سری نگر؍۲۸؍اگست
عقیدت کا ایک سمندر جمعہ کے روز درگاہ حضرت بل میں امڈ آیا، جہاں ہزاروں عقیدت مندوں نے عید میلاد النبیؐ کے موقع پر درگاہِ پر نمازِ جماعت میں شرکت کی۔
عید میلاد النبیؐ کے بعد کئ جمعہ پرڈل جھیل کے کنارے واقع درگاہ حضرت بل میں کشمیر کے مختلف علاقوں سے عقیدت مندوں کی آمد کا سلسلہ جاری رہا، جنہوں نے درود و اذکار کی گونج کے درمیان نمازِ جماعت اور مذہبی اجتماعات میں شرکت کی۔
درگاہ میں حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ سے منسوب مقدس تبرک کی زیارت کرائی گئی، جس کے باعث عقیدت مندوں کی بڑی تعداد نے وہاں حاضری دی، نمازیں ادا کیں اور برکتیں حاصل کرنے کی دعائیں کیں۔
حضرت بل اور اس کے آس پاس کا ماحول گہری روحانی کیفیت سے معمور رہا، جبکہ عقیدت مند درگاہ کے احاطے اور ملحقہ علاقوں میں بڑی تعداد میں موجود رہے۔ اس دوران مذہبی علما اور واعظین نے پیغمبر اسلام ؐکی حیاتِ مبارکہ، تعلیمات اور پیغام پر روشنی ڈالی اور امن، رحم و شفقت، اخوت اور باہمی احترام پر زور دیا۔
نیشنل کانفرنس کے صدر اور سابق وزیر اعلیٰ ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے بھی ہزاروں عقیدت مندوں کے ہمراہ حضرت بل میں نمازِ جماعت میں شرکت کی۔ سری نگر اور وادی کے دیگر علاقوں کی مساجد اور زیارت گاہوں میں بھی متعدد میلاد کی محافل، نمازیں اور مذہبی پروگرام منعقد ہوئے، جن میں مردوں، خواتین اور بچوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔
سری نگر کے صورہ علاقے سے تعلق رکھنے والے ایک عقیدت مند منظور احمد نے کہا کہ حضرت بل ہمیشہ سے ان کے لیے ایمان اور سکون کی جگہ رہا ہے۔ انہوں نے کہا، ’’اس بابرکت موقع پر یہاں آنا ہمیں روحانی وابستگی اور باہمی یکجہتی کا احساس دلاتا ہے۔‘‘
حبہ کدل، سری نگر کے ایک اور عقیدت مند شفیق احمد نے کہا کہ اس اجتماع نے کشمیر بھر کے لوگوں کے گہرے ایمان کی عکاسی کی۔ انہوں نے کہا، ’’ماحول پُرامن اور روحانی ہے۔ لوگ مختلف علاقوں سے نبی کریم ؐکو یاد کرنے اور برکتیں حاصل کرنے کے لیے یہاں آئے ہیں۔‘‘
بانڈی پورہ، بارہمولہ، کپواڑہ، پلوامہ، شوپیاں، کولگام اور اننت ناگ سمیت دیگر اضلاع سے بھی اجتماعات کی اطلاعات موصول ہوئیں، جہاں عقیدت مندوں نے نمازوں اور میلاد کی محافل میں شرکت کی۔ سری نگر کے متعدد علاقوں، جن میں شہرِ قدیم کے بعض حصے اور اپ ٹاؤن بھی شامل ہیں، میں بھی لوگوں نے اس موقع کی مناسبت سے مذہبی اجتماعات اور جلوسوں کا اہتمام کیا۔
آئی جی پی کشمیر زون سوجیت کمار نے حضرت بل اور دیگر اہم مقامات پر حفاظتی انتظامات کا جائزہ لیا۔ پولیس اور دیگر سکیورٹی اہلکاروں کی تعیناتی عمل میں لائی گئی تھی تاکہ عقیدت مندوں کی آمدورفت کو ہموار اور پُرامن بنایا جاسکے۔
ضلعی انتظامیہ نے بھی اجتماع کے لیے انتظامات کیے تھے، جن میں درگاہ کے قریب طبی سہولیات کی فراہمی شامل تھی، جبکہ ٹریفک پولیس نے حضرت بل اور اس کے آس پاس گاڑیوں کی آمدورفت کو منظم کرنے کے لیے روٹ پلان اور ٹریفک ڈائیورژن نافذ کیے۔
بہت سے لوگوں کو حضرت بل کے باہر مشہور حلوہ پراٹھا سے لطف اندوز ہوتے ہوئے بھی دیکھا گیا، جس سے مقامی دکانداروں کے کاروبار کو بھی فروغ ملا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(ندائے مشرق ویب ڈسیک )










