جکارتہ، 29اگست (یواین آئی) انڈونیشیا کے دارالحکومت جکارتہ میں پارلیمنٹ کے سامنے جاری احتجاج جمعہ کو دوسرے روز میں داخل ہوگیا۔ مظاہرین اثاثوں کی ضبطی سے متعلق بل کو جلد منظور کرنے اور بدعنوان عناصر کے خلاف سخت سزاؤں کا مطالبہ کرتے ہوئے بڑے پیمانے پر احتجاج کر رہے ہیں۔مقامی میڈیا رپورٹس میں یہ اطلاع دی گئی ہے۔
’جکارتہ پوسٹ‘ کے مطابق نامعلوم شرپسندوں نے پارلیمنٹ کے احاطے میں زبردستی داخل ہونے کی کوشش کی اور کچرے کو آگ لگا دی۔ ہجوم کو قابو میں کرنے کے لیے پولیس نے پانی کی تیز دھار اور آنسو گیس کا استعمال کیا، تاہم اس کے باوجود تشدد پیجومپونگن اور سلیپی کے علاقوں تک پھیل گیا۔
اس تحریک میں سوشل میڈیا کے ذریعے متحرک ہونے اور سڑکوں پر احتجاج کی قیادت کرنے میں نوجوانوں، یونیورسٹی طلبہ اور ’جن زی‘ کا اہم کردار رہا ہے، تاہم معاشرے کے دیگر طبقات کے افراد بھی اس احتجاج میں شامل ہوئے۔
جمعہ کی صبح مظاہرہ پرامن انداز میں شروع ہوا، جس میں وسطی جاوا کے پاتی علاقے کے رہائشیوں اور ’یونائیٹڈ پاتی پیپلز الائنس‘ کے کارکنوں سمیت سیکڑوں طلبہ نے شرکت کی۔ مظاہرین کا بنیادی مطالبہ کئی برس سے زیر التوا ’ایسٹ فارفیچر بل‘ کو فوری طور پر منظور کرنا ہے، تاکہ حکومت بدعنوان سرکاری اہلکاروں کے غیر قانونی اثاثے ضبط کرسکے۔ اس کے علاوہ نوجوانوں نے بڑھتی ہوئی مہنگائی، روزگار کے کم ہوتے مواقع اور ناکام سرکاری پالیسیوں کے خلاف بھی آواز اٹھائی۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے ذریعے متحد ہونے والے طلبہ اور نوجوانوں نے پارلیمنٹ کے باہر زوردار نعرے بازی کی۔
اس سے قبل جمعرات کی شام ارکان پارلیمنٹ کی جانب سے رواں سال دسمبر تک بل منظور کرنے کی یقین دہانی کرائے جانے کے بعد الائنس سے وابستہ شہری گروپ وہاں سے چلے گئے، تاہم شام ہوتے ہی نوجوان طلبہ اور دیگر گروپوں کا احتجاج پرتشدد ہوگیا۔ رات بھر جاری رہنے والے تشدد کے دوران سلیپی پولیس سب سیکٹر چوکی اور قریب کھڑی دو موٹر سائیکلوں کو آگ لگا دی گئی۔ عینی شاہدین کے مطابق بانس، لاٹھیوں اور پتھروں سے لیس شرپسندوں نے پولیس پر پتھراؤ کیا، جس کے باعث پولیس اہلکاروں کو پیچھے ہٹنا پڑا۔
جمعہ کی صبح تک جاری رہنے والے اس ہنگامے کے باعث پالمرہ-تاناہ ابانگ ریلوے پٹریوں کے اطراف سکیورٹی کی صورتحال کے پیش نظر مسافر ٹرین سروس بھی معطل کرنا پڑی، جس سے عوامی آمدورفت بری طرح متاثر ہوئی۔ جمعہ کو کافی کوششوں کے بعد مرکزی سڑکوں سے رکاوٹیں ہٹا کر ٹریفک بحال کی جاسکی۔
یہ پرتشدد احتجاج ٹھیک ایک سال قبل ملک بھر میں ہونے والے پرتشدد مظاہروں کی برسی کے موقع پر سامنے آیا ہے





