واشنگٹن، 26 اگست (یواین آئی): امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران میں جاری صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہاں انسانی بحران کو فوری طور پر روکا جانا چاہیے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایرانی حکومت اپنے فوجی اداروں کے کئی شعبوں کو تنخواہیں ادا کرنے سے بھی قاصر ہے۔
ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر اپنے بیان میں کہا کہ ایران میں شہریوں کے خلاف غیر معمولی سطح پر ہلاکتیں ہورہی ہیں، حتیٰ کہ احتجاج میں شامل نہ ہونے والے افراد بھی متاثر ہورہے ہیں۔
امریکی صدر کے مطابق ایران میں 28 فروری کو جنگ شروع ہونے کے بعد سے پھانسیوں میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ یہ صورتحال ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب گزشتہ سال دسمبر کے اواخر میں معاشی مشکلات اور مہنگائی کے خلاف شروع ہونے والے مظاہرے جنوری میں بڑے پیمانے پر پھیل گئے تھے۔
دریں اثنا امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے کہا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے امکان کو مسترد نہیں کرتی۔ ان کے مطابق واشنگٹن تہران پر اقتصادی دباؤ بڑھانے کے ساتھ آبنائے ہرمز اور تہران کے اطراف میں فوجی کارروائی کے آپشن پر بھی غور کرسکتا ہے۔
امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے بھی ایران کو معاشی طور پر مفلوج کرنے کے منصوبے کا اعلان کرتے ہوئے مزید پابندیوں اور ان ممالک کے خلاف ثانوی پابندیوں کی وارننگ دی ہے جو تہران پر دباؤ بڑھانے کی امریکی مہم کا ساتھ نہیں دیں گے۔







