اتوار, ستمبر 6, 2026
  • ePaper
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
No Result
View All Result
Home اہم ترین

لداخ کا طویل عرصے سے زیرِ التوا ’ناؤٹر زمین‘ کا مسئلہ حل، ہزاروں کو ملکیتی حقوق ملنے کی راہ ہموار

لیفٹیننٹ گورنر وِنائی کمار سکسینہ نے۱۰؍ایکڑ تک اہل بنجر زمین کے ملکیتی حقوق دینے کے قواعد کی منظوری دے دی

Nida-i-Mashriq by Nida-i-Mashriq
2026-09-06
in اہم ترین, تازہ تریں, ٹاپ سٹوری
A A
لہیہ میںفوجی ٹینک دریا کے بہاؤ میں بہہ گئی ‘۵ فوجی اہلکار ہلاک
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail

سری نگر/۴ستمبر

                لداخ کے لیفٹیننٹ گورنر وِنائی کمار سکسینہ نے جمعہ کو ’ناؤٹر زمین‘ (Nautor Lands) کو باقاعدہ بنانے کے قواعد کی منظوری دے دی، جس سے اہل بنجر زمین پر ملکیتی حقوق دینے کی راہ ہموار ہوگئی ہے۔ اس اقدام سے مرکز کے زیرِ انتظام خطے میں ہزاروں زمین داروں کو درپیش طویل عرصے سے زیرِ التوا مسئلہ حل ہونے کی توقع ہے۔

                ناؤٹر زمین سے مراد ایسی بنجر یا غیر آباد سرکاری زمین ہے جو ماضی میں کاشت کاری یا دیگر پیداواری مقاصد کے لیے افراد کو الاٹ کی گئی تھی۔ سرکاری ریونیو ریکارڈ کے مطابق لداخ میں اس وقت۶۰ ہزار ایکڑ سے زائد اراضی ناؤٹر ہولڈنگز کے طور پر درج ہے۔

متعلقہ

انٹرنزکی زبانی یقین دہانی مسترد‘ہڑتال جاری

گوریول ریوائن کے تحفظ کے لیے چیف سیکریٹری سے فوری مداخلت کی اپیل

                ایک سرکاری ترجمان کے مطابق لداخ آٹانومس ہِل ڈیولپمنٹ کونسلز (ناوتر ریگولرائزیشن) رولز‘۲۰۲۶ کے تحت لداخ کے تمام سات اضلاع میں اہل ناؤٹر زمین کے قابضین کو۱۰؍ ایکڑ تک ملکیتی حقوق دینے کا جامع طریقۂ کار وضع کیا گیا ہے۔۱۰؍ ایکڑ سے زائد ناؤٹر زمین کو قواعد کے مطابق لیز ہولڈ بنیادوں پر الاٹ کیا جاسکے گا۔

                ترجمان نے بتایا کہ نئے قواعد کے تحت۲۷ اکتوبر۲۰۲۰ سے قبل زیرِ قبضہ ناوتر زمین کو ایک مرتبہ باقاعدہ بنانے کا طریقہ کار متعارف کرایا گیا ہے۔ یہ وہ تاریخ ہے جب جموں و کشمیر ٹیننسی ایکٹ۱۹۸۰ منسوخ کیا گیا تھا۔ مقررہ تاریخ کے بعد زمین پر قائم کیا گیا قبضہ ریگولرائزیشن کا اہل نہیں ہوگا۔

                نئے فریم ورک کے تحت لداخ کے تمام سات اضلاع میں ناوتر زمین کی الاٹمنٹ کا اختیار لداخ آٹونومس ہِل ڈیولپمنٹ کونسلز کو دیا گیا ہے۔

                قواعد میں کہا گیا ہے کہ لداخ آٹونومس ہِل ڈیولپمنٹ کونسلز ایکٹ۱۹۹۷ کی دفعہ۴۲ کے تحت ضلع کے اندر موجود زمین کونسل کو منتقل ہوچکی ہے، جبکہ دفعہ۲۳ کی شق(آئی) کونسل کو اس کے پاس موجود زمین کی الاٹمنٹ، استعمال اور قبضے سے متعلق انتظامی اختیارات فراہم کرتی ہے۔

                لیفٹیننٹ گورنر وِنائی کمار سکسینہ نے کہا کہ قواعد کا مقصد حقیقی ناؤٹر زمین داروں کے جائز مفادات کے تحفظ اور سرکاری و کونسل کی زمین کو تجاوزات اور غیر مجاز دعوؤں سے محفوظ رکھنے کے درمیان توازن قائم کرنا ہے۔

                انہوں نے کہا، ’’ناؤٹر زمین کا مسئلہ لداخ کے عوام کی زندگی اور روزگار سے گہرا تاریخی تعلق رکھتا ہے۔ نسل در نسل ہمارے لوگوں نے ملک کے مشکل ترین زرعی ماحول میں بنجر اور غیر آباد زمین کو قابلِ کاشت بنانے کے لیے سخت محنت کی ہے۔‘‘

                سکسینہ نے کہا کہ نئے قواعد اس طویل عرصے سے زیرِ التوا مسئلے کے حل کے لیے شفاف اور یکساں طریقہ کار فراہم کریں گے اور حقیقی حق داروں کو قانونی تحفظ دیں گے۔ اس کے علاوہ وہ ایسی زمین کو مالی اثاثے کے طور پر استعمال کرنے، بشمول بینک قرض حاصل کرنے، کے قابل بھی بنائیں گے۔

                ترجمان کے مطابق واضح اور یکساں قانونی فریم ورک نہ ہونے کے باعث ناؤٹر زمین کا مؤثر استعمال محدود تھا، خصوصاً ایسے قابضین کے لیے جن کے پاس ملکیتی حقوق موجود نہیں تھے اور وہ اپنی زمین کو مالی اثاثے کے طور پر استعمال کرتے ہوئے قرض حاصل کرنے سے قاصر تھے۔

                نئے قواعد کا مقصد سرکاری اور کونسل کی زمین پر تنازعات اور غیر مجاز دعوؤں کی روک تھام بھی ہے۔

                قواعد کے تحت حقیقی طور پر اہل ناوتر زمین کے قابضین کو۱۰؍ایکڑ تک ملکیتی حقوق دیے جاسکتے ہیں، جبکہ اس کے لیے قابلِ ادائیگی رقم متعلقہ ریونیو گاؤں کے لیے انتظامیہ کی جانب سے مقرر کردہ مارکیٹ ریٹ کے مطابق ہوگی۔

                ۱۰؍ایکر سے زائد ناوتر اراضی کے لیے ملکیتی حقوق لیز ہولڈ بنیادوں پر دیے جاسکتے ہیں، جس کے لیے پریمیم مقررہ مارکیٹ ریٹ کا۸۰ فیصد ہوگا۔

                ’غیر مستقل زمین کے معاملے میں ریونیو حکام کی جانب سے فیلڈ تصدیق لازمی ہوگی۔ اس کے ذریعے قابض کی شناخت، زیرِ قبضہ رقبہ، کاشت کی نوعیت اور وسعت، قبضے کی تاریخ اور یہ بات طے کی جائے گی کہ قبضہ مقررہ کٹ آف تاریخ سے قبل موجود تھا یا نہیں۔

                غیر مستقل زمین سے مراد ایسی اراضی ہے جس کے قابض یا کاشت کار کو مستقل یعنی ’مستقل حق دار کے برابر مستقل ملکیتی حیثیت حاصل نہ ہو۔مستقل زمین کے معاملات میں متعلقہ لداخ اٹانومس ہل ڈولپمنٹ کونسل زمینی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ فیصلہ کرے گی کہ فیلڈ تصدیق ضروری ہے یا نہیں۔قواعد کے مطابق ترک کی گئی یا تجاوزات کے ذریعے قبضے میں لی گئی زمین الاٹمنٹ کی اہل نہیں ہوگی اور ایسی زمین سے قابضین کو بے دخل کیا جاسکے گا۔

                ۲۷؍اکتوبر۲۰۲۰سے قبل میوٹیشن کی گئی ناوتر زمین، جس کے استعمال میں تبدیلی واقع ہوئی ہو، کو بھی ریگولرائزیشن کے لیے زیرِ غور لایا جاسکتا ہے، تاہم اس کے لیے مجاز اتھارٹی سے لینڈ یوز کی تبدیلی کی باضابطہ منظوری ضروری ہوگی۔

                قواعد کے تحت ریگولرائز کی گئی زمین کو شیڈولڈ بینکوں، مالیاتی اداروں اور حکومت کی پشت پناہی رکھنے والی قرض فراہم کرنے والی ایجنسیوں کے پاس زمین کی ترقی کے لیے رہن رکھا جاسکے گا۔میونسپل علاقوں، پلاننگ ایریاز اور ماسٹر پلان، زونل پلان یا ڈیولپمنٹ اتھارٹیز کے دائرے میں آنے والے علاقوں میں زمین کا استعمال متعلقہ منصوبہ بندی کے قواعد کے عین مطابق کرنا ہوگا۔

                قواعد میں الاٹمنٹ اور ریگولرائزیشن کا وقتاً فوقتاً جائزہ اور آڈٹ کرنے کی بھی گنجائش رکھی گئی ہے۔ کسی خلاف ورزی، غلط بیانی، حقائق چھپانے، زمین کا استعمال نہ کرنے، غیر مجاز منتقلی یا مقررہ شرائط کی خلاف ورزی کی صورت میں زمین کی الاٹمنٹ منسوخ یا واپس لی جاسکتی ہے۔

                ترجمان نے بتایا کہ حتمی نوٹیفکیشن جاری کرنے سے قبل نئے قواعد کو دو ہفتوں کی عوامی مشاورت کے لیے منظرِ عام پر لایا جائے گا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔(ویب ڈیسک)

ShareTweetSendShareSend
Previous Post

بڈگام کے بالائی حصے میں فورسز کے ساتھ جھڑپ‘دہشت گرد ہلاک

Next Post

گوریول ریوائن کے تحفظ کے لیے چیف سیکریٹری سے فوری مداخلت کی اپیل

Nida-i-Mashriq

Nida-i-Mashriq

Related Posts

انٹرنزکی زبانی یقین دہانی مسترد‘ہڑتال جاری
اہم ترین

انٹرنزکی زبانی یقین دہانی مسترد‘ہڑتال جاری

2026-09-06
گوریول ریوائن کے تحفظ کے لیے چیف سیکریٹری سے فوری مداخلت کی اپیل
اہم ترین

گوریول ریوائن کے تحفظ کے لیے چیف سیکریٹری سے فوری مداخلت کی اپیل

2026-09-06
ادھم پور میں انکاونٹر شروع، گولیوں کا تبادلہ ‘کشتواڑ کے چھاترو میں آپریشن جاری
اہم ترین

بڈگام کے بالائی حصے میں فورسز کے ساتھ جھڑپ‘دہشت گرد ہلاک

2026-09-06
جے جے ایم:۱۰۲ نئی اسکیمیں منظور۔۔اسکیمیںیوٹی کے۵۱ہزار دیہی گھرانوں کا احاطہ کریں گی
اہم ترین

’جموں و کشمیر میں جے جے ایم کے صرف۴۶فیصد کام مکمل‘

2026-09-06
’کشمیر میں انسداد دہشت گردی کی کارروائیاں اولین ترجیح برقرار رہیں گی‘
اہم ترین

آئی جی پی کشمیر کابین  الاقوامی فلم فیسٹیول کیلئے سکیورٹی انتظامات کا جائزہ

2026-09-06
جموں و کشمیر کی ترقی کیلئےاسٹارٹ اپ کلچر پر توجہ ضروری:ایل جی سنہا
اہم ترین

لیفٹیننٹ گورنر کی یومِ اساتذہ پر اساتذہ کو مبارکباد

2026-09-06
وادی میں بھی جنم اشٹمی کا تہوار تزک و احتشام سے منایا گیا
اہم ترین

سری نگر میں کشمیری پنڈتوں نے مذہبی جوش و خروش سے جنم اشٹمی منائی

2026-09-06
وزیر اعلیٰ کا جموں میں جے کے ای۔پاتھ شالا ٹیلی ایجوکیشن چینل کا افتتاح
اہم ترین

وزیراعلیٰ کی امیت شاہ سے ملاقات‘ریاستی درجے کی بحال پر بات

2026-09-06
Next Post
گوریول ریوائن کے تحفظ کے لیے چیف سیکریٹری سے فوری مداخلت کی اپیل

گوریول ریوائن کے تحفظ کے لیے چیف سیکریٹری سے فوری مداخلت کی اپیل

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

I agree to the Terms & Conditions and Privacy Policy.

  • ePaper

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

No Result
View All Result
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

This website uses cookies. By continuing to use this website you are giving consent to cookies being used. Visit our Privacy and Cookie Policy.