تہران، 14 اگست (یواین آئی) ایرانی فوج نے جمعرات کو امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے اس دعوے کو مسترد کردیا کہ آبنائے ہرمز اب امریکہ کے کنٹرول میں ہے۔ ایران نے اس بیان کو ’’جھوٹ اور من گھڑت دعویٰ‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اہم آبی گزرگاہ مکمل طور پر ایران کے کنٹرول میں ہے۔
ایران کی مرکزی فوجی کمانڈ ’خاتم الانبیاء‘ کے ترجمان ابراہیم ذوالفقاری نے کہا کہ امریکہ کے یہ دعوے کہ جہاز آبنائے ہرمز سے معمول کے مطابق گزر رہے ہیں، محض جھوٹ اور من گھڑت باتیں ہیں۔
انہوں نے ایرانی سرکاری میڈیا پر جاری ایک ویڈیو میں کہا کہ آبنائے ہرمز بدستور اسلامی جمہوریہ ایران کے مکمل انتظام اور کنٹرول میں ہے اور ایرانی مسلح افواج کی اجازت اور نگرانی کے بغیر کسی تجارتی جہاز یا آئل ٹینکر کو اس آبی گزرگاہ سے محفوظ گزرنے کی اجازت نہیں دی گئی اور نہ دی جائے گی۔
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے بدھ کو ’ٹروتھ سوشل‘ پر ایک پوسٹ میں دعویٰ کیا تھا کہ واشنگٹن کا ’’آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول‘‘ ہے اور کہا تھا کہ ’’میرا خیال ہے کہ ہم اسے برقرار رکھیں گے۔‘‘
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بھی ٹرمپ کے دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن نے اس اہم آبی گزرگاہ پر ایران کے کنٹرول کی وسعت کا درست اندازہ نہیں لگایا ہے۔
عباس عراقچی نے جمعرات کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ آبنائے ہرمز کے معاملے میں امریکہ کو اس سے بھی زیادہ سنگین غلط فہمی لاحق ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ غلط اطلاعات سے بھی زیادہ خطرناک غلط انٹیلی جنس معلومات ہوتی ہیں، اس لیے اس معاملے میں احتیاط سے کام لینے کی ضرورت ہے۔
دوسری جانب ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کی جانب سے رواں ہفتے پاسداران انقلاب سے وابستہ باسیج فورسز کی کمان سنبھالنے کے لیے مقرر کیے گئے حسین طائب نے بھی آبنائے ہرمز کی صورتحال پر ایران کا موقف واضح کیا ہے۔ ایرانی سرکاری ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والے بیان میں انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز ایران کے انتظام اور کنٹرول میں ہے اور ملک پوری سلامتی کے ساتھ اپنی پالیسی پر آگے بڑھ رہا ہے۔







