ایمسٹلوین، 19اگست (یواین آئی) ہندوستان اور پاکستان کے درمیان ہاکی کا روایتی مقابلہ ایک بار پھر شائقین کی توجہ کا مرکز بننے والا ہے، جب دونوں روایتی حریف بدھ کے روز ایف آئی ایچ ہاکی ورلڈ کپ 2026 کے پول ڈی میں آمنے سامنے ہوں گے۔ ویگنر ہاکی اسٹیڈیم میں ہونے والا یہ اہم مقابلہ سیمی فائنل کی دوڑ میں دونوں ٹیموں کی قسمت طے کرے گا۔
ہندوستان اس وقت پول ڈی میں تین پوائنٹس کے ساتھ دوسرے مقام پر ہے۔ ٹیم نے ویلز کو 3-1 سے شکست دے کر مہم کا آغاز کیا تھا، لیکن اس کے بعد انگلینڈ سے 2-4 سے ہار گئی۔ دوسری جانب پاکستان نے دو میچوں میں صرف ایک پوائنٹ حاصل کیا ہے، جو ویلز کے خلاف ڈرا سے ملا، جبکہ انگلینڈ نے اسے 1-4 سے شکست دی۔
ٹورنامنٹ کے فارمیٹ کے مطابق ہر پول کی ٹاپ دو ٹیمیں اگلے مرحلے میں سیمی فائنل کی دوڑ میں برقرار رہیں گی، جبکہ نچلی دو ٹیمیں درجہ بندی کے میچ کھیلیں گی۔ انگلینڈ پہلے ہی اپنے دونوں میچ جیت کر ٹاپ دو میں جگہ بناچکا ہے، اس لیے دوسری پوزیشن کے لیے ہندوستان، پاکستان اور ویلز کے درمیان مقابلہ اہم ہوگیا ہے۔ ہندوستان کو دوسری پوزیشن برقرار رکھنے کے لیے کم از کم ڈرا درکار ہے، جبکہ پاکستان اور ویلز کو اپنی امیدیں برقرار رکھنے کے لیے جیت حاصل کرنا ضروری ہے۔
ہندوستان کا پاکستان کے خلاف حالیہ ریکارڈ بھی شاندار رہا ہے۔ 2016 کے ساؤتھ ایشین گیمز کے فائنل کے بعد دونوں ٹیمیں 19 مرتبہ مدمقابل آئی ہیں، جن میں ہندوستان نے 17 میچ جیتے جبکہ دو مقابلے ڈرا رہے۔ اس طرح پاکستان گزشتہ ایک دہائی سے ہندوستان کو شکست نہیں دے سکا ہے۔
ہندوستانی ٹیم کے چیف کوچ کریگ فلٹن نے کہا کہ دونوں ملکوں کے درمیان رقابت کبھی ختم نہیں ہوتی اور ہندوستان ہر بار پاکستان کے خلاف جیتنا چاہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنی کوچنگ اور طویل مدتی منصوبہ بندی میں سرمایہ کاری کررہا ہے، اس لیے ہندوستان کو اپنے کھیل پر توجہ دیتے ہوئے انہیں آسان مواقع دینے سے بچنا ہوگا۔
کپتان اور شاندار ڈریگ فلک ماہر ہرمن پریت سنگھ ایک بار پھر ہندوستان کے لیے اہم کردار ادا کریں گے۔ انہوں نے اب تک دو میچوں میں تین گول کیے ہیں اور تینوں پنالٹی کارنر سے آئے ہیں۔ ہندوستانی فارورڈ کھلاڑی بھی اپنی بہتر فنشنگ کے ذریعے ٹیم کی مہم کو مضبوط کرنا چاہیں گے۔
پاکستان کے لیے صورت حال بالکل واضح ہے۔ دو میچوں میں صرف ایک پوائنٹ کے ساتھ اسے سیمی فائنل کی امیدیں برقرار رکھنے کے لیے ہندوستان کے خلاف جیتنا ضروری ہے۔ یہی دباؤ اسے خطرناک حریف بناسکتا ہے، خاص طور پر ایسے مقابلے میں جہاں جذبات اور جوش عروج پر ہوں گے۔
ہندوستان کو اس مقابلے میں جذبات اور دباؤ کے درمیان توازن برقرار رکھتے ہوئے نظم و ضبط کے ساتھ کھیلنا ہوگا، جبکہ پاکستان کے پاس حالیہ کمزور ریکارڈ کو بدلنے اور اپنے سب سے بڑے حریف کے خلاف ورلڈ کپ مہم کو دوبارہ پٹری پر لانے کا موقع ہے۔
ورلڈ کپ کی امیدیں داؤ پر ہونے اور دونوں ٹیموں کی شاندار ہاکی تاریخ کے پیش نظر ہندوستان اور پاکستان کا یہ مقابلہ ٹورنامنٹ کے اب تک کے سب سے سنسنی خیز میچوں میں شمار ہونے کی توقع ہے۔









