سری نگر/۴ستمبر
لداخ کے لیفٹیننٹ گورنر وِنائی کمار سکسینہ نے جمعہ کو ’ناؤٹر زمین‘ (Nautor Lands) کو باقاعدہ بنانے کے قواعد کی منظوری دے دی، جس سے اہل بنجر زمین پر ملکیتی حقوق دینے کی راہ ہموار ہوگئی ہے۔ اس اقدام سے مرکز کے زیرِ انتظام خطے میں ہزاروں زمین داروں کو درپیش طویل عرصے سے زیرِ التوا مسئلہ حل ہونے کی توقع ہے۔
ناؤٹر زمین سے مراد ایسی بنجر یا غیر آباد سرکاری زمین ہے جو ماضی میں کاشت کاری یا دیگر پیداواری مقاصد کے لیے افراد کو الاٹ کی گئی تھی۔ سرکاری ریونیو ریکارڈ کے مطابق لداخ میں اس وقت۶۰ ہزار ایکڑ سے زائد اراضی ناؤٹر ہولڈنگز کے طور پر درج ہے۔
ایک سرکاری ترجمان کے مطابق لداخ آٹانومس ہِل ڈیولپمنٹ کونسلز (ناوتر ریگولرائزیشن) رولز‘۲۰۲۶ کے تحت لداخ کے تمام سات اضلاع میں اہل ناؤٹر زمین کے قابضین کو۱۰؍ ایکڑ تک ملکیتی حقوق دینے کا جامع طریقۂ کار وضع کیا گیا ہے۔۱۰؍ ایکڑ سے زائد ناؤٹر زمین کو قواعد کے مطابق لیز ہولڈ بنیادوں پر الاٹ کیا جاسکے گا۔
ترجمان نے بتایا کہ نئے قواعد کے تحت۲۷ اکتوبر۲۰۲۰ سے قبل زیرِ قبضہ ناوتر زمین کو ایک مرتبہ باقاعدہ بنانے کا طریقہ کار متعارف کرایا گیا ہے۔ یہ وہ تاریخ ہے جب جموں و کشمیر ٹیننسی ایکٹ۱۹۸۰ منسوخ کیا گیا تھا۔ مقررہ تاریخ کے بعد زمین پر قائم کیا گیا قبضہ ریگولرائزیشن کا اہل نہیں ہوگا۔
نئے فریم ورک کے تحت لداخ کے تمام سات اضلاع میں ناوتر زمین کی الاٹمنٹ کا اختیار لداخ آٹونومس ہِل ڈیولپمنٹ کونسلز کو دیا گیا ہے۔
قواعد میں کہا گیا ہے کہ لداخ آٹونومس ہِل ڈیولپمنٹ کونسلز ایکٹ۱۹۹۷ کی دفعہ۴۲ کے تحت ضلع کے اندر موجود زمین کونسل کو منتقل ہوچکی ہے، جبکہ دفعہ۲۳ کی شق(آئی) کونسل کو اس کے پاس موجود زمین کی الاٹمنٹ، استعمال اور قبضے سے متعلق انتظامی اختیارات فراہم کرتی ہے۔
لیفٹیننٹ گورنر وِنائی کمار سکسینہ نے کہا کہ قواعد کا مقصد حقیقی ناؤٹر زمین داروں کے جائز مفادات کے تحفظ اور سرکاری و کونسل کی زمین کو تجاوزات اور غیر مجاز دعوؤں سے محفوظ رکھنے کے درمیان توازن قائم کرنا ہے۔
انہوں نے کہا، ’’ناؤٹر زمین کا مسئلہ لداخ کے عوام کی زندگی اور روزگار سے گہرا تاریخی تعلق رکھتا ہے۔ نسل در نسل ہمارے لوگوں نے ملک کے مشکل ترین زرعی ماحول میں بنجر اور غیر آباد زمین کو قابلِ کاشت بنانے کے لیے سخت محنت کی ہے۔‘‘
سکسینہ نے کہا کہ نئے قواعد اس طویل عرصے سے زیرِ التوا مسئلے کے حل کے لیے شفاف اور یکساں طریقہ کار فراہم کریں گے اور حقیقی حق داروں کو قانونی تحفظ دیں گے۔ اس کے علاوہ وہ ایسی زمین کو مالی اثاثے کے طور پر استعمال کرنے، بشمول بینک قرض حاصل کرنے، کے قابل بھی بنائیں گے۔
ترجمان کے مطابق واضح اور یکساں قانونی فریم ورک نہ ہونے کے باعث ناؤٹر زمین کا مؤثر استعمال محدود تھا، خصوصاً ایسے قابضین کے لیے جن کے پاس ملکیتی حقوق موجود نہیں تھے اور وہ اپنی زمین کو مالی اثاثے کے طور پر استعمال کرتے ہوئے قرض حاصل کرنے سے قاصر تھے۔
نئے قواعد کا مقصد سرکاری اور کونسل کی زمین پر تنازعات اور غیر مجاز دعوؤں کی روک تھام بھی ہے۔
قواعد کے تحت حقیقی طور پر اہل ناوتر زمین کے قابضین کو۱۰؍ایکڑ تک ملکیتی حقوق دیے جاسکتے ہیں، جبکہ اس کے لیے قابلِ ادائیگی رقم متعلقہ ریونیو گاؤں کے لیے انتظامیہ کی جانب سے مقرر کردہ مارکیٹ ریٹ کے مطابق ہوگی۔
۱۰؍ایکر سے زائد ناوتر اراضی کے لیے ملکیتی حقوق لیز ہولڈ بنیادوں پر دیے جاسکتے ہیں، جس کے لیے پریمیم مقررہ مارکیٹ ریٹ کا۸۰ فیصد ہوگا۔
’غیر مستقل زمین کے معاملے میں ریونیو حکام کی جانب سے فیلڈ تصدیق لازمی ہوگی۔ اس کے ذریعے قابض کی شناخت، زیرِ قبضہ رقبہ، کاشت کی نوعیت اور وسعت، قبضے کی تاریخ اور یہ بات طے کی جائے گی کہ قبضہ مقررہ کٹ آف تاریخ سے قبل موجود تھا یا نہیں۔
غیر مستقل زمین سے مراد ایسی اراضی ہے جس کے قابض یا کاشت کار کو مستقل یعنی ’مستقل حق دار کے برابر مستقل ملکیتی حیثیت حاصل نہ ہو۔مستقل زمین کے معاملات میں متعلقہ لداخ اٹانومس ہل ڈولپمنٹ کونسل زمینی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ فیصلہ کرے گی کہ فیلڈ تصدیق ضروری ہے یا نہیں۔قواعد کے مطابق ترک کی گئی یا تجاوزات کے ذریعے قبضے میں لی گئی زمین الاٹمنٹ کی اہل نہیں ہوگی اور ایسی زمین سے قابضین کو بے دخل کیا جاسکے گا۔
۲۷؍اکتوبر۲۰۲۰سے قبل میوٹیشن کی گئی ناوتر زمین، جس کے استعمال میں تبدیلی واقع ہوئی ہو، کو بھی ریگولرائزیشن کے لیے زیرِ غور لایا جاسکتا ہے، تاہم اس کے لیے مجاز اتھارٹی سے لینڈ یوز کی تبدیلی کی باضابطہ منظوری ضروری ہوگی۔
قواعد کے تحت ریگولرائز کی گئی زمین کو شیڈولڈ بینکوں، مالیاتی اداروں اور حکومت کی پشت پناہی رکھنے والی قرض فراہم کرنے والی ایجنسیوں کے پاس زمین کی ترقی کے لیے رہن رکھا جاسکے گا۔میونسپل علاقوں، پلاننگ ایریاز اور ماسٹر پلان، زونل پلان یا ڈیولپمنٹ اتھارٹیز کے دائرے میں آنے والے علاقوں میں زمین کا استعمال متعلقہ منصوبہ بندی کے قواعد کے عین مطابق کرنا ہوگا۔
قواعد میں الاٹمنٹ اور ریگولرائزیشن کا وقتاً فوقتاً جائزہ اور آڈٹ کرنے کی بھی گنجائش رکھی گئی ہے۔ کسی خلاف ورزی، غلط بیانی، حقائق چھپانے، زمین کا استعمال نہ کرنے، غیر مجاز منتقلی یا مقررہ شرائط کی خلاف ورزی کی صورت میں زمین کی الاٹمنٹ منسوخ یا واپس لی جاسکتی ہے۔
ترجمان نے بتایا کہ حتمی نوٹیفکیشن جاری کرنے سے قبل نئے قواعد کو دو ہفتوں کی عوامی مشاورت کے لیے منظرِ عام پر لایا جائے گا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔(ویب ڈیسک)










