نئی دہلی، 12 اگست (یو این آئی) دہائیوں تک گنگا ندی کے وسطی اور بالائی حصوں میں تقریباً ناپید ہو چکی مشہور ہلسا مچھلی کی واپسی نے ہندستان کی ندیوں کی بحالی کی مہم میں ایک نئی تاریخ رقم کر دی ہے۔ اتر پردیش کے چندولی ضلع میں ملنے والی دو ہلسا مچھلیوں نے ماہرینِ ماحولیات اور سائنسدانوں کے چہروں پر مسکراہٹیں بکھیر دی ہیں۔
ہندستانی کونسل برائے زرعی تحقیقات (آئی سی اے آر) نے بدھ کے روز یہ معلومات دی۔ کونسل کے مطابق 1975 میں فرکّا بیراج کی تعمیر کے بعد خلیجِ بنگال سے گنگا کے بالائی حصوں (وارانسی اور پریاگ راج) تک ہونے والی ہلسا کی نقل و حرکت شدید طور پر کم ہوتی چلی گئی تھی۔ حال ہی میں اتر پردیش کے چندولی ضلع کے ٹانڈہ خورد گاؤں (مارکنڈے مہادیو مندر کے قریب) میں ہلسا مچھلی کے ملنے سے یہ ثابت ہو گیا ہے کہ سائنسی مداخلت اور مسلسل کوششوں سے ناپید ہونے کے دہانے پر پہنچ چکی انواع کو ان کی قدرتی مسکن میں واپس لایا جا سکتا ہے۔
تاریخی طور پر، ہلسا مچھلی افزائشِ نسل کے لیے خلیجِ بنگال سے گنگا ندی کے راستے وارانسی اور پریاگ راج تک طویل سفر طے کرتی تھی۔ تاہم، بیراج کے فعال ہونے کے بعد اس کا اوپر کی طرف (پانی کے بہاؤ کے مخالف) سفر رک گیا، جس سے نہ صرف گنگا کے ایکو سسٹم کو نقصان پہنچا، بلکہ مچھلی پکڑنے والی روایتی برادریوں کے روزگار پر بھی گہرا بحران کھڑا ہو گیا۔
ہلسا کی ماحولیاتی، غذائی اور ثقافتی اہمیت کو مدِنظر رکھتے ہوئے، کونسل کے خاص ادارے سینٹرل ان لینڈ فشریز ریسرچ انسٹی ٹیوٹ، بیرک پور نے نیشنل مشن فار کلین گنگا کے ساتھ مل کر ہلسا ماہی گیری کو دوبارہ زندہ کرنے کے لیے ایک طویل المدتی سائنسی پروگرام شروع کیا۔
اس حکمتِ عملی کے تحت صرف پانی کی کوالٹی میں سدھار کے بجائے حیاتیاتی تنوع اور مچھلی کی پیداواری صلاحیت پر توجہ مرکوز کی گئی۔ سائنسدانوں نے ریور رینچنگ مہم کے تحت 2019 سے جون 2026 کے درمیان فرکّا بیراج کے اوپر کی طرف 3.85 لاکھ سے زائد چھوٹی ہلسا مچھلیوں کو چھوڑا۔ اس کے علاوہ 40 لاکھ سے زیادہ مچھلی کے بارآور انڈے اور تقریباً 9.4 لاکھ ہیچری میں تیار کردہ بچے (2 تا 6 دن کے) ندی میں چھوڑے گئے۔ ان مچھلیوں کے سفر اور زندہ رہنے کے پیٹرن کو سمجھنے کے لیے ٹیگنگ اور باقاعدہ ٹریکنگ کی گئی۔
تقریباً تین دہائیوں کے طویل انتظار کے بعد چندولی کے ٹانڈہ خورد میں کل 740 گرام وزن کی دو ہلسا مچھلیاں درج کی گئیں۔ اس سے پہلے 2023-25 کے دوران کی گئی نگرانی میں مرزا پور تک ہلسا کی آمد و رفت درج کی گئی تھی، جو یہ ظاہر کرتی ہے کہ یہ نوع آہستہ آہستہ اپنے تاریخی راستے کو دوبارہ حاصل کر رہی ہے۔
سینٹرل ان لینڈ فشریز ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے ڈائریکٹر ڈاکٹر پردیپ ڈے کے مطابق ماہی گیری کی بحالی کو صرف ایک نوع کے تحفظ کے طور پر نہیں، بلکہ ایکو سسٹم کی مجموعی بحالی اور پائیدار روزگار کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔ ہلسا جیسی حساس نوع کی واپسی گنگا ندی کی بہتر ہوئی صحت اور ماحولیاتی ربط کا ایک اہم حیاتیاتی اشاریہ ہے۔ یہ کامیابی ظاہر کرتی ہے کہ سائنسی نقطہ نظر، پالیسی کی حمایت اور عوامی شرکت سے ندیوں کی قدرتی زندگی کو دوبارہ بحال کیا جا سکتا ہے۔










