سیئول،7 اگست (یو این آئی) جنوبی کوریا اور جاپان نے الزام عائد کیا ہے کہ شمالی کوریا نے جمعرات کے روز ایک بار پھر مختصر فاصلے تک مار کرنے والا بیلسٹک میزائل جزیرہ نما کوریا کے مشرقی سمندر کی طرف فائر کیا ہے۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق جنوبی کورین فوج نے اس تازہ تجربے پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اپنی نگرانی اور دفاعی تیاریوں کو انتہائی سخت کر دیا ہے۔ دوسری جانب جاپانی حکومت نے بھی تصدیق کی ہے کہ شمالی کوریا کی جانب سے داغا گیا یہ دفاعی آلہ بظاہر بیلسٹک میزائل ہی معلوم ہوتا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ تجربہ رواں برس شمالی کوریا کی جانب سے کیے جانے والے ہتھیاروں کے ٹیسٹس کا تسلسل ہے، جن میں مختصر فاصلے کے بیلسٹک میزائل، راکٹ اور دیگر ٹیکٹیکل ہتھیار شامل ہیں۔
جنوبی کوریا کے ذرائع ابلاغ کے مطابق اس سے قبل جون کے آخر میں بھی پیانگ یانگ نے ملٹی پل لانچ راکٹ سسٹم اور ٹیکٹیکل میزائلوں کا تجربہ کیا تھا۔
جنوبی کوریا کی فوج کا کہنا ہے کہ وہ امریکا اور جاپان کے ساتھ قریبی رابطے میں ہیں اور ممکنہ خطرات سے نمٹنے کے لیے انٹیلی جنس معلومات کا تبادلہ جاری رکھا جا رہا ہے۔
کیونگ نام یونیورسٹی کے انسٹی ٹیوٹ فار فار ایسٹرن اسٹڈیز کے پروفیسر لیم ایول چُل کا ماننا ہے کہ حالیہ میزائل تجربہ شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن کی بااثر بہن کم یو جونگ کے اس بیان سے منسلک ہو سکتا ہے جس میں انہوں نے جاپان کی فوجی سرگرمیوں اور ٹام ہاک میزائل کے تجربات پر شدید تنقید کی تھی۔
ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ یہ تجربہ امریکا اور جنوبی کوریا کے درمیان جلد متوقع مشترکہ فوجی مشقوں سے پہلے سامنے آیا ہے، جسے پیانگ یانگ کی طرف سے ایک عسکری اور سیاسی پیغام کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔






