارے میں ایک تفصیلی مسودہ پیش کرے گی، جس میں اس کے اختیارات اور حقوق کی وضاحت ہو۔انہوں نے کہا، ’’اگر ان معاملات پر پیش رفت ہوتی ہے تو ہم مذاکرات کو کامیاب تصور کریں گے۔‘‘
وانگچک نے کہا کہ۲۴ ستمبر کے واقعات کے پس منظر میں حالات ’’معمول کے مطابق نہیں تھے‘‘ اور اشارہ دیا کہ ضرورت پڑنے پر ایل اے بی تشدد اور آتش زنی کے واقعات سے متعلق اپنی معلومات منظر عام پر لا سکتی ہے۔انہوں نے کہا، ’’اگر لداخ کے ساتھ یکساں سلوک نہیں کیا جاتا اور لداخ اور سرحدوں پر رہنے والے لوگوں کے ساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک روا رکھا جاتا ہے تو ہمیں۹ ستمبر کے بعد بڑے پیمانے پر تحریک شروع کرنے پر مجبور ہونا پڑے گا۔‘‘
۔۔۔۔۔۔۔۔۔(ویب ڈیسک)










