بیجنگ، 5 مئی (یو این آئی) چین کی ایک عدالت نے فیصلہ دیا ہے کہ کسی کمپنی کے لیے اس بہانے کسی ملازم کو برطرف کرنا غیر قانونی ہے کہ اس کی جگہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) پر مبنی سستا متبادل رکھا جا سکتا ہے۔
اس فیصلے کو اے آئی کی وجہ سے بے روزگاری کے بڑھتے ہوئے خدشات کے تناظر میں ملازمین کے حقوق کے لیے ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ چین کے مشرقی صوبے ژی جیانگ کے دارالحکومت ہانگژو میں قائم ایک فِن ٹیک کمپنی کے 35 سالہ ملازم ژو کو اس وقت نوکری سے نکال دیا گیا جب اس نے تنزلی اور تنخواہ میں کمی قبول کرنے سے انکار کیا۔
کمپنی نے اسے بتایا کہ اس کی ذمہ داریوں کو اے آئی کے ذریعے انجام دیا جا سکتا ہے۔ ہانگژو انٹرمیڈیٹ پیپلز کورٹ کے جج شی گوانگ چیانگ نے سرکاری نشریاتی ادارے سی سی ٹی وی کو انٹرویو میں کہا ’’ہم نہیں سمجھتے کہ اے آئی ٹیکنالوجی اس مرحلے تک پہنچ چکی ہے کہ وہ انسانی کارکنوں کو مکمل طور پر بدل سکے۔‘‘ ژو نے لیبر ثالثی کے لیے درخواست دی اور ہر مرحلے پر کامیابی حاصل کی، ثالثی، ٹرائل اور اپیل سب میں عدالت نے اس کے حق میں فیصلہ دیا۔ عدالتوں نے قرار دیا کہ کمپنی نے غیر قانونی طور پر اس کا معاہدہ ختم کیا اور حکم دیا کہ اسے 260,000 یوآن (تقریباً 38,067 امریکی ڈالر) سے زیادہ معاوضہ دیا جائے۔
چینی اے آئی کمپنی ڈیپ سیک کا نیا ماڈل متعارف، خصوصیات کیا ہیں؟ عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ صرف اخراجات کم کرنے کی بنیاد پر کسی ملازم کو ہٹانا ’’حقیقی اور بنیادی حالات میں تبدیلی‘‘ کے زمرے میں نہیں آتا، جو قانونی طور پر برطرفی کی ایک شرط ہوتی ہے۔ یہ اصول عام طور پر انضمام یا بڑی ادارہ جاتی تبدیلیوں پر لاگو ہوتا ہے۔ اسی طرح 2024 میں گوانگژو کی ایک عدالت نے بھی فیصلہ دیا تھا کہ ایک گرافک ڈیزائنر کی اے آئی سے جگہ لینے کو ’’حقیقی حالات میں تبدیلی‘‘ نہیں سمجھا جا سکتا۔ ہانگژو عدالت کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق 2025 میں شہر میں 12,359 لیبر تنازعات سامنے آئے، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 61.7 فی صد زیادہ ہیں، اور ان میں اے آئی سے متعلق کیسز میں اضافہ ہو رہا ہے کیوں کہ شہر کی اے آئی انڈسٹری تیزی سے ترقی کر رہی ہے۔
بین الاقوامی لیبر آرگنائزیشن (آئی ایل او) کی 2025 کی ایک رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں ہر 4 میں سے ایک ملازم کسی نہ کسی حد تک جنریٹو اے آئی سے متاثر ہوا ہے۔ اس تبدیلی کا سب سے زیادہ اثر جونیئر اور ابتدائی سطح کی ملازمتوں پر پڑ رہا ہے۔ گزشتہ سال اسٹینفورڈ کی ایک تحقیق کے مطابق امریکا میں 22 سے 25 سال کے افراد کی وہ ملازمتیں جو اے آئی سے زیادہ متاثر ہیں، جیسے سافٹ ویئر ڈیولپمنٹ اور کسٹمر سپورٹ، 2022 کے بعد سے 13 فی صد تک کم ہو گئی ہیں۔
چین میں یہ مسئلہ خاص طور پر حساس ہے کیوں کہ وہاں نوجوان پہلے ہی روزگار کے دباؤ کا شکار ہیں۔ قومی ادارہ شماریات کے مطابق مارچ میں 16 سے 24 سال کی عمر کے افراد میں بے روزگاری کی شرح 16.9 فی صد رہی، جو فروری میں 16.1 فی صد تھی (طلبہ کو شامل کیے بغیر)۔ 25 سے 29 سال کی عمر کے افراد میں بے روزگاری کی شرح 7.7 فی صد رہی، جب کہ مجموعی شہری بے روزگاری 5.4 فی صد ریکارڈ کی گئی۔








