ٖڈاکٹرفاروق عبداللہ پر قاتلانہ حملے کے بعد وفاقی وزیر داخلہ کی صدارت میں اجلاس ‘ قومی سلامتی کے مشیر نے بھی شرکت کی
نیشنل سکیورٹی گارڈ بھی اپنے زیرِ تحفظ وی آئی پیز کی سکیورٹی کا جائزہ لے گی‘سرکاری ذرائع کی تصدیق
ویب ڈیسک
سرینگر؍۱۳مارچ
سابق وزیر اعلیٰ جموں و کشمیر فاروق عبداللہ پر قاتلانہ حملے کے بعد مرکزی وزارتِ داخلہ نے مرکزی سکیورٹی حاصل کرنے والے تمام وی آئی پیز کی سکیورٹی کا جامع جائزہ لینے کا فیصلہ کیا ہے۔
حکام نے جمعہ کو یہ معلومات فراہم کیں۔
حکام کے مطابق اگلے ہفتے ہونے والے اس جائزہ اجلاس کا فیصلہ ایک میٹنگ میں کیا گیا جس کی صدارت مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے کی۔ اجلاس میں قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوول، ہوم سیکریٹری گووند موہن، انٹیلی جنس بیورو کے ڈائریکٹر تپن ڈیکا اور وزارتِ داخلہ کے وی آئی پی سکیورٹی ونگ کے سینئر افسران نے بھی شرکت کی۔
مرکزی سکیورٹی کے تحت وی آئی پیز کو سی آر پی ایف، سی آئی ایس ایف، این ایس جی اور آئی ٹی بی پی جیسی نیم فوجی فورسز کے ذریعے تحفظ فراہم کیا جاتا ہے۔
حکام نے بتایا کہ یہ جائزہ اس لیے بھی اہم ہے کیونکہ جلد ہی آسام، مغربی بنگال، تمل ناڈو، کیرالہ اور پڈوچیری میں اسمبلی انتخابات ہونے والے ہیں، جس کے باعث کئی سیاسی شخصیات کو مختلف علاقوں میں سفر کرنا ہوگا۔
مرکزی فہرست میں مختلف سکیورٹی زمروں کے تحت تقریباً۴۰۰وی آئی پیز شامل ہیں، جن میں سے تقریباً۲۲۰ کو سی آر پی ایف‘۱۵۶کو سی آئی ایس ایف‘۹کو این ایس جی جبکہ چند کو آئی ٹی بی پی سکیورٹی فراہم کرتی ہے۔
پی ٹی آئی کی رپورٹ کے مطابق نیشنل سکیورٹی گارڈ (این ایس جی) بھی اپنے زیرِ تحفظ وی آئی پیز کی سکیورٹی کا جائزہ لے گی۔ این ایس جی فاروق عبداللہ کو اعلیٰ ترین زیڈ پلس سکیورٹی فراہم کرتی ہے۔
بدھ کی رات فاروق عبداللہ اس وقت بال بال بچ گئے جب وہ جموں میں ایک شادی کی تقریب سے نکل رہے تھے اور ایک مسلح شخص نے پیچھے سے ان پر فائرنگ کی۔ تقریب کی سی سی ٹی وی فوٹیج میں دیکھا گیا کہ ایک پولیس اہلکار اور این ایس جی کمانڈو نے حملہ آور کو روک لیا جبکہ ایک اور کمانڈو اور دیگر اہلکاروں نے اسے قابو کر لیا۔ اس کے بعد سکیورٹی ٹیم نے فوراً عبداللہ کو وہاں سے محفوظ مقام پر منتقل کر دیا۔
اس معاملے پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے راجیہ سبھا میں قائدِ ایوان اور مرکزی وزیر جے پی نڈا نے کہا کہ حکومت عبداللہ کی سکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے تمام ضروری اقدامات کرے گی۔ انہوں نے کہا ’’یہ قاتلانہ حملہ انتہائی تشویشناک اور سنگین معاملہ ہے اور حکومت ہند اسے بہت سنجیدگی سے لے رہی ہے‘‘۔انہوں نے یقین دلایا کہ واقعے کی مکمل تحقیقات کی جائیں گی اور گرفتار کیے گئے ملزم کے محرکات کا بھی پتہ لگایا جائے گا۔
تاہم نڈا نے کہا کہ اس معاملے کو سیاسی رنگ دینا درست نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ کہنا کہ یہ واقعہ جموں و کشمیر کو ریاستی درجہ نہ ملنے کی وجہ سے ہوا یا اس کے پیچھے کسی سازش کا الزام لگانا قابل مذمت ہے۔
ادھر نیشنل کانفرنس کے رکن پارلیمنٹ چودھری محمد رمضان نے الزام لگایا کہ حملے کے وقت فاروق عبداللہ کے ساتھ پولیس کا مناسب سکیورٹی انتظام نہیں تھا اور انہوں نے سابق وزیر اعلیٰ کی سکیورٹی مزید بڑھانے کا مطالبہ کیا۔










