سرینگر؍۲۸؍اگست
’’مرکزی زیرِ انتظام علاقہ (یو ٹی) لداخ وزیر اعظم نریندر مودی کے دل کے بہت قریب ہے اور اسے جلد ہی ایک غیر معمولی معاملے کے طور پر آئین کے آرٹیکل۳۷۱کے تحت خصوصی مراعات ملیں گی‘‘۔
ان باتوں کا اظہار مرکزی وزیر برائے پارلیمانی امور و اقلیتی امور کرن رجیجو نے آج لہہ میں کیا۔
وزیر موصوف لہہ ضلع کے شے علاقے میں واقع ڈرک پدما کارپو اسکول کی سلور جوبلی بانیانِ اسکول ڈے تقریب سے خطاب کر رہے تھے، جہاں وہ مہمانِ خصوصی تھے۔
رجیجو نے اپنے خطاب میں کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی ہمیشہ اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ لداخ جیسے خطوں پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے اور انہوں نے وزیر اعظم کا عہدہ سنبھالنے کے بعد سے ہی اس سمت میں کام کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم کے وژن کی بدولت لداخ کی ترقی کے منظرنامے میں معاشی اور سماجی دونوں محاذوں پر بے مثال تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں۔
رجیجو نے کہا کہ وزیر اعظم کی رہنمائی میں وزارتِ داخلہ لداخ کے مرکز کے زیرِ انتظام علاقے کے لیے خصوصی انتظامات فراہم کرنے کی سمت میں کام کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ خطے کے لیے وزیر اعظم کی خصوصی وابستگی اور دلچسپی ہی کی وجہ سے لداخ کے لیے ایسے خصوصی انتظامات پر غور کیا جا رہا ہے۔
مرکزی وزیر نے امید ظاہر کی کہ یہ انتظامات جلد عملی شکل اختیار کریں گے اور لداخ کے عوام ان سے فائدہ اٹھا سکیں گے۔ وزیر نے کہا کہ وزیر اعظم کافی عرصے سے لداخ کا دورہ کرکے یہاں کے لوگوں سے ملاقات اور اپنے خیالات کا تبادلہ کرنا چاہتے ہیں اور ممکن ہے کہ ان کی یہ خواہش بھی جلد پوری ہو جائے۔
مرکزی وزیر نے کہا کہ لداخ کے بارے میں لوگوں کے نقط نظر میں نمایاں تبدیلی آئی ہے اور آج کا منظرنامہ۲۵ سال پہلے کے مقابلے میں بالکل مختلف ہے۔ انہوں نے کہا کہ خاص طور پر گزشتہ۱۰ برسوں کے دوران خطے میں بڑے پیمانے پر ترقی ہوئی ہے۔ انہوں نے سڑکوں کے رابطے میں ہونے والی بہتری کا خصوصی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یو ٹی کے ایک حصے سے دوسرے حصے تک وہ سفر جس میں پہلے کئی دن لگتے تھے، اب چند گھنٹوں میں مکمل کیے جا سکتے ہیں۔
رجیجو نے کہا کہ لداخ میں حالیہ اقدامات، جن میں نئے اضلاع کا قیام بھی شامل ہے، عوام کے لیے انتہائی فائدہ مند ثابت ہوں گے اور لوگ محسوس کریں گے کہ یہ تبدیلیاں صرف ان کی فلاح و بہبود کے لیے لائی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مرکز کے زیرِ انتظام علاقے کا درجہ بھی لداخ کے عوام کا ایک دیرینہ مطالبہ تھا، جو اب پورا ہو چکا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ مستقبل قریب میں لداخ میں ہائی کورٹ کی ایک بنچ بھی قائم کی جائے گی، جس سے مقامی آبادی کو بڑی سہولت حاصل ہوگی۔
رجیجو نے کہا کہ وہ مرکزی وزراءکی کونسل میں کابینہ کے عہدے پر فائز ہونے والے پہلے بدھ مت پیروکار ہیں اور یہ سب وزیر اعظم نریندر مودی کی اقلیتوں کے لیے دیکھ بھال اور فکر کی وجہ سے ممکن ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں تمام اقلیتوں کو یکساں مواقع حاصل ہیں اور حکومت تمام اقلیتوں کی ترقی کے لیے پرعزم ہے، جبکہ اس مقصد کے حصول کے لیے بڑے پیمانے پر کام کیا جا رہا ہے۔
تقریب میں موجود طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے وزیر موصوف نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ اپنی جڑوں اور روایات سے جڑے رہیں اور بیرونی اثرات، خصوصاً انٹرنیٹ کے ذریعے آنے والے اثرات سے متاثر نہ ہوں۔ انہوں نے کہا کہ آن لائن رجحانات کی اندھی تقلید بعض اوقات منفی نتائج کا سبب بن سکتی ہے، جو تشدد اور امن و امان کی صورتحال کا باعث بن سکتے ہیں۔
اس موقع پر مرکز کے زیرِ انتظام علاقے کی انتظامیہ کے اعلیٰ افسران اور مذہبی و سول سوسائٹی کے فورموں سے وابستہ ممتاز شخصیات بھی موجود تھیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
(ندائے مشرق ویب ڈیسک)










