واشنگٹن، 10 اگست (یو این آئی) اقوام متحدہ میں امریکہ کے سفیر مائیک والٹز نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے دوران ایران مبینہ طور پر مالی معاملات، بالخصوص اپنے اثاثوں سے پابندیاں ہٹانے کو ترجیح دے رہا ہے۔
اس سے قبل امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ امریکہ ایران کے ساتھ بادل ناخواستہ مذاکرات کر رہا ہے، جبکہ ایران کی معاشی صورت حال مبینہ طور پر خراب ہوتی جا رہی ہے۔
مسٹر والٹز نے ایک ٹیلی ویژن انٹرویو میں کہا کہ ایران امریکہ کے وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ کے مقابلے میں وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ سے زیادہ خوف زدہ ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایران بمباری برداشت کر سکتا ہے، لیکن مالی دباؤ سے زیادہ پریشان ہوتا ہے۔ اسی لیے مذاکرات میں ایرانی بار بار پیسوں کی ہی بات کرتے ہیں اور اپنی فوج کی فکر کم کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ٹرمپ جب تہران پر دباؤ کی بات کرتے ہیں تو ان کی مراد بالکل یہی ہوتی ہے۔
سفیر نے کہا، ’’یہ دباؤ، ناکہ بندی کے ساتھ مل کر، وہی چیز ہے جو بالآخر ایرانیوں کو جھکنے پر مجبور کرے گی۔‘‘
قابل ذکر ہے کہ 18 جون کو ایران کے ساتھ ہوئے جنگ بندی معاہدے کو مسٹر ٹرمپ کی جانب سے منسوخ قرار دیے جانے کے بعد خطے میں کشیدگی بڑھ گئی تھی۔ اس کے بعد امریکی فوج نے ایران کے ٹھکانوں پر تابڑ توڑ حملے کیے۔ امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے واضح کیا کہ یہ حملے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے شہری جہازوں کے خلاف حملوں کے جواب میں کیے گئے تھے۔
ایران کی فوج نے اس کے جواب میں مغربی ایشیا کے کئی ممالک میں واقع امریکی ٹھکانوں پر حملے کیے۔ ایران نے امریکہ پر جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام بھی عائد کیا۔






