نئی دہلی، 28 جولائی (یو این آئی) وزیر دفاع راجناتھ سنگھ نے انڈین کوسٹ گارڈ (آئی سی جی) کے لئے دو پالیسی اصلاحات کا منگل کو آغاز کیا جن کے تحت افسران کی بھرتی اور سروس کی شرائط میں صنفی لحاظ سے غیر جانبدارانہ نظام نافذ کیا گیا ہے اور ڈیوٹی کے دوران سمندر میں لاپتہ ہونے والے اہلکاروں کے اہل خانہ کو امدادی رقم کی فراہمی کے عمل کو آسان بنایا گیا ہے۔
مسٹر سنگھ نے یہاں کرتویہ بھون-2 میں منعقدہ ایک تقریب میں ان اصلاحات کا آغاز کیا۔ اس موقع پر دفاعی سکریٹری راجیش کمار سنگھ، آئی سی جی کے ڈائریکٹر جنرل پرمیش شیومنی نیز دیگر سینئر حکام موجود تھے۔ وزارت دفاع نے بتایا کہ پہلی پالیسی افسران کی بھرتی کے لئے صنفی لحاظ سے غیر جانبدارانہ ڈھانچہ قائم کرتی ہے، جس کے تحت خواتین امیدواروں کو مرد امیدواروں کے مساوی قلیل مدتی سروس تقرر (ایس ایس اے) اور مستقل تقرر (پی اے) دونوں میں بھرتی کا موقع ملے گا۔ اس کے ساتھ ہی مرد امیدواروں کے لئے بھی ایس ایس اے کا التزام رکھا گیا ہے۔
یہ پالیسی ابتدائی تربیتی مرحلے سے ہی کریئر میں مساوی مواقع یقینی بناتی ہے۔ فی الحال مستقل تقرر پر کام کرنے والی خواتین افسران کو مقررہ اہلیتی شرائط پوری کرنے پر اعلیٰ عہدوں پر ترقی کے لئے غور کیا جائے گا۔ وہیں، شارٹ سروس اپائنٹمنٹ پر کام کرنے والی خواتین افسران کو بھی مقررہ شرائط پوری کرنے پر اپنی سروس کو مستقل تقرر میں تبدیل کرنے کا اختیار دیا جائے گا۔
دوسری اصلاح ڈیوٹی کے دوران سمندر میں لاپتہ ہونے والے آئی سی جی اہلکاروں کے قریبی رشتہ داروں کے لئے امدادی رقم کے عمل کو آسان بناتی ہے۔ اس کے تحت ایسے اہلکاروں کو امدادی رقم کے مقصد سے "متوفی فرض کر لیا گیا” قرار دینے کا اختیار فراہم کیا گیا ہے، جس سے امدادی رقم اور سروس کے خاتمے پر ملنے والے فوائد کی ادائیگی کے عمل میں تیزی آئے گی۔
وزارت نے کہا کہ اس قدم کا مقصد مشکل حالات کے دوران خاندانوں کو فوائد فراہم کرنے میں ہونے والی انتظامی تاخیر کو کم کرنا ہے۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مسٹر سنگھ نے گزشتہ پانچ دہائیوں میں آئی سی جی کی خدمات کی تعریف کی اور کہا کہ نئی پالیسیاں 2027 میں گولڈن جوبلی کی طرف بڑھ رہی فورس کے حوصلے اور عملی صلاحیت کو مزید مضبوط کریں گی۔ انہوں نے جدید، اہل اور مستقبل کے لئے تیار سمندری فورس کے طور پر آئی سی جی کو بااختیار بنانے کے حکومت کے عزم کا بھی اعادہ کیا۔









