ہمیں ان سے امید باقی نہیں رہی‘عوام سے عوام کے درمیان رابطے ہی موجودہ تعطل کو ختم کرنے کا بہترین ذریعہ ہیں:آر ایس ایس رہنما
(ندائے مشرق ڈیسک )
سرینگر؍۱۷ جون
راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے سینئر رہنما سنیل امبیکر نے بھارت اور پاکستان کے درمیان ’عوام سے عوام کے رابطوں‘ کو فروغ دینے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں ممالک کی حکومتوں، افواج اور ایجنسیوں کے درمیان اب تک ہونے والے مذاکرات مطلوبہ نتائج حاصل کرنے میں ناکام رہے ہیں۔
پونے یونین آف ورکنگ جرنلسٹس کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے سنیل امبیکر نے کہا کہ آر ایس ایس کے سرسنگھ چالک موہن بھاگوت اور سینئر عہدیدار دتاتریہ ہوسابالے کی جانب سے پاکستان کے ساتھ مکالمے کے حوالے سے دیے گئے بیانات دراصل عوامی روابط کے بارے میں تھے، نہ کہ سرکاری سفارتی سطح پر مذاکرات کے حوالے سے۔
امبیکر نے کہا، ’’سرسنگھ چالک کے ریمارکس عوام سے عوام کے تعلقات کے بارے میں تھے۔ حکومتوں کے درمیان مذاکرات ہونے چاہئیں یا نہیں، یہ سخت سفارت کاری کا معاملہ ہے جس میں قومی مفادات اور کئی حساس امور شامل ہوتے ہیں۔‘‘
واضح رہے کہ دتاتریہ ہوسابالے نے مئی میں پی ٹی آئی ویڈیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ بھارت میں پاکستان کی سیاسی اور فوجی قیادت پر اعتماد مکمل طور پر ختم ہو چکا ہے اور موجودہ تعطل کو ختم کرنے کے لیے عوامی سطح کے رابطے ہی بہترین راستہ ہیں۔بعد ازاں موہن بھاگوت نے بھی ہوسابالے کے بیان کا دفاع کرتے ہوئے واضح کیا تھا کہ ان کی بات پاکستان کے عوام کے بارے میں تھی۔
امبیکر نے مزید کہا کہ خارجہ پالیسی سے متعلق فیصلے حکومت پر چھوڑ دینا ہی بہتر ہے، خاص طور پر تنازعات یا غیر معمولی حالات کے دوران۔انہوں نے کہا، ’’جب بیرونی ممالک سے متعلق معاملات سامنے آئیں تو سیاسی اختلافات کو ایک طرف رکھ کر اپنی آراء حکومت تک پہنچانی چاہئیں، اور قومی مفاد میں حتمی عوامی موقف حکومت ہی کو اختیار کرنا چاہیے۔‘‘
آر ایس ایس کے تشہیری شعبے کے سربراہ نے کہا کہ چونکہ آر ایس ایس ایک سماجی اور ثقافتی تنظیم ہے، اس لیے ضرورت پڑنے پر وہ اپنے خیالات حکومت تک پہنچاتی رہے گی۔
موہن بھاگوت کے بیان کی مزید وضاحت کرتے ہوئے امبیکر نے کہا کہ حکومتوں، افواج اور ایجنسیوں کے درمیان روایتی ذرائع سے ہونے والے رابطے اب تک کوئی مثبت نتیجہ نہیں دے سکے ہیں۔انہوں نے کہا، ’’حکومتوں، افواج اور ایجنسیوں کے درمیان جو بھی مذاکرات ہوئے، وہ اب تک ناکام رہے ہیں۔ ہمیں ان سے امید باقی نہیں رہی۔ اسی لیے عوامی سطح پر رابطے بہت اہم ہیں۔‘‘
امبیکرنے دونوں ممالک کے درمیان جاری طبی سفر، تجارتی سرگرمیوں اور دیگر عوامی روابط کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایسے تعلقات مشترکہ تاریخی اور ثقافتی یادداشتوں کو محفوظ رکھنے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔
انہوں نے بلوچستان جیسے خطوں میں پائے جانے والے جذبات کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ مشترکہ تاریخ اور تہذیبی روابط کے بارے میں آگاہی بڑھانے سے کئی دیرینہ مسائل کے حل میں مدد مل سکتی ہے۔انہوں نے زور دے کر کہا، ’’عوام سے عوام کے درمیان مکالمہ نہایت اہم ہے اور اسے جاری رہنا چاہیے۔ اسے سیاسی سفارت کاری کے تناظر میں نہیں دیکھنا چاہیے۔‘‘
اس موقع پر انہوں نے آبادی کے توازن، آبادی سے متعلق پالیسیوں اور مسلم برادری تک رسائی جیسے مختلف موضوعات پر بھی اظہار خیال کیا اور کہا کہ آر ایس ایس معاشرے کے تمام طبقات کے ساتھ مکالمے کے لیے ہمیشہ تیار ہے۔










