۱۸بڑے ترقیاتی منصوبوں کا افتتاح اور سنگِ بنیاد، تعلیم، سڑکوں، پلوں، پینے کے پانی اور زرعی ڈھانچے کو فروغ ملے گا
ڈی آئی پی آر
بانڈی پورہ؍۱۷جون
وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے آج ضلع بانڈی پورہ کو تقریباً ایک سو کروڑ روپے مالیت کے۱۸ بڑے ترقیاتی منصوبوں کا تحفہ دیتے ہوئے ان کا افتتاح اور سنگِ بنیاد رکھا۔ مختلف شعبوں پر مشتمل یہ منصوبے اعلیٰ تعلیم، سڑکوں، پلوں، پینے کے صاف پانی، شہری ترقی اور زرعی بنیادی ڈھانچے سے متعلق ہیں اور ان کا مقصد مقامی آبادی کی اہم ضروریات کو پورا کرنا ہے۔
اہم منصوبوں میں اجس میں گورنمنٹ ڈگری کالج کی تعمیر (۱۴کروڑ روپے)، ٹنڈی پورہ،ہاکہ بارہ کے مقام پر دریائے جہلم پر پیدل چلنے والوں کے لیے پل(۱۰ء۶۲ کروڑ روپے)، گورنمنٹ ڈگری کالج بانڈی پورہ میں طالبات کے لیے ہاسٹل (۱۰کروڑ روپے) اور کلوسہ میں اسکول عمارت کی تعمیر(۳ء۷۱ کروڑ روپے) شامل ہیں۔
دیگر منصوبوں میں مارکنڈل-حاجن سڑک کی اپ گریڈیشن (۷ء۱۳ کروڑ روپے)، پینے کے پانی کی فراہمی کے نظام میں توسیع (۶ء۶۶کروڑ روپے)، کثیر منزلہ کار پارکنگ سہولت (۳ء۷۴کروڑ روپے) اور پنچایتی راج اداروں کے نمائندوں کے لیے رہائشی اپارٹمنٹس کی تعمیر بھی شامل ہے۔
دورے کے دوران وزیر اعلیٰ نے ایک اعلیٰ سطحی جائزہ اجلاس کی صدارت بھی کی جس میں ضلع میں ترقیاتی سرگرمیوں، عوامی خدمات کی فراہمی اور مختلف سرکاری اسکیموں کی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔
اجلاس میں نائب وزیر اعلیٰ سریندر چودھری، وزراء سکینہ ایتو (ورچوئل طور پر)، جاوید رانا، جاوید احمد ڈار اور ستیش شرما، وزیر اعلیٰ کے مشیر ناصر اسلم وانی، ایم ایل اے گریز نذیر احمد خان، ایم ایل اے بانڈی پورہ نظام الدین بٹ، ایم ایل اے سوناواری ہلال اکبر لون، وزیر اعلیٰ کے ایڈیشنل چیف سیکریٹری دھیرج گپتا، ڈپٹی کمشنر بانڈی پورہ اندو کنول چب، مختلف محکموں کے سربراہان اور سینئر افسران شریک تھے۔
وزیر اعلیٰ نے گزشتہ مالی سال کے دوران بانڈی پورہ کی ترقیاتی پیش رفت کو سراہتے ہوئے تمام محکموں پر زور دیا کہ وہ اسی رفتار کو برقرار رکھیں۔ انہوں نے کہا کہ اس سال حکومت نے انتظامی اور مالی منظوریوں کا عمل پہلے ہی مکمل کر لیا ہے تاکہ محکمے کام کے موسم سے بھرپور فائدہ اٹھا سکیں اور مالی سال کے اختتام پر جلد بازی سے بچا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ بانڈی پورہ کے جغرافیائی اور موسمی حالات کے پیش نظر یہ اقدام انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔
ضلع کے قدرتی وسائل کا ذکر کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے دواؤں اور خوشبودار پودوں کی سائنسی بنیادوں پر کاشت کو فروغ دینے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت دی کہ دواؤں کی جڑی بوٹیوں کے لیے ایک خصوصی صنعتی اسٹیٹ قائم کرنے کے امکانات کا جائزہ لیا جائے۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ اس اقدام سے مقامی سطح پر کاروباری سرگرمیوں کو فروغ ملے گا، نوجوانوں کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے اور ضلع کے قدرتی وسائل کی معاشی قدر میں اضافہ ہوگا۔
اس موقع پر مقامی ارکانِ اسمبلی نے بھی اپنے اپنے حلقوں سے متعلق مختلف ترقیاتی مطالبات وزیر اعلیٰ کے سامنے رکھے، جن پر عمر عبداللہ نے فوری غور اور مناسب کارروائی کا یقین دلایا۔
اس سے قبل وزیر اعلیٰ نے ’’اُمید‘‘ اقدام کے تحت مستحقین میں گاڑیاں تقسیم کیں اور مقامی سیلف ہیلپ گروپس کی جانب سے لگائے گئے اسٹالوں کا معائنہ کیا۔انہوں نے گریز، تلئیل اور سوناواری سے آئے عوامی وفود سے بھی ملاقات کی اور انہیں یقین دلایا کہ ان کے ترقیاتی مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے گا۔
دورے کی ایک نمایاں خصوصیت گورنمنٹ ڈگری کالج بانڈی پورہ کے طلبہ کے ساتھ وزیر اعلیٰ کی کھلی بات چیت تھی۔ اس سیشن کی میزبانی ایک طالبہ نے کی، جس کے بعد طلبہ نے حکمرانی، روزگار اور عوامی پالیسی سے متعلق مختلف سوالات کیے۔وزیر اعلیٰ نے طلبہ کے اعتماد اور جراتِ اظہار کو سراہتے ہوئے نوجوان نسل کو جمہوری عمل اور قوم کی تعمیر میں فعال کردار ادا کرنے کی تلقین کی۔










