سری نگر؍۵ ستمبر
جموں و کشمیر پولیس نے ہفتہ کو کہا کہ آپریشن اشدر کے دوران ہلاک کیے گئے دہشت گرد کی شناخت یاسر کے طور پر ہوئی ہے، جو پاکستانی شہری اور لشکرِ طیبہ سے وابستہ تھا۔
جموں و کشمیر پولیس نے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں کہا کہ آپریشن کے بعد’ دہشت گرد‘ کی شناخت کی تصدیق کی گئی۔ پولیس نے یہ اطلاع ’آپ بھاگ سکتے ہیں، لیکن چھپ نہیں سکتے!‘ کے پیغام کے ساتھ شیئر کی۔
پولیس کے مطابق، ہلاک ہونے والا ملی ٹینٹ پاکستانی شہری تھا اور ممنوعہ دہشت گرد تنظیم لشکرِ طیبہ سے وابستہ تھا۔
یہ پیش رفت جموں و کشمیر میں جاری انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں میں تیزی کے درمیان سامنے آئی ہے، جن کا مقصد خطے میں سرگرم غیر ملکی ملی ٹینٹوں کا سراغ لگانا اور انہیں ہلاک کرنا ہے۔
حکام کے مطابق یاسر کی موجودگی کا پہلی بار۲۰۲۴ میں پتہ چلا تھا۔ موصولہ معلومات سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ۲۰۲۴ میں کم از کم تین بڑے دہشت گردانہ واقعات میں ملوث تھا، جن میں پونچھ ضلع میں بھارتی فضائیہ کے قافلے پر گھات لگا کر حملہ، سونمرگ کے قریب تعمیراتی کارکنوں پر حملہ اور بوٹا پتری میں فوج پر حملہ شامل ہیں۔
جموں و کشمیر کے پونچھ ضلع میں دہشت گردوں کی جانب سے بھارتی فضائیہ کے ایک قافلے پر گھات لگا کر کیے گئے حملے میں فضائیہ کا ایک اہلکار ہلاک اور چار دیگر زخمی ہوگئے تھے۔ یہ حملہ۴مئی۲۰۲۴ کو شام تقریباً۶بج کر۱۵ منٹ پر سرنکوٹ کے علاقے میں شاہ ستیار کے قریب اس وقت ہوا تھا جب اہلکار سناعی ٹاپ میں واقع اپنے اڈے کی جانب واپس جا رہے تھے۔
۲۰؍اکتوبر۲۰۲۴ کو سونمرگ کے گگن گیر علاقے میں دہشت گردوں کے ایک گروپ نے سات افراد کو گولیاں مار کر ہلاک کردیا تھا، جن میں ایک مقامی ڈاکٹر بھی شامل تھا۔
یاسر اس دہشت گرد گروپ کا حصہ تھا جس کی قیادت لشکرِ طیبہ کے کمانڈر جنائی احمد بھٹ کر رہے تھے۔ جنائی احمد بھٹ کو سکیورٹی فورسز نے۲ دسمبر۲۰۲۴کو سری نگر کے مضافات میں واقع دچی گام کے جنگل میں ہلاک کردیا تھا۔
۔۔۔۔۔
ایجنسیاں










