ممبئی، 12 مارچ (یواین آئی ) کرکٹ کنٹرول بورڈ (بی سی سی آئی) نے انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) کے آئندہ سیزن کے لیے نیٹ پریکٹس اور مشقوں کے حوالے سے سخت اور نئے رہنما اصول ( گائڈ لائن ) جاری کر دیے ہیں۔ ان نئے ضوابط کا مقصد پچوں کے معیار کو برقرار رکھنا اور ٹیموں کے درمیان پریکٹس سیشن کے دوران ہونے والے ممکنہ تنازعات کو ختم کرنا ہے۔
کوئی بھی ٹیم اس نیٹ یا پچ پر پریکٹس نہیں کر سکے گی جو کسی دوسری ٹیم نے پہلے استعمال کی ہو۔ ہر ٹیم کو ان کے طے شدہ سیشن کے لیے بالکل نئے نیٹس فراہم کیے جائیں گے۔
یہاں تک کہ تھرو ڈاؤن کے لیے بھی دوسری ٹیم کے نیٹس استعمال کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔
اگر کوئی ٹیم اپنا سیشن وقت سے پہلے ختم کر لیتی ہے، تب بھی دوسری ٹیم کو ان کے ‘رینج ہٹنگ’ وکٹس استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
بی سی سی آئی نے ٹیموں کو فلڈ لائٹس میں پریکٹس میچ کھیلنے کی مشروط اجازت دی ہے۔
کوئی بھی پریکٹس میچ ساڑھے تین گھنٹے سے زیادہ طویل نہیں ہونا چاہیے۔ ٹیمیں بی سی سی آئی کی پیشگی اجازت سے زیادہ سے زیادہ دو پریکٹس میچز کھیل سکتی ہیں۔ یہ میچ مین اسکوائرکی سائیڈ وکٹ پر ہوں گے، مرکزی پچ کے استعمال پر مکمل پابندی ہوگی۔
سیزن کے پہلے ہوم میچ سے چار دن قبل مین اسکوائر پر کسی بھی قسم کی پریکٹس یا میچ کی اجازت نہیں ہوگی تاکہ پچ کو مکمل طور پر تیار کیا جا سکے۔ شیڈولنگ کے معاملے میں میزبان ٹیم کو اپنی پسند کا وقت منتخب کرنے کی پہلی ترجیح حاصل ہوگی، تاہم مہمان ٹیم کی سفری مصروفیات اور گزشتہ میچ کی تھکن کو مدنظر رکھتے ہوئے ان کی درخواست پر بھی غور کیا جائے گا۔ اگر مین گراؤنڈ دستیاب نہ ہو تو اسٹیٹ ایسوسی ایشنز میزبان ٹیم کو بلامعاوضہ متبادل گراؤنڈ فراہم کرنے کی پابند ہوں گی۔
اگر ہوم اور مہمان ٹیمیں ایک ہی وقت پر پریکٹس کرنا چاہیں اور معاملہ حل نہ ہو، تو بی سی سی آئی مداخلت کرے گا۔ بورڈ دونوں ٹیموں کے مینیجرز سے بات چیت کے ذریعے سیشن شیئر کرنے یا وقت تبدیل کرنے کی کوشش کرے گا۔








