دی ہیگ، 20 اگست (یو این آئی) بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی) نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کی جانب سے عدالت کے سربراہ اور ایک سینئر وکیل کو پابندیوں کی فہرست میں شامل کیے جانے کے بعد امریکہ کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور اس اقدام کو عدالت کی آزادی پر ’’کھلا حملہ‘‘ قرار دیا۔
آئی سی سی کا یہ ردعمل بدھ کو اس وقت سامنے آیا جب امریکہ نے آئی سی سی کی صدر ٹوموکو اکانے اور سینئر ٹرائل وکیل عبداللہ سیے پر پابندیاں عائد کردیں۔ یہ کارروائی ٹرمپ انتظامیہ کی اس مہم کا حصہ ہے جس میں امریکہ آئی سی سی کو ’’بدعنوان اور مکمل طور پر سیاسی ادارہ‘‘ قرار دیتا ہے۔
جاپانی جج اکانے نے مارچ 2024 میں منتخب ہونے کے بعد سے آئی سی سی کی صدر کی حیثیت سے خدمات انجام دی ہیں، جبکہ سیے سینیگال سے تعلق رکھنے والے عدالت کے وکیل ہیں۔
ہیگ میں قائم عدالت نے ایک بیان میں کہا، ’’یہ پابندیاں ایک غیر جانب دار عدالتی ادارے کی آزادی پر کھلا حملہ ہیں۔‘‘
بیان میں مزید کہا گیا، ’’ججوں، استغاثہ اور عملے کو نشانہ بنانے والے ایسے اقدامات قانون کی حکمرانی کو نقصان پہنچاتے ہیں۔‘‘
واشنگٹن کا تازہ اقدام آئی سی سی کے متعدد عہدیداروں پر پہلے عائد کی گئی پابندیوں کے بعد سامنے آیا ہے۔ ان میں سے بیشتر پابندیاں عدالت کی جانب سے امریکہ کے اتحادی اسرائیل سے متعلق تحقیقات کے ردعمل میں عائد کی گئی تھیں۔
جاپان نے بھی امریکی پابندیوں پر اعتراض کیا ہے۔ وزارت خارجہ کے پریس سیکریٹری توشی ہیرو کیتامورا نے ایک بیان میں کہا کہ جاپان نے ’’مسلسل آئی سی سی کی حمایت کی ہے تاکہ وہ بین الاقوامی برادری کے لیے تشویش کا باعث بننے والے سنگین ترین جرائم کے مرتکب افراد کے خلاف مقدمات چلانے اور انہیں سزا دینے اور قانون کی حکمرانی برقرار رکھنے کی کوششیں جاری رکھ سکے۔‘‘
جاپان آئی سی سی کا سب سے بڑا مالی معاون اور امریکا کا قریبی اتحادی ہے۔
یورپی یونین نے بھی اکانے کی حمایت کی۔ یورپی کمیشن کی سربراہ اُرسولا فون ڈیر لائن اور یورپی کونسل کے صدر انتونیو کوستا نے سوشل میڈیا پر جاری الگ الگ بیانات میں کہا کہ وہ اکانے اور عدالت کے اعلیٰ عہدیداروں کے ساتھ ’’مضبوطی سے کھڑے ہیں‘‘ اور انہیں ’’بیرونی دباؤ کے بغیر آزادانہ طور پر کام کرنے کے قابل ہونا چاہیے۔‘‘
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے اس سے قبل ایک بیان میں، تاہم کوئی مثال پیش کیے بغیر، کہا تھا کہ پابندیوں کا شکار افراد نے آئی سی سی کی جانب سے ایسے حکام کی تحقیقات، گرفتاری، حراست یا مقدمہ چلانے کی کوششوں میں براہ راست حصہ لیا جن کی حکومتوں نے آئی سی سی کے دائرۂ اختیار کو تسلیم نہیں کیا۔
آئی سی سی نے منگل کو اس کے جواب میں کہا، ’’جب عدالتی کردار قانون کے اطلاق پر دھمکیوں کا سامنا کرتے ہیں تو خود بین الاقوامی قانونی نظام خطرے میں پڑ جاتا ہے۔‘‘
2002 میں قائم ہونے والی آئی سی سی ان افراد کے خلاف مقدمات چلاتی ہے جن پر انتہائی سنگین جرائم اور مظالم کا الزام ہو۔ یہ عدالت اس وقت آخری چارہ کار کے طور پر کام کرتی ہے جب متعلقہ ممالک کے قانونی نظام جواب دہی یقینی بنانے کے لیے مناسب طور پر کام نہ کر سکیں۔
ٹرمپ انتظامیہ پہلے ہی آئی سی سی کے بعض عہدیداروں پر پابندیاں عائد کرچکی ہے۔ عدالت نے 2024 میں اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو کے خلاف غزہ میں جاری جنگ کے سلسلے میں گرفتاری کا وارنٹ جاری کیا تھا۔
امریکی پابندیوں کے تحت متاثرہ افراد کے امریکہ میں داخلے اور امریکی مالیاتی نظام کے ذریعے لین دین پر پابندی عائد کردی جاتی ہے۔
گزشتہ ماہ واشنگٹن نے آئی سی سی کے خلاف ایک بڑی سفارتی مہم شروع کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ عدالت ’’امریکی شہریوں کو دھمکا رہی ہے‘‘۔ امریکہ نے اپنے شراکت دار ممالک پر بھی زور دیا کہ وہ عدالت سے علیحدگی اختیار کریں۔ چاڈ اور وینزویلا پہلے ہی ایسی علیحدگی کا اعلان کرچکے ہیں۔
آئی سی سی نے ان ممالک کے فیصلوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے اقدامات اجتماعی طور پر انصاف کے حصول کی کوششوں کو کمزور کرسکتے ہیں۔
امریکہ نے آئی سی سی کے قیام کے لیے روم اسٹیچوٹ پر دستخط کیے تھے، تاہم اس معاہدے کی کبھی توثیق نہیں کی۔ اسرائیل اور روس بھی آئی سی سی کے رکن ممالک نہیں ہیں۔
گزشتہ ہفتے ہیومن رائٹس واچ سمیت چار انسانی حقوق کی تنظیموں نے نیویارک کی ایک عدالت میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف مقدمہ دائر کیا۔ تنظیموں نے آئی سی سی کو نشانہ بنانے والی امریکی پابندیوں کو چیلنج کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدامات جنگی جرائم کے متاثرین کو انصاف کے حصول سے روک رہے ہیں۔
2023 میں آئی سی سی نے روسی صدر ولادیمیر پوتن کے خلاف یوکرین میں جنگ کے سلسلے میں گرفتاری کا وارنٹ جاری کیا تھا۔ اس کے ردعمل میں ماسکو نے بھی اکانے سمیت عدالت کے اعلیٰ عہدیداروں کے خلاف اپنے گرفتاری کے وارنٹ جاری کیے تھے۔









