میکسیکو سٹی،10 جون (یواین آئی ) 2026 کے فیفا ورلڈ کپ کے آغاز سے قبل میکسیکو نے سکیورٹی انتظامات مزید سخت کر دیے ہیں۔ حکام کے مطابق عالمی فٹبال ایونٹ کے دوران ملک میں 50 لاکھ سے زائد غیر ملکی شائقین کی آمد متوقع ہے، جس کے پیش نظر فوج، پولیس اور نجی سکیورٹی اداروں کے تقریباً ایک لاکھ اہلکار تعینات کیے جا رہے ہیں۔افتتاحی میچ جمعرات کو میکسیکو اور جنوبی افریقہ کے درمیان میکسیکو سٹی میں کھیلا جائے گا۔ میکسیکو اس مرتبہ کنادا اور امریکہ اور کے ساتھ مشترکہ طور پر ورلڈ کپ کی میزبانی کر رہا ہے۔
حکومت کے ’’پلان کوکولکان‘‘ کے تحت ملک بھر میں فوجی دستوں، پولیس فورس اور نجی سکیورٹی اہلکاروں کی بڑی تعداد تعینات کی گئی ہے۔ میکسیکو سٹی کے پولیس چیف پابلو وازکیز کا کہنا ہے کہ شہر کو بڑے بین الاقوامی ایونٹس کے انعقاد اور ہجوم کو سنبھالنے کا وسیع تجربہ حاصل ہے، اس لیے سکیورٹی صورتحال قابو میں ہے۔تاہم ورلڈ کپ سے قبل حالات مکمل طور پر پرسکون نہیں ہیں۔ ہزاروں اساتذہ حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں اور کئی اہم شاہراہوں کو بند کر چکے ہیں۔ تاریخی زوکالو چوک، جہاں شائقین کے لیے فین زون قائم کیا گیا ہے، سکیورٹی حصار میں لے لیا گیا ہے۔صدرکلاؤڈیہ شینبام نے یقین دہانی کرائی ہے کہ افتتاحی تقریب اور میچز پرامن ماحول میں منعقد ہوں گے اور غیر ملکی مہمانوں کے لیے ’’صفر خطرہ‘‘ یقینی بنایا جائے گا۔دوسری جانب فروری میں بدنام منشیات فروش ’’ایل مینچو‘‘ کی ہلاکت کے بعد ملک کے مختلف حصوں میں تشدد، فائرنگ اور شاہراہوں کی بندش نے سکیورٹی اداروں کے لیے نئے چیلنجز پیدا کر دیے تھے۔ ان واقعات میں 60 سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے۔
خصوصی فورسز کے نائب کمانڈر مینول کیبرا کا کہنا ہے کہ سکیورٹی ادارے مکمل طور پر تیار ہیں اور ان کا ہدف یہ ہے کہ 2026 کا ورلڈ کپ تاریخ کے کامیاب ترین ٹورنامنٹس میں شمار ہو۔مبصرین کے مطابق ورلڈ کپ میکسیکو کے لیے نہ صرف ایک بڑا کھیلوں کا ایونٹ ہے بلکہ عالمی سطح پر اپنی سکیورٹی صلاحیتوں اور انتظامی مہارت کو ثابت کرنے کا اہم موقع بھی ہے۔






