جموں و کشمیر کی تاریخ میں امن کوئی معمولی یا فطری حالت نہیں رہی، بلکہ یہ ایک طویل، کٹھن اور خون آشام سفر کے بعد حاصل کیا گیا اثاثہ ہے۔ یہی پس منظر ہے جس میں لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کا حالیہ بیان غیر معمولی اہمیت اختیار کر لیتا ہے۔ ان کا یہ کہنا کہ امن، قانون کی حکمرانی اور معصوم شہریوں کی سلامتی کو خطرے میں ڈالنے والوں کو ’بھاری قیمت‘ چکانی ہوگی، دراصل ایک واضح پیغام ہے—کہ اب وہ دور گزر چکا جب چند عناصر پورے معاشرے کو یرغمال بنا لیتے تھے۔
گزشتہ تقریباً چار دہائیوں میں جموں و کشمیر نے جس المیے کا سامنا کیا، وہ صرف اعداد و شمار یا سرکاری رپورٹوں تک محدود نہیں۔ یہ ایک ایسا زخم ہے جو ہر گھر، ہر گاؤں اور ہر شہر کی اجتماعی یادداشت میں نقش ہے۔ پاکستان کی اعانت یافتہ دہشت گردی نے نہ صرف ہزاروں جانیں نگل لیں بلکہ معیشت، تعلیم، سیاحت، صنعت اور سماجی ڈھانچے کو بھی شدید نقصان پہنچایا۔ ایک پوری نسل نے خوف کے سائے میں آنکھ کھولی اور غیر یقینی حالات میں جوانی دیکھی۔
یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ اس طویل عرصے میں کوئی ایسا شعبہ باقی نہیں بچا جو اس بدامنی کی لپیٹ میں نہ آیا ہو۔ تعلیمی ادارے بند رہے، کاروبار ٹھپ ہو گئے، سرمایہ کاری رک گئی اور سیاحت—جو کبھی اس خطے کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی تھی—تقریباً ختم ہو کر رہ گئی۔ اس کے ساتھ ساتھ سماجی ہم آہنگی بھی متاثر ہوئی اور لوگوں کے درمیان عدم اعتماد کی خلیج گہری ہوتی گئی۔
ایسے میں اگر آج جموں و کشمیر ایک نسبتاً پُرامن اور مستحکم دور میں داخل ہو رہا ہے تو یہ محض اتفاق نہیں بلکہ سیکورٹی فورسز، جموں و کشمیر پولیس، اور عام شہریوں کی مشترکہ قربانیوں کا نتیجہ ہے۔
لیفٹیننٹ گورنر کا یہ کہنا بجا ہے کہ جموں و کشمیر پولیس نے ایک دہشت گردی سے پاک اور جرائم سے پاک ماحول کی تشکیل میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ یہ ادارہ نہ صرف قانون نافذ کرنے والا ہے بلکہ عوام کے اعتماد کا بھی محافظ ہے۔
لیکن تاریخ ہمیں یہ بھی سکھاتی ہے کہ امن جتنا مشکل سے حاصل ہوتا ہے، اسے برقرار رکھنا اس سے کہیں زیادہ مشکل ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کسی بھی ایسے عنصر کو، جو اس امن کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کرے، کسی قسم کی رعایت نہیں دی جا سکتی۔ علیحدگی پسندی ہو یا تشدد کو ہوا دینے والی کوئی بھی سوچ—یہ سب نہ صرف ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہیں بلکہ عام شہریوں کے مستقبل کے ساتھ کھلواڑ بھی ہیں۔
یہاں ایک بنیادی حقیقت کو سمجھنا ضروری ہے: امن اور ترقی ایک دوسرے سے جدا نہیں ہو سکتے۔ جہاں بندوق کی گونج ہو، وہاں ترقی کی آواز دب جاتی ہے۔ سرمایہ کار وہاں نہیں آتا جہاں غیر یقینی ہو، سیاح وہاں نہیں جاتے جہاں خوف ہو، اور نوجوان وہاں خواب نہیں دیکھ سکتے جہاں کل کا کوئی بھروسہ نہ ہو۔ اس لیے امن کو برقرار رکھنا صرف ایک سیکورٹی کا مسئلہ نہیں بلکہ ایک معاشی اور سماجی ضرورت بھی ہے۔
آج جموں و کشمیر میں ترقی کے جو آثار نظر آ رہے ہیں—بنیادی ڈھانچے کی بہتری، سیاحت میں اضافہ، نئی سرمایہ کاری، اور نوجوانوں کے لیے مواقع—یہ سب اسی امن کے مرہون منت ہیں۔ اگر اس فضا کو نقصان پہنچتا ہے تو سب سے بڑا نقصان عام آدمی کو ہوگا، جس نے برسوں بعد سکون کا سانس لیا ہے۔
اسی تناظر میں لیفٹیننٹ گورنر کی جانب سے پولیس اہلکاروں کو دیا گیا یہ پیغام بھی قابل غور ہے کہ عوام کا اعتماد سب سے بڑا سرمایہ ہے۔ قانون کا نفاذ محض طاقت کے استعمال سے نہیں بلکہ انصاف، دیانت داری اور ہمدردی سے ہوتا ہے۔ جب عوام کو یہ یقین ہو کہ قانون سب کے لیے یکساں ہے، تبھی حقیقی امن قائم ہوتا ہے۔
جموں و کشمیر کے لیے یہ وقت فیصلہ کن ہے۔ ایک طرف ماضی کی تلخ یادیں ہیں اور دوسری طرف ایک روشن مستقبل کا امکان۔ یہ خطہ اگر اسی رفتار سے ترقی کی راہ پر گامزن رہا تو نہ صرف اپنی تقدیر بدل سکتا ہے بلکہ۲۰۴۷ کے’وکست بھارت‘ کے خواب میں بھی اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ لیکن یہ سب اسی وقت ممکن ہے جب امن کو ہر قیمت پر برقرار رکھا جائے۔
یہ ذمہ داری صرف حکومت یا سیکورٹی اداروں کی نہیں بلکہ ہر شہری کی بھی ہے۔ معاشرے کو تقسیم کرنے والی قوتوں کو مسترد کرنا، افواہوں سے بچنا، اور مثبت سوچ کو فروغ دینا—یہ سب وہ اقدامات ہیں جو ہر فرد اپنے دائرے میں رہ کر کر سکتا ہے۔
یہ ایک حقیقت ہے کہ پاکستان اور اس کے حمایت یافتہ عناصر اپنی حرکات سے باز نہیں آئیں گے ۔ وہ جموںکشمیر میں امن میں رخنہ ڈالنے کی سازشیں کرتے رہیں گے جیسا کہ ہم نے گزشتہ سال بائسرن پہلگام میں دیکھا ۔لیکن مشترکہ کوششوں اور عزم سے ہمسایہ ملک کی ان سازشوں کو ناکام کیا جا سکتا ہے جیسا کہ گزشتہ کچھ برسوں سے ہم کرتے آئے ہیں۔
آخر میں بات وہی آ کر ٹھہرتی ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا:امن کوئی رعایت نہیں بلکہ ایک اجتماعی عہد ہے۔ اس عہد کو توڑنے کی اجازت کسی کو نہیں دی جا سکتی۔ جموں و کشمیر نے بہت کچھ کھویا ہے، اب کھونے کے لیے کچھ باقی نہیں ہونا چاہیے—صرف پانے کا وقت ہے، اور یہ اسی صورت ممکن ہے جب امن کو ہر حال میں مقدم رکھا جائے۔





