سری نگر/۴ستمبر
کشمیری پنڈت برادری نے جمعہ کو بھگوان کرشن کے جنم دن کی مناسبت سے جنم اشٹمی مذہبی جوش و خروش اور عقیدت کے ساتھ منائی۔ اس موقع پر سری نگر شہر کے اہم علاقوں سے شوبھا یاترا نکالی گئی۔
شوبھا یاترا حبہ کدل، ریگل چوک اور لال چوک سمیت مختلف علاقوں سے گزرتی ہوئی واپس مرکزی مقام پر پہنچی۔ یاترا کے پُرامن انعقاد کو یقینی بنانے کے لیے سخت سکیورٹی انتظامات کیے گئے تھے۔
کشمیری پنڈت برادری کے ایک رہنما نے کہا کہ یہ تہوار کشمیری پنڈت برادری کے لیے خصوصی اہمیت رکھتا ہے اور اب یہ مختلف برادریوں کے لوگوں کو ایک دوسرے کے قریب آنے اور مل جل کر خوشیاں منانے کا موقع بھی فراہم کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس موقع پر دوست، رشتہ دار اور اکثریتی برادری سے تعلق رکھنے والے افراد بھی بڑی تعداد میں اکٹھے ہوتے ہیں۔
انہوں نے کہا، ’’ہمارے دوست اور رشتہ دار یہاں ملتے ہیں، بالخصوص اکثریتی برادری سے تعلق رکھنے والے لوگ۔ وہ اس تہوار کا ہم سے بھی زیادہ انتظار کرتے ہیں کیونکہ شوبھا یاترا کے موقع پر ہم سب ایک ساتھ جمع ہوتے ہیں۔‘‘
جنم اشٹمی کی تقریبات کی تاریخ کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ۱۹۹۰ کی دہائی سے قبل بھی سری نگر میں یہ تہوار منایا جاتا تھا، تاہم وادی کے حالات خراب ہونے کے بعد یہ روایت متاثر ہوئی۔
انہوں نے کہا، ’’یہ تہوار۱۹۹۰ کی دہائی سے قبل بھی منایا جاتا تھا۔ جب۱۹۹۰کی دہائی میں حالات خراب ہوئے تو ہم نے۲۰۰۷ میں اسے دوبارہ شروع کیا۔۲۰۰۷ سے ہم مسلسل یہ تہوار منا رہے ہیں۔‘‘
تقریبات میں کشمیری پنڈت برادری کے ساتھ ساتھ دیگر برادریوں سے تعلق رکھنے والے افراد نے بھی شرکت کی۔ اس موقع پر کئی کم عمر بچے روایتی کشمیری لباس زیب تن کیے اور بھگوان کرشن کی چھوٹی چھوٹی مورتیاں اٹھائے نظر آئے۔
۔۔۔۔۔۔۔ایجنسیاں










