تہران، 20 مئی (یو این آئی) ایرانی پاسدارانِ انقلاب گارڈز (آئی آر جی سی) نے امریکہ اور اسرائیل کی ممکنہ عسکری کارروائیوں کے خلاف سخت ترین وارننگ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ایران پر دوبارہ کسی بھی قسم کا حملہ ہوا تو یہ جاری جنگ صرف مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں رہے گی بلکہ خطے سے باہر دور تک پھیل جائے گی۔ ایرانی عسکری قیادت کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں عارضی جنگ بندی کے باوجود شدید تناؤ کا ماحول ہے اور ایران نے اپنی دفاعی پوزیشن کو مزید مضبوط کرنے کا اعلان کیا ہے۔
دوسری جانب، چین میں تعینات ایرانی سفیر عبدالرضا رحمانی فضلی نے تہران اور امریکہ کے مابین جاری سفارتی کوششوں پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا ہے کہ ایران اور امریکہ کے تعلقات ایک انتہائی پیچیدہ اور حساس معاملہ ہیں، لیکن اس کے باوجود چین نے اسلام آباد (پاکستان) کی جانب سے شروع کیے گئے ثالثی عمل میں ایک انتہائی اہم اور کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ ایرانی سفیر کا کہنا تھا کہ بیجنگ عام طور پر تبھی کسی بین الاقوامی ثالثی عمل کا حصہ بننا پسند کرتا ہے جب اسے پسِ پردہ کسی مثبت اور پائیدار نتیجے کی قوی امید ہو۔
ایرانی سفیر عبدالرضا رحمانی فضلی نے مزید واضح کیا کہ موجودہ نازک سفارتی و ثالثی عمل دراصل ایران، پاکستان اور چین کے مابین بہترین تزویراتی تعاون اور مشترکہ کوششوں کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ اس سہ فریقی تعاون کے ذریعے خطے کو کسی بڑی تباہی سے بچانے اور پائیدار امن کے قیام کے لیے مثبت پیش رفت ممکن ہو سکے گی، تاہم تہران کسی بھی جارحیت کی صورت میں اپنے دفاع کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔








