غزہ، 27 اگست (یو این آئی) غزہ امن کونسل کے اعلیٰ نمائندے نکولائے ملاڈینوف نے اعلان کیا ہے کہ فلسطینی مزاحمتی گروپ حماس اور غزہ میں موجود دیگر مسلح گروپ اپنے ہتھیار ڈالنے اور تمام شہری و سیکیورٹی اختیارات اقوام متحدہ کی تسلیم شدہ عبوری انتظامیہ کو منتقل کرنے پر راضی ہو گئے ہیں۔
کونسل کی جانب سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بدھ کے روز جاری کیے گئے ایک بیان کے مطابق، ملاڈینوف نے یہ بات امریکی حمایت یافتہ غزہ امن منصوبے کے نفاذ کے حوالے سے اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل کے بریفنگ اجلاس کے دوران کہی۔ ملاڈینوف نے کہا، "حماس اور غزہ کے مسلح گروپوں نے پہلی بار اپنے ہتھیار ڈالنے اور شہری و سیکیورٹی سمیت تمام انتظامی اختیارات اقوام متحدہ کی تسلیم شدہ عبوری انتظامیہ کو منتقل کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔”
انہوں نے دعویٰ کیا کہ یہ اقدام "غزہ میں فلسطینیوں کے حالاتِ زندگی کو مستقل اور نمایاں طور پر بہتر بنا سکتا ہے اور اسرائیلیوں کے لیے پائیدار سیکیورٹی فراہم کر سکتا ہے۔” جولائی کے آخر میں 15 نکاتی روڈ میپ کا اعلان کرنے والی امن کونسل کا منصوبہ حماس اور دیگر مسلح گروپوں کو غیر مسلح کرنے، غزہ کی انتظامیہ کو ایک قومی کمیٹی کے سپرد کرنے اور خطے سے اسرائیل کے مرحلہ وار انخلا کی پیش گوئی کرتا ہے۔
اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے اس ماہ کے شروع میں اس منصوبے کو مسترد کر دیا تھا اور یہ دلیل دی تھی کہ کسی بھی انخلا سے پہلے حماس کو مکمل طور پر غیر مسلح کیا جانا چاہیے۔ دوسری طرف، حماس نے کہا ہے کہ وہ ثالثوں اور امن کونسل کے ساتھ طے پانے والے معاہدوں پر قائم ہے اور اس نے روڈ میپ پر عمل درآمد کے لیے اسرائیل پر بین الاقوامی دباؤ ڈالنے کا مطالبہ کیا ہے۔ ملاڈینوف نے یہ بتاتے ہوئے کہ روڈ میپ کا مقصد غزہ سے ہر قسم کے ہتھیاروں کا خاتمہ ہے، کہا، "اس میں کوئی مبہم علاقےیا ایسی کوئی کیٹیگری نہیں ہے جسے باہر رکھا گیا ہو۔
بتایا گیا ہے کہ اس عمل میں بھاری ہتھیار، پیداواری تنصیبات، گولہ بارود کے ڈپو، سرنگیں، ذاتی آتشیں اسلحہ اور گروپوں کے قبضے میں موجود تمام عناصر شامل ہیں۔
منصوبے کے مطابق، غزہ نیشنل گورننس کمیٹی واحد ادارہ ہوگا جس کے پاس ہتھیار رکھنے، ذخیرہ کرنے اور انہیں کنٹرول کرنے کا اختیار ہوگا۔ ملاڈینوف نے واضح کیا کہ اسرائیل کا انخلا تصدیق شدہ تخفیفِ اسلحہ کے بعد مرحلہ وار ہوگا، اور انہوں نے کہا، "یہ عمل باہمی اور ترتیب وار آگے بڑھے گا، ہر اگلا قدم پچھلے قدم کی کامیابی سے تکمیل پر منحصر ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ اس منصوبے پر عمل درآمد "کسی چیز پر بھروسہ نہ کرو، ہر چیز کی تصدیق کرو” کے اصول کے تحت کیا جائے گا۔ اس عمل کو آگے بڑھانے کے لیے تین شرائط کا ذکر کرتے ہوئے ملاڈینوف نے کہا کہ بین الاقوامی استحکام فورس کو تعینات کیا جانا چاہیے، اسرائیل کو شرم الشیخ پروٹوکول کے تحت اپنے عزم پورے کرنے چاہئیں اور حماس کو اپنی ذمہ داریوں پر عمل کرنا چاہیے۔
انہوں نے مزید کہا کہ کسی براہ راست خطرے کے بغیر طاقت کا ہر استعمال اس عمل کو شدید نقصان پہنچاتا ہے، اور ہر منتقل ہونے والا ہتھیار، چلنے والی سرنگ اور روکا جانے والا قافلہ اس عمل کو پیچھے دھکیل دیتا ہے۔ دوسری طرف، نیتن یاہو اسرائیل کے غزہ سے انخلا یا تعمیر نو کے کاموں کے آغاز سے پہلے حماس کو مکمل طور پر غیر مسلح کرنے کے اپنے اصرار پر قائم ہیں۔ اقدامات کی ترتیب کے حوالے سے اختلافات کے باوجود، نیتن یاہو نے 17 اگست کو ملاڈینوف اور امریکی نمائندے جیرڈ کشنر کے ساتھ منصوبے کے نفاذ پر تبادلہ خیال کیا تھا۔
حماس جہاں مرحلہ وار اور باہمی عمل پر اصرار کر رہی ہے وہیں اسرائیلی انتظامیہ کا پہلا مطالبہ تخفیفِ اسلحہ کی مکمل تکمیل ہے۔ نیتن یاہو کا یہ سخت موقف اسرائیل میں 27 اکتوبر کو ہونے والے انتخابات سے پہلے اور غزہ کے معاملے پر کسی بھی قسم کی رعایت کے خلاف دباؤ ڈالنے والے انتہائی دائیں بازو کے اتحادی شراکت داروں کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کے تحت سامنے آ رہا ہے۔ منصوبے کے اعلان کے بعد، وزیر خزانہ بیزلیل سموٹریچ سمیت انتہائی دائیں بازو کے اسرائیلی وزراء نے روڈ میپ کو نشانہ بناتے ہوئے انخلا سے پہلے حماس کو مکمل طور پر غیر مسلح کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ ملاڈینوف کے یہ بیانات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب گزشتہ سال اکتوبر میں نافذ ہونے والی جنگ بندی کے باوجود غزہ پر اسرائیل کے روزانہ کے حملے، جانی نقصان، اور سویلین انفراسٹرکچر و خیموں کی تباہی کا سلسلہ جاری ہے۔
اتوار کے روز، نیتن یاہو اور وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے فلسطینی بچوں کی طرف سے اڑائی جانے والی پتنگوں کے اسرائیلی سرحد تک پہنچنے کا بہانہ بنا کر حملوں کو تیز کرنے اور غزہ کے کچھ حصوں کو خالی کرانے کی دھمکی دی تھی، جبکہ حماس نے اسرائیل پر الزام لگایا کہ وہ اس واقعے کو کشیدگی بڑھانے کے لیے بطور بہانہ استعمال کر رہا ہے۔ انتظامیہ کے معاملے پر بات کرتے ہوئے ملاڈینوف نے کہا، "غزہ کا بحران کبھی بھی صرف سیکیورٹی یا انسانی ہمدردی کا مسئلہ نہیں رہا؛ یہ ہمیشہ سے ایک سیاسی اور انتظامی مسئلہ تھا۔”
انہوں نے بتایا کہ نیشنل کمیٹی آزاد فلسطینی ماہرین پر مشتمل ہے اور اس کا مقصد عبوری دور کا انتظام سنبھالنا اور موثر گورننس کو دوبارہ قائم کرنا ہے۔ ملاڈینوف نے زور دیا کہ اس عبوری دور کی کامیابی قائم کردہ ڈھانچوں سے نہیں، بلکہ اس بات سے ناپی جائے گی کہ فلسطینی کتنا محفوظ محسوس کرتے ہیں، انہیں قابل اعتماد خدمات ملتی ہیں اور ان کی روزمرہ کی زندگی میں کتنی ٹھوس بہتری آتی ہے۔
غزہ نیشنل گورننس کمیٹی رواں سال جنوری میں فلسطینی انتظامیہ کے اہلکار علی شعث کی قیادت میں شہری اور سیکیورٹی امور کو چلانے کے لیے قائم کی گئی تھی۔ اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل نے بھی گزشتہ نومبر میں منظور کی گئی قرارداد نمبر 2803 کے ذریعے امریکی حمایت یافتہ عبوری فریم ورک کی منظوری دی تھی، جس میں ایک ٹیکنو کریٹ فلسطینی انتظامیہ اور عبوری بین الاقوامی استحکام فورس شامل ہے۔ فلسطینی حکام کے اعداد و شمار کے مطابق، اکتوبر 2023 سے جاری اسرائیلی حملوں میں اب تک 73 ہزار سے زائد فلسطینی جاں بحق اور 1 لاکھ 74 ہزار سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔










