تہران، 26 اگست (یو این آئی) ایران اور عمان آبنائے ہرمز کو عارضی طور پر دوبارہ کھولنے کے لیے ایک معاہدے کے قریب پہنچ گئے ہیں دونوں ممالک اس اہم آبی گزرگاہ میں عارضی بحری راہداری قائم کرنے اور سمندری بارودی سرنگیں صاف کرنے کے لیے ایک ’’مرحلہ وار فریم ورک‘‘ پر بات چیت کر رہے ہیں اس تجویز کے ذریعے مستقل بحری راستے اور آبنائے ہرمز کے مستقبل کے انتظام سے متعلق مذاکرات کی بنیاد بھی تیار کی جائے گی۔
تہران نے امریکہ کے سامنے ایک شرط رکھی ہے اور اصرار کیا ہے کہ جہاز رانی کی بحالی سے قبل واشنگٹن کو ایرانی بندرگاہوں اور بحری جہازوں کے خلاف اپنی بحری ناکہ بندی ختم کرنے کے ساتھ ساتھ جنگ بھی ختم کرنا ہوگی۔
عمان کے وزیر خارجہ بدر البوسعیدی نے کہا کہ انہیں امید ہے کہ دونوں ممالک جلد ہی عارضی بحری راہداری اور محفوظ جہاز رانی کی بحالی کے انتظامات کا اعلان کریں گے۔انہوں نے کہا کہ آبنائے کے مستقبل کے انتظام اور مستقل حل پر بعد میں بات کی جائے گی، جبکہ علاقائی شراکت داروں کے ساتھ مذاکرات امن و تعاون، استحکام اور آزادیٔ جہاز رانی کے فروغ میں معاون ہوں گے۔
ایران کے نائب وزیر خارجہ برائے قانونی و بین الاقوامی امور کاظم غریب آبادی نے آبنائے ہرمز سے متعلق ایران اور عمان کے درمیان مجوزہ عارضی انتظامات کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ آبی گزرگاہ کو دوبارہ کھولنے کا انحصار تہران کے مطالبات پورے ہونے پر ہے۔
غریب آبادی نے بدھ کو کہا کہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے امریکہ کو اپنی ناکہ بندی ختم کرنا ہوگی۔
انہوں نے ایران اور عمان کے درمیان مجوزہ انتظام کو عارضی قرار دیا اور کہا کہ مستقل راستہ قائم کرنے کے لیے مزید مذاکرات ہوں گے، جن میں 30 سے 60 دن لگنے کی توقع ہے۔
ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق غریب آبادی نے کہا، ’’آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے کوئی بھی قدم اٹھانے سے پہلے امریکہ کو ان تمام وعدوں پر مکمل عمل درآمد کرنا ہوگا جن کی اس نے خلاف ورزی کی ہے۔‘‘
نہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ صرف ناکہ بندی ختم کرنا کافی نہیں ہوگا۔
غریب آبادی نے کہا، ’’آبنائے ہرمز کے بدلے میں صرف ناکہ بندی ختم کرنا ہی واحد شرط نہیں ہے۔ ایک اور مسئلہ جنگ کا خاتمہ ہے۔‘‘انہوں نے مزید کہا کہ جنگ کا تمام محاذوں، بشمول لبنان، پر مستقل اور پائیدار انداز میں خاتمہ ضروری ہے۔
غریب آبادی کے مطابق ایران اور عمان کے مجوزہ انتظام میں عمانی ساحل کے ساتھ موجود جنوب کی جانب اقوام متحدہ سے مجاز بحری راستے کو بند کرنا بھی شامل ہوسکتا ہے، جس کی تہران مخالفت کرتا ہے۔ تاہم عمان کے ابتدائی بیان میں ایسے کسی راستے کو بند کرنے کا ذکر نہیں کیا گیا تھا۔
ایران نے 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ملک کے خلاف تازہ جارحیت شروع کیے جانے کے بعد اس اہم آبی گزرگاہ کو بند کر دیا تھا۔






