سری نگر/۴ستمبر
حکومتِ جموں و کشمیر کے محکمہ خزانہ نے ضلع ٹریژری آفس کپواڑہ میں تعینات اکاؤنٹنٹ سجاد احمد خان کے خلاف ایک ٹھیکیدار سے مبینہ طور پر غیر قانونی رشوت طلب کرنے کے الزام کی انکوائری کے بعد تادیبی کارروائی کا حکم دیا ہے۔
محکمہ خزانہ کی جانب سے جاری ایک حکومتی حکم نامہ کے مطابق سجاد احمد خان کے خلاف تادیبی کارروائی ایک زبانی شکایت کی بنیاد پر شروع کی گئی تھی، جس میں الزام عائد کیا گیا تھا کہ انہوں نے ایک ٹھیکیدار سے غیر قانونی رقم کا مطالبہ کیا۔
اس معاملے کی انکوائری ڈائریکٹر اکاؤنٹس اینڈ ٹریژریز کشمیر کی جانب سے۱۶ جون۲۰۲۶کو جاری کردہ حکم کے تحت ضلع ٹریژری آفس کپواڑہ کے ٹریژری افسر نے کی۔
انکوائری افسر نے متعلقہ ریکارڈ کا جائزہ لینے کے ساتھ ساتھ متعلقہ افراد کے بیانات بھی قلمبند کیے۔ انکوائری رپورٹ میں قرار دیا گیا کہ غیر قانونی رشوت طلب کرنے اور قبول کرنے کا الزام ثابت نہیں ہوسکا، کیونکہ اس کے حق میں کوئی دستاویزی یا آزادانہ تائیدی ثبوت موجود نہیں تھا۔
تاہم، انکوائری میں سجاد احمد خان کے عوام کے ساتھ برتاؤ کے حوالے سے بعض خامیوں کی نشاندہی کی گئی۔ ان خامیوں کو ایک سرکاری ملازم سے متوقع ضابطۂ اخلاق اور طرزِ عمل کے مقررہ معیار کے مطابق نہیں پایا گیا۔
انکوائری کے نتائج کی بنیاد پر ڈائریکٹر اکاؤنٹس اینڈ ٹریژریز کشمیر نے جموں و کشمیر سول سروسز (کلاسیفکیشن، کنٹرول اینڈ اپیل) رولز۱۹۵۶ کے رول۳۰(آئی)کے تحت معمولی تادیبی سزا ’سینسر‘ عائد کرنے کی سفارش کی۔
یہ سفارش انکوائری کے نتائج پر غور اور منظوری کے لیے مجاز اتھارٹی کے سامنے پیش کی گئی۔
محکمہ خزانہ نے اب متعلقہ قواعد کے تحت اکاؤنٹنٹ سجاد احمد خان پر ’سینسر‘ کی سزا عائد کرنے کی منظوری دے دی ہے۔یہ حکم حکومتِ جموں و کشمیر کے حکم سے جاری کیا گیا ہے اور محکمہ خزانہ کے فنانشل کمشنر (ایڈیشنل چیف سیکریٹری) شیلندر کمار، آئی اے ایس نے اس پر دستخط کیے ہیں۔
حکم نامے کی نقول اطلاع کے لیے جموں و کشمیر کے معزز وزیرِ اعلیٰ کے ایڈیشنل چیف سیکریٹری اور وزارتِ داخلہ، حکومتِ ہند، نئی دہلی کے جوائنٹ سیکریٹری (جموں و کشمیر) کو بھی ارسال کی گئی ہیں۔
۔۔۔۔۔۔ایجنسیاں









