بماکو، 29 اگست (یو این آئی) سکیورٹی ذرائع کے مطابق تواریگ باغیوں نے اپنے ایک رہنما کے بدلے تقریباً 60 مالی فوجیوں کو رہا کردیا ہے۔
رہا کیے جانے والے تواریگ رہنما کا نام انکینانے اگ اٹاہر ہے، جو مالی فوج کا سابق افسر تھا اور بعد میں منحرف ہوکر باغیوں میں شامل ہوگیا تھا۔
اگ اٹاہر تواریگ قیادت والے ازواد لبریشن فرنٹ (ایف ایل اے) کی ایک اہم شخصیت تھا۔ اسے 2025 میں نائجر کی سکیورٹی فورسز نے نائجر اور نائیجیریا کی سرحد کے قریب گرفتار کیا تھا۔ اس پر ڈرونز کی تربیت کا انتظام کرنے، مالی میں مہلک حملوں میں رابطہ کاری اور بین الاقوامی رابطہ کار کے طور پر کام کرنے کے الزامات عائد کیے گئے تھے۔
مالی کے ایک سکیورٹی ذریعے نے اے ایف پی کو بتایا، ’’تقریباً 60 فوجیوں کو جمعرات کے روز نائجر منتقل کیا گیا تاکہ ان کے بدلے انکینانے اگ اٹاہر اور ان افراد کو رہا کیا جاسکے جن کے بارے میں الزام ہے کہ وہ القاعدہ سے وابستہ گروپ جماعت نصرت الاسلام والمسلمین (JNIM) سے منسلک ہیں۔‘‘
ایک دوسرے سکیورٹی ذریعے کے مطابق اس معاہدے کی نگرانی نائجر کی حکومت نے براہ راست کی۔
ایف ایل اے کے ترجمان محمد المولود رمضان نے فیس بک پر اگ اٹاہر کی رہائی کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے ’’جدوجہد جاری رکھنے کے لیے حوصلے، طاقت اور سکون‘‘ کی دعائیں دیں۔
یہ پیش رفت شمالی مالی میں القاعدہ سے وابستہ جنگجوؤں اور تواریگ باغیوں، جن میں روسی کرائے کے فوجی بھی شامل ہیں، کے ہاتھوں یرغمال بنائے گئے قیدیوں کی رہائی کے سلسلے کی تازہ کڑی ہے۔ تواریگ باغیوں نے کہا ہے کہ مالی کی جیلوں میں قید ان کے کچھ ساتھیوں کو بھی رہا کردیا گیا ہے۔
مالی کے ذرائع نے الجزیرہ کو بتایا کہ الجزائر اپنے فوجیوں کی رہائی کے لیے ثالثی میں مدد فراہم کر رہا ہے۔
پیر کے روز مالی کے وزیراعظم جنرل عبداللہ مائیگا نے الجزائر کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے علاقائی سلامتی کے معاملات پر اختلافات کے باعث دونوں حکومتوں کے درمیان پیدا ہونے والی کشیدگی کے بعد اعلیٰ سطحی مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کی کوشش کی۔
باماکو نے عوامی طور پر ان گروہوں کے ساتھ مذاکرات کو مسترد کیا ہے جنہیں وہ ’’دہشت گرد‘‘ قرار دیتا ہے، تاہم قیدیوں کی رہائی سے ظاہر ہوتا ہے کہ لڑائی جاری رہنے کے باوجود فریقین کے درمیان رابطے کے ذرائع اب بھی موجود ہیں۔
JNIM اور ایف ایل اے نے 25 اپریل کو باماکو کے ہوائی اڈے اور کئی دیگر مقامات پر ہونے والے حملوں کی ذمہ داری قبول کی تھی۔ اسی روز وزیر دفاع سادیو کامارا کاتی میں اپنی رہائش گاہ پر بم دھماکے میں ہلاک ہوگئے تھے۔
دونوں گروہوں نے 4 جولائی کو مالی بھر میں فوجی ٹھکانوں پر ہونے والے حملوں کی ذمہ داری بھی قبول کی تھی۔
مالی کی مسلح افواج کے چیف آف جنرل اسٹاف الیسی ژاں ڈاؤ نے مالی فوج کے خلاف لڑنے والوں کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ فوج ان کا تعاقب جاری رکھے گی۔
انہوں نے کہا، ’’دشمن جہاں بھی ہوگا، ہم اس کا تعاقب کریں گے اور اسے شکست دیں گے، یہاں تک کہ وہ ہتھیار ڈال دے۔ جہاں تک مالی کے شہریوں کا تعلق ہے، ہمارے ملک میں ایک ایسا امن عمل موجود ہے جو انہیں واپس آنے کا موقع دیتا ہے۔ میں ایک بار پھر ان سے اپیل کرتا ہوں کہ ابھی دیر نہیں ہوئی، دروازہ اب بھی کھلا ہے۔‘‘
الجزیرہ کے نمائندے نکولس ہاک کے مطابق مالی کی سرحدوں سے باہر اور پورے ساحل خطے میں بھی لڑائی جاری ہے، تاہم قیدیوں کی رہائی اور الجزائر کی ثالثی سے مزید فوجیوں کی رہائی کی راہ ہموار ہوسکتی ہے۔
مالی میں 2012 سے خانہ جنگی جاری ہے۔ اس وقت شمالی علاقوں میں تواریگ علیحدگی پسندوں کی بغاوت کے بعد القاعدہ اور داعش سے منسلک مسلح گروہوں نے بھی اپنی کارروائیاں شروع کردی تھیں۔
2021 کی فوجی بغاوت کے بعد سے ملک پر فوج کی حکومت ہے، جس نے امن و امان بحال کرنے اور ملک کو متحد کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔
مالی کے فوجی حکمرانوں کی جانب سے فرانسیسی افواج اور تقریباً 15 ہزار اقوام متحدہ کے امن فوجیوں کو ملک سے نکالے جانے اور دفاعی مدد کے لیے روسی نیم فوجی دستوں پر انحصار شروع کرنے کے بعد JNIM مزید طاقتور ہوا ہے۔
اگرچہ ایف ایل اے خود کو ایک سیکولر قوم پرست تحریک کے طور پر پیش کرتا ہے جو مالی کے ازواد خطے کی آزادی کا مطالبہ کرتا ہے، جبکہ JNIM القاعدہ سے وابستہ تنظیم ہے، تاہم مالی حکومت کے خلاف متحد ہونے کے لیے دونوں گروہوں نے اپنے نظریاتی اختلافات کو پسِ پشت ڈال دیا ہے۔





