کشمیر کی اردو صحافت ایک ایسے عہد ساز نام سے محروم ہو گئی ہے جس نے نہ صرف قلم کے ذریعے اپنے دور کی گواہی دی بلکہ صحافت کو ایک ذمہ دارانہ مشن کے طور پر زندہ رکھنے کی جدوجہد بھی کی۔ سینئر کشمیری صحافی اور روزنامہ ندائے مشرق کے بانی چیف ایڈیٹر عبدالرشید شاہ کی وفات سے وادی کی صحافتی برادری ایک ایسے باوقار اور متوازن آواز سے محروم ہو گئی ہے جس نے کئی دہائیوں تک کشمیر کی سیاسی، سماجی اور انسانی کہانیوں کو اپنے قلم کے ذریعے محفوظ کیا۔
ان کا انتقال اگرچہ ایک فطری حقیقت ہے، مگر اس کے ساتھ ہی کشمیر کی اردو صحافت کا ایک ایسا باب بند ہو گیا ہے جس میں استقامت، سنجیدگی اور پیشہ ورانہ دیانت کی روشن مثالیں موجود ہیں۔ ان کی شخصیت اور خدمات کا جائزہ لیا جائے تو یہ واضح ہوتا ہے کہ وہ محض ایک مدیر یا صحافی نہیں تھے بلکہ ایک ایسے مبصر تھے جو اپنے معاشرے کی نبض کو سمجھتے تھے اور اس کی ترجمانی کو اپنا فرض سمجھتے تھے۔
عبدالرشید شاہ جون۱۹۴۸میں سرینگر کے قدیم علاقے حبہ کدل کے چنکرال محلہ میں پیدا ہوئے۔ یہ وہ خطہ ہے جہاں کشمیر کی تہذیبی اور فکری روایتیں صدیوں سے پروان چڑھتی رہی ہیں۔ اسی ماحول نے شاید ان کی شخصیت میں فکری سنجیدگی اور سماجی شعور کو جلا بخشی۔ انہوں نے اپنے پیشہ ورانہ سفر کا آغاز ریاستی محکمہ اطلاعات سے کیا جہاں وہ سرکاری ملازمت کے ذریعے اطلاعاتی نظام سے وابستہ رہے۔ تاہم ان کے اندر موجود صحافتی جذبہ انہیں ایک وسیع تر میدان کی طرف لے گیا۔
سنہ ۱۹۹۲یں انہوں نے سرکاری ملازمت کو خیر باد کہا اور روزنامہ ندائے مشرق کی بنیاد رکھی۔ یہ وہ دور تھا جب کشمیر سیاسی اور سماجی ہلچل کے ایک نہایت حساس مرحلے سے گزر رہا تھا۔ اس ماحول میں ایک نیا اخبار شروع کرنا نہ صرف ایک مشکل فیصلہ تھا بلکہ ایک بڑی ذمہ داری بھی تھی۔ محدود وسائل اور بے شمار چیلنجوں کے باوجود عبدالرشید شاہ نے اس اخبار کو محض ایک اشاعتی ادارہ نہیں بلکہ ایک سنجیدہ صحافتی پلیٹ فارم بنانے کی کوشش کی۔ وقت کے ساتھ ساتھ ندائے مشرق نے سرینگر کی اردو صحافت میں اپنی الگ پہچان قائم کر لی اور قارئین کے درمیان ایک معتبر آواز کے طور پر ابھرا۔
ان کی صحافتی زندگی کی ایک نمایاں خصوصیت ان کے ہاتھ سے تحریر کردہ اداریے تھے۔ ان اداریوں میں محض خبری تجزیہ نہیں ہوتا تھا بلکہ کشمیر کے عوام کے جذبات، خدشات اور امیدوں کی جھلک بھی دکھائی دیتی تھی۔ وہ اپنے قلم کے ذریعے حالات کا ایسا تجزیہ پیش کرتے تھے جو نہ تو جذباتی نعروں پر مبنی ہوتا تھا اور نہ ہی کسی مخصوص نظریاتی تعصب سے متاثر۔ ان کے اداریوں میں ایک متوازن نقطہ نظر اور گہری بصیرت دکھائی دیتی تھی، جو انہیں دیگر مدیران سے ممتاز بناتی تھی۔
۱۹۹۰ کی دہائی سے لے کر ۲۰۱۰ تک کا زمانہ کشمیر میں صحافت کے لیے ایک نہایت مشکل دور تھا۔ اس عرصے میں صحافیوں کو نہ صرف پیشہ ورانہ دباؤ بلکہ جان کے خطرات کا بھی سامنا کرنا پڑتا تھا۔ ایسے ماحول میں صحافت کو معتدل اور ذمہ دارانہ انداز میں جاری رکھنا کسی بڑے حوصلے اور عزم کا تقاضا کرتا تھا۔ عبدالرشید شاہ نے انہی حالات میں ندائے مشرق کو ایک معتبر، معتدل اور غیر جانب دار آواز بنانے میں جو کامیابی حاصل کی وہ واقعی قابل تحسین ہے۔
ان کے صحافتی سفر میں آزمائشیں بھی آئیں۔ سنہ۱۹۹۵میں سرینگر کے پریس انکلیو سے تین صحافیوں کے اغوا کا واقعہ کشمیر کی صحافتی تاریخ کا ایک دردناک باب ہے۔ عبدالرشید شاہ بھی ان صحافیوں میں شامل تھے جنہیں اس وقت کی حکومتی حمایت یافتہ ملیشیا اخوان المسلمون کے ہاتھوں اغوا کیا گیا تھا۔ اس واقعے نے نہ صرف ان کی ذاتی زندگی کو متاثر کیا بلکہ پورے صحافتی حلقے کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ تاہم ان مشکلات کے باوجود انہوں نے اپنے پیشہ ورانہ عزم کو کمزور نہیں ہونے دیا اور صحافت کے میدان میں اپنا کردار جاری رکھا۔
ان کی صحافتی شناخت صرف کشمیر تک محدود نہیں رہی۔ اپریل ۲۰۰۱میں وہ اس میڈیا وفد کا حصہ تھے جو اس وقت کے وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی کے سرکاری دورۂ ایران کے دوران ان کے ہمراہ تھا۔ اس موقع پر انہوں نے بین الاقوامی سطح پر کشمیری پریس کی نمائندگی کی۔ یہ اس بات کا ثبوت تھا کہ وہ نہ صرف مقامی صحافتی حلقوں میں بلکہ قومی سطح پر بھی ایک معتبر صحافی کے طور پر پہچانے جاتے تھے۔
عبدالرشید شاہ کی زندگی کا ایک اور اہم پہلو ان کی سادگی اور پیشہ ورانہ دیانت تھا۔ وہ صحافت کو محض ایک ذریعہ معاش نہیں بلکہ ایک سماجی ذمہ داری سمجھتے تھے۔ ان کے نزدیک صحافت کا اصل مقصد معاشرے کے مسائل کو اجاگر کرنا، عوام کی آواز کو سامنے لانا اور حالات کا غیر جانب دارانہ تجزیہ پیش کرنا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی تحریریں ہمیشہ سنجیدہ اور ذمہ دارانہ انداز کی حامل ہوتی تھیں۔
وقت کے ساتھ میڈیا کا منظرنامہ بدلتا گیا۔ ڈیجیٹل دور کی آمد اور بڑے میڈیا اداروں کے پھیلاؤ نے چھوٹے اخبارات کے لیے نئے چیلنج پیدا کیے۔ اس کے باوجود عبدالرشید شاہ نے ندائے مشرق کو جاری رکھنے کی کوشش کی اور اپنی زندگی کے آخری برسوں تک اس کی رہنمائی کرتے رہے۔ ان کے بیٹے ہارون رشید بھی اس اخبار سے وابستہ ہیں اور اس ادارے کو آگے بڑھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
صحافی، دانشور اور سماجی کارکن انہیں ایک ایسے مدیر کے طور پر یاد کر رہے ہیں جس نے مشکل ترین حالات میں بھی قلم کی حرمت کو برقرار رکھا۔ ان کی زندگی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ صحافت کا اصل جوہر سچائی، توازن اور سماجی ذمہ داری میں پوشیدہ ہے۔
کشمیر کی اردو صحافت میں عبدالرشید شاہ کا نام ہمیشہ احترام کے ساتھ لیا جائے گا۔ انہوں نے اپنے قلم سے نہ صرف حالات کی عکاسی کی بلکہ ایک ایسے صحافتی معیار کو بھی قائم کیا جس کی پیروی آنے والی نسلوں کے لیے ایک مثال بن سکتی ہے۔
ندائے مشرق اپنے اس اداریہ کے ذریعے اپنے قارئین کو یقین دلاتا ہے کہ عبدالرشید شاہ کے اس مشن کو جاری رکھا جائے گا۔ انہوں نے جو شمع جلائی ہے اسے فروزاں رکھا جائے گا اور اس روایت کو آگے بڑھایا جائے گا جس کی بنیاد انہوں نے اپنی محنت، دیانت اور فکری بصیرت سے رکھی تھی۔
ان کی وفات ایک خلا ضرور چھوڑ گئی ہے، لیکن ان کی تحریریں، ان کا انداز فکر اور صحافت کے لیے ان کی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔ یہی ان کے لیے سب سے بڑا خراجِ عقیدت بھی ہے اور صحافت کے اس مشن کو جاری رکھنے کا عزم بھی۔





