نئی دہلی،05 اگست (یواین آئی) ڈائریکٹوریٹ جنرل آف سول ایوی ایشن (ڈی جی سی اے) نے منگل کو فضائی جھٹکوں (ٹربولنس) کا شکار ہونے والے ایئر انڈیا کے طیارے کا بلیک باکس اور کاک پٹ وائس ریکارڈر ضبط کر کے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب تھائی لینڈ کے فوکٹ سے دہلی آنے والی ایئر انڈیا کی پرواز AI2379 دورانِ پرواز اچانک تقریباً 300 فٹ نیچے گر گئی۔ اس کے نتیجے میں طیارے میں سوار 13 مسافر اور عملے کے چار ارکان زخمی ہو گئے۔
دہلی پہنچنے کے بعد زخمیوں کو مختلف اسپتالوں میں داخل کرایا گیا۔ بعد ازاں پانچ مسافروں کو اسپتال سے فارغ کر دیا گیا، جبکہ 12 افراد اب بھی گروگرام کے میدانتا اور فورٹس اسپتالوں اور دہلی کے وسنت کنج واقع اسپائنل انجری سینٹر میں زیرِ علاج ہیں۔ ایئر انڈیا نے بتایا کہ اس کی ٹیمیں اسپتالوں میں موجود ہیں اور متاثرہ مسافروں اور ان کے اہلِ خانہ سے مسلسل رابطے میں ہیں۔
مرکزی وزیر برائے شہری ہوابازی کنجراپو رام موہن نائیڈو نے شام کے وقت فورٹس اسپتال پہنچ کر زخمیوں کی عیادت کی اور ڈاکٹروں سے ان کی صحت کے بارے میں معلومات حاصل کیں۔ اس موقع پر شہری ہوابازی کے سکریٹری سمیر کمار سنہا بھی ان کے ہمراہ تھے۔
وزارت نے بتایا کہ طیارے کو ہینگر منتقل کر دیا گیا ہے اور اس کا فلائٹ ڈیٹا ریکارڈر (بلیک باکس) اور کاک پٹ وائس ریکارڈر تحقیقات کے لیے ضبط کر لیا گیا ہے۔ ڈی جی سی اے نے واقعے کی باضابطہ تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
سرکاری معلومات کے مطابق طیارے میں تین شیر خوار بچوں سمیت 137 مسافر سوار تھے، جبکہ عملے میں دو پائلٹ اور چھ کیبن کریو شامل تھے۔
ایئر انڈیا نے کہا ہے کہ وہ تحقیقات میں مکمل تعاون کر رہی ہے اور طیارہ ساز کمپنی ایئربس کو بھی اس واقعے سے آگاہ کر دیا گیا ہے۔ ایئرلائن کے بیان کے مطابق واقعے کے باوجود طیارے نے معمول کے مطابق اپنی پرواز جاری رکھی اور صبح 11:07 بجے بحفاظت دہلی میں لینڈ کر گیا۔
ذرائع کے مطابق یہ واقعہ لینڈنگ سے کچھ دیر پہلے پیش آیا، جب طیارہ لینڈنگ کے لیے بتدریج نیچے اتر رہا تھا۔ یہ ایئربس A320neo طیارہ تھا۔









