نئی دہلی،5اگست (یو این آئی) سپریم کورٹ نے منگل کے روز مرکزی مسلح پولیس فورسز (سی اے پی ایف) کے افسران کی ان درخواستوں پر مرکزی حکومت سے جواب طلب کیا، جن میں "مرکزی مسلح پولیس فورس (جنرل ایڈمنسٹریشن) ایکٹ، 2026” کی آئینی حیثیت کو چیلنج کیا گیا ہے۔
جسٹس منوج مشرا اور جسٹس وجے بشنوئی پر مشتمل بنچ نے سی اے پی ایف افسران کی درخواستوں پر مرکز کو نوٹس جاری کیا۔ درخواست گزاروں کا مؤقف ہے کہ یہ قانون سپریم کورٹ کے 23 مئی 2025 کے اس فیصلے کے اثرات کو قانون سازی کے ذریعے ختم کر دیتا ہے، جس میں سی اے پی ایف میں آئی پی ایس افسران کی ڈیپوٹیشن مرحلہ وار کم کرنے اور کیڈر اصلاحات نافذ کرنے کی ہدایت دی گئی تھی۔
درخواستوں میں 2026 کے قانون کو غیر آئینی قرار دینے اور 2025 کے عدالتی فیصلے پر عمل درآمد کرانے کی درخواست کی گئی ہے۔ اس فیصلے میں کیڈر ریویو، بھرتی کے قواعد میں ترمیم اور ڈیپوٹیشن کے عہدوں میں کمی کی ہدایات دی گئی تھیں۔
درخواست گزاروں نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ 2026 کا قانون قانون سازی کے اختیارات کا غلط استعمال ہے۔ ان کے مطابق اس کا مقصد عدالتی فیصلے کی قانونی بنیاد کو تبدیل کیے بغیر ایک لازمی عدالتی حکم کو غیر مؤثر بنانا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ قانون صرف قانون سازی کے ذریعے عدالتی ہدایات کو بے اثر کرکے اختیارات کی علیحدگی کے آئینی اصول کی خلاف ورزی کرتا ہے۔
درخواست میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ نئے قانون کے تحت مقرر کیے گئے ڈیپوٹیشن کوٹے من مانی پر مبنی ہیں اور ان سے سی اے پی ایف کے اپنے کیڈر کے افسران کی ترقی کے مواقع شدید متاثر ہوں گے، کیونکہ اعلیٰ عہدے آئی پی ایس افسران کے لیے مخصوص کر دیے گئے ہیں۔
قابل ذکر ہے کہ 2026 کے قانون کے تحت سی اے پی ایف میں انسپکٹر جنرل کے 50 فیصد عہدے، ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل کے کم از کم 67 فیصد عہدے، جبکہ اسپیشل ڈائریکٹر جنرل اور ڈائریکٹر جنرل کے تمام عہدے ڈیپوٹیشن پر آنے والے آئی پی ایس افسران کے لیے مختص کیے گئے ہیں۔
درخواست گزاروں نے مزید مؤقف اختیار کیا کہ سی اے پی ایف بنیادی طور پر قومی سلامتی اور سرحدی انتظام سے متعلق ذمہ داریاں انجام دیتی ہے، جو ریاستی پولیس کی "قانون و نظم” اور "امن عامہ” کی ذمہ داریوں سے مختلف ہیں۔ اس لیے سی اے پی ایف کے کمانڈ ڈھانچے کا موازنہ ریاستی پولیس تنظیموں سے کرکے ڈیپوٹیشن پالیسی طے کرنا مناسب نہیں ہے۔









