کٹھمنڈو،4ستمبر (یو این آئی) نیپال میں امدادی ٹیمیں ایک ہفتے سے زائد عرصہ گزرنے کے بعد بھی پن بجلی کے ان مراکز میں پھنسے کارکنوں تک پہنچنے کے لیے دن رات کوششیں کر رہی ہیں، جہاں ہمالیہ میں آنے والے اچانک سیلاب نے پوری پوری آبادیوں کو تباہ کر دیا تھا۔
گزشتہ ہفتے چٹانوں، کیچڑ اور پانی کے ایک بڑے ریلے نے، جس کے بارے میں سائنس دانوں کا خیال ہے کہ یہ لنگ ٹانگ لیرونگ پہاڑ کی چوٹی کے قریب گلیشیئر کے ٹوٹنے کے نتیجے میں آیا، نیپال اور تبت میں دیہات، سڑکیں اور پل بہا دیے۔
حکام نے جمعرات کو بتایا کہ اس تباہی میں 1270 سے زیادہ افراد ہلاک جبکہ 4700 سے زائد افراد تاحال لاپتہ ہیں۔
نیپال کی نیشنل ڈیزاسٹر رسک ریڈکشن اینڈ مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی آر آر ایم اے) کے مطابق ملک میں اب تک 1252 لاشیں برآمد کی جا چکی ہیں، جبکہ لاپتا افراد کی تعداد 4216 ہے۔
چین کی سرحد کے قریب واقع ملک کے مختلف پن بجلی گھروں میں سیکڑوں کارکنوں کے پھنسے ہونے کا خدشہ ہے، جن میں بعض زیر زمین سرنگوں میں بھی موجود ہیں۔
پڑوسی علاقے تبت میں چینی حکام نے 21 افراد کی ہلاکت اور 541 افراد کے لاپتا ہونے کی اطلاع دی ہے۔
نیپالی فوج کے انجینئرنگ شعبے کے افسر سنجے کے سی نے راسووا ضلع میں ایک سرنگ کے داخلی راستے پر کھڑے ہو کر کہا، ’’ہمیں اب بھی امید ہے کہ اندر کچھ لوگ زندہ ہوں گے۔‘‘
راسوا ان علاقوں میں شامل ہے جو نیپال میں سیلاب سے سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔ بڑی بڑی مٹی کے تہوں کو ہٹانے کے لیے بلڈوزر کام کر رہے ہیں۔
سنجے کے سی نے الجزیرہ کو بتایا، ’’چونکہ اندر ایک بڑا پاور ہاؤس ہے، اس لیے وہ ایک بڑا کمرہ ہے اور ہمیں لگتا ہے کہ پورا پاور ہاؤس سیلاب میں نہیں ڈوبا ہوگا۔‘‘
لاپتہ افراد کے اہل خانہ ہر صبح اپنے پیاروں کی خبر ملنے کی امید میں جمع ہوتے ہیں۔ بہت سے خاندانوں کے لیے یہ انتظار انتہائی اذیت ناک بن چکا ہے۔
لاپتہ انجینئر کے بیٹے پرتیک رانا نے کہا، ’’میں ہر روز یہاں اپنے والد کو تلاش کرنے کی امید میں آتا ہوں۔ لیکن ہر روز سورج غروب ہونے کے وقت مجھے محسوس ہوتا ہے کہ میری امید ختم ہو رہی ہے۔۔۔ باپ ہر شخص کے لیے یکساں اہم ہوتا ہے، لیکن میرے لیے وہ میری زندگی کا ایک قیمتی حصہ تھے۔‘‘








