پٹنہ،9 اگست (یو این آئی) نائب صدر جمعیت علماءہند اورپروگرام کے کنوینر مولانا سید اسجد مدنی نے اپنے کلیدی خطاب میں ملک کے موجودہ حالات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آج فرقہ پرستی اپنے عروج پر ہے، ایسے ماحول میں ہندو مسلم اتحاد کی بحالی وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔ یہ بات انہوں نے موجودہ دور میں بڑھتی ہوئی فرقہ پرستی کے سد باب اور آپسی بھائی چارے کے فروغ کے لیے جمعیت علماءبہار کی جانب سے آج یہاں ”تحریک ہندو مسلم اتحاد“کے عنوان سے ایک روزہ اہم تربیتی پروگرام میں کہی۔
انہوں نے زور دے کر کہا کہ محض جلسے جلوسوں سے مقصد حاصل نہیں ہوگا، بلکہ ہمیں عملی طور پر برادران وطن کے ساتھ کھڑا ہونا پڑے گا۔انہوں نے مزید کہاکہ”ہمیں برادران وطن کے دکھ درد کو سمجھنا اور ان کا ہمدرد بننا ہوگا۔ اگر ہم نچلی سطح (گرام پنچایت و محلہ) پر مقامی جمعیت کو مضبوط کریں گے اور یہ کام سال بھر جاری رکھیں گے، تبھی ہم اپنے مقصد میں کامیاب ہو سکتے ہیں۔“
انہوں نے قرآن و سنت اور سلف صالحین کی مثالیں دیتے ہوئے’خدمت خلق‘ کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے پہلی وحی کے بعد حضرت خدیجہؓ کے تاریخی جملوں کا حوالہ دیتے ہوئے یاد دلایا کہ جو شخص انسانیت کی خدمت کرتا ہے، رشتہ داریوں کو جوڑتا ہے اور مصیبت زدوں کا سہارا بنتا ہے، اللہ تعالی اسے کبھی ضائع نہیں کرتا۔ انہوں نے کہا کہ ”الخلق عیال اللہ“ (تمام مخلوق اللہ کا کنبہ ہے) اور ”کلکم بنی آدم“کے اصول پر عمل کرتے ہوئے ہمیں ہر انسان سے حسن سلوک کرنا چاہیے۔
پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے جمعیت علماءکے جنرل سکریٹری مولانا معصوم ثاقب نے بیداری اور اتحاد کی کوششوں کو سراہتے ہوئے ایک اہم شرعی و علمی نقطہ پیش کیا۔ انہوں نے کہاکہ ”ہمیں برادران وطن کے ساتھ بھائی چارہ اور رواداری ضرور قائم کرنی چاہیے، لیکن اس سفر میں اسلامی حدود و قیود کا پاس لحاظ رکھنا بھی ضروری ہے۔ ایسا نہ ہو کہ اتحاد کے نام پر ہم ان کے مذہبی شعائر کو اپنا لیں۔ ہمارا دین ہمارے لیے ہے اور ان کا دین ان کے لیے، اس سلسلے میں ہمارے اکابرین کی واضح ہدایات موجود ہیں۔“
استقبالیہ خطبہ مولانا صابر نظامی قاسمی نے پیش کیا، جبکہ مولانا عباس اور دیگر اہم شخصیات نے بھی خطاب کیا۔شرکا میں مولانا حیدرالاسلام قاسمی بانکا، مولانا مشہود احمد قادری ندوی، مولانا عبد الباسط ندوی پٹنہ،ڈاکٹر فیض احمد قادری، ڈاکٹر انوارالہدئ، مفتی نسیم الدین و الحاج رئیس الدین ارریہ، مولانا عزرائیل قاسمی ومولانا رضوان اللہ قاسمی کٹیہار، قاری الیاس مخلص کشنگنج، مفتی خالد نیموی بیگوسرائے، مولانا محمد جاویدعالم قاسمی موتیہاری، مولانا نوشاد عالم قاسمی ومولانا عامر عرفات قاسمی بتیا، مولانا شہاب الدین قاسمی مدھوبنی، مولانا محب اللہ قاسمی و مولانا منصور ہاشمی کھگڑیا، مولانا حبیب اللہ مظاہری سہرسہ، محمد سرفراز دربھنگہ، مولانا عبد الوالی منانی سیتامڑھی، مولانا محمد حسین جموئی، مولانا محمد فاروق قاسمی وقاری غضنفر علی قاسمی گیا، مولانا محمد شاہد لطیفی لکھی سرائے، مولانا محمد مدثرقاسمی کیمور، مولانا نصیرالدین روہتاس، مولانا محمد فاروق قاسمی ومولانا مسیح الزماں قاسمی بھاگلپور، مولانا محمد احسان قاسمی پالی، مولانا مبشر علی قاسمی باڑھ، مولانا محمد ثاقب سمستی پور وغیرہ شامل تھے۔






