لندن، 14 اگست (یو این آئی) ریفارم یو کے کے رہنما نائجل فراج نے اپنی پارلیمانی نشست دوبارہ حاصل کرلی ہے۔ انہوں نے کلاکٹن کے ضمنی انتخاب میں اپنے اہم حریف کاؤنٹ بن فیس کو شکست دی۔ فراج نے گزشتہ ماہ اپنی نشست سے استعفیٰ دے کر اس ضمنی انتخاب کی راہ ہموار کی تھی۔
فراج نے کلاکٹن کے ضمنی انتخاب میں 22,239 ووٹ حاصل کیے، جبکہ مذاقاً انتخابات میں حصہ لینے والے امیدوار کاؤنٹ بن فیس کو 9,455 ووٹ ملے۔ بن فیس سر پر کچرے کا ڈبہ پہننے کے لیے مشہور ہیں اور خود کو ’’بین کہکشانی خلائی جنگجو‘‘ کہتے ہیں۔
برطانیہ کی بڑی سیاسی جماعتوں نے اس انتخاب کا بائیکاٹ کیا، جس کے نتیجے میں فراج کے لیے یہ انتخاب ایک غیر معمولی مقابلے میں تبدیل ہوگیا۔ فراج نے مالی بے ضابطگیوں کے الزامات کے بعد اپنی سیاسی حیثیت مضبوط کرنے کے لیے اس ضمنی انتخاب کو استعمال کرنے کی کوشش کی تھی۔
فراج جمعہ کی صبح ہونے والی سرکاری ووٹوں کی گنتی میں شریک نہیں ہوئے اور اپنی طے شدہ فتح کی تقریر بھی منسوخ کردی۔ تاہم ووٹوں کی آمد کے دوران اپنے ابتدائی بیان میں انہوں نے دعویٰ کیا کہ انہیں ’’قائل کن اور زبردست کامیابی‘‘ حاصل ہوئی ہے۔
انہوں نے کہا، ’’میں نے یہ ضمنی انتخاب اس لیے کرایا کیونکہ میں چاہتا تھا کہ کلاکٹن کے عوام اور اس حلقے کے ووٹرز برطانیہ کے مین اسٹریم میڈیا کے بجائے میرے منصف ہوں۔‘‘
فراج نے مزید کہا کہ کلاکٹن کے ووٹروں نے ’’پورے سیاسی نظام کو اپنی بے اعتنائی کا اظہار کر دیا ہے‘‘۔
کاؤنٹ بن فیس، جن کی انتخابی مہم میں کروساں کی قیمتوں کی حد مقرر کرنے اور ایک مقامی پب کے واش روم میں ہاتھ خشک کرنے والی مشین منتقل کرنے جیسے وعدے بھی شامل تھے، نے الجزیرہ سے گفتگو میں کہا کہ ’’جیتنے کے ایک سے زیادہ طریقے ہوتے ہیں‘‘۔
گزشتہ انتخابات میں جن سابق برطانوی وزرائے اعظم کے خلاف وہ مقابلہ کرچکے ہیں، ان کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا: ’’آپ لوگ عددی اعتبار سے جیتنے پر بہت زیادہ توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں، لیکن تھریسا مے کہاں ہیں، رشی سونک کہاں ہیں، بورس جانسن کہاں ہیں؟‘‘
کلاکٹن میں بن فیس کو ملنے والے 9,455 ووٹ ان کا 2019 کے بعد سے چھ انتخابات میں اب تک کا بہترین انتخابی نتیجہ ہے۔
جمعرات کو ہونے والے ضمنی انتخاب میں ووٹ ڈالنے کی شرح 44 فیصد رہی، جو 2024 کے عام انتخابات میں ریکارڈ کی گئی 59 فیصد شرح سے کم ہے، تاہم ضمنی انتخابات کے لیے یہ شرح غیر معمولی نہیں ہے۔
فراج اور بن فیس دونوں کا مقابلہ بڑی تعداد میں مذاقاً انتخابات میں حصہ لینے والے امیدواروں، آزاد امیدواروں اور حاشیے پر موجود سیاسی جماعتوں کے امیدواروں سے تھا۔
کلاکٹن لیزر سینٹر میں ہونے والی ووٹوں کی گنتی کے دوران امیدواروں کو ایک دوسرے کی کامیابیوں پر خوشی کا اظہار کرتے دیکھا گیا۔ کئی امیدواروں کو 100 سے بھی کم ووٹ ملے۔
دائیں بازو کے پاپولسٹ رہنما فراج، جو بریگزٹ کے نمایاں حامی رہے ہیں، کو مستقبل میں برطانیہ کے وزیراعظم کے امیدوار کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ انہوں نے نقل مکانی کے خلاف سخت اقدامات کا وعدہ کیا ہے، جن میں برطانوی بحریہ کے ذریعے کشتیوں پر برطانیہ پہنچنے والے پناہ کے متلاشیوں کو روک کر واپس بھیجنا بھی شامل ہے۔
فراج نے جولائی میں پارلیمنٹ کی اپنی نشست سے استعفیٰ دے دیا تھا۔ یہ استعفیٰ اس تحقیقات کے دوران سامنے آیا جس میں یہ جائزہ لیا جارہا تھا کہ آیا انہوں نے بیرون ملک مقیم ایک کرپٹو ارب پتی کی جانب سے دیے گئے 50 لاکھ پاؤنڈ (6.75 ملین ڈالر) کے تحفے کی اطلاع دینے میں ناکامی کی تھی۔ ان کے استعفے کے نتیجے میں یہ ضمنی انتخاب ہوا، جس میں انہوں نے خود بھی حصہ لیا۔
اس وقت الزامات کی تردید کرتے ہوئے فراج نے کہا تھا، ’’میں نے کچھ غلط نہیں کیا۔ میں نے کسی بھی طرح قانون کی خلاف ورزی نہیں کی۔‘‘







