موبائل انٹر نیٹ کی رفتار بدستور محدود ‘اضافی تعیناتی بھی برقرار
(ویب ڈیسک)
سرینگر؍۴مارچ
ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی ہلاکت کے بعد جمعرات کو بھی مسلسل چوتھے روز کشمیر کے حساس علاقوں میں امتناعی احکامات اور پابندیاں برقرار رہیں گی۔
ذرائع نے بتایا کہ فیصلے کا مقصد امن و قانون کی صورتحال کو برقرار رکھنا اور کسی بھی ناخوشگوار واقعے کو روکنا ہے کیونکہ انتظامیہ اب بھی مجموعی حالات کا باریک بینی سے جائزہ لے رہی ہے۔
ایک سینئر سکیورٹی افسر نے بتایا کہ بدھ کے روز مجموعی صورتحال پُرسکون رہی، تاہم احتیاطی اقدامات کے طور پر پابندیوں میں نرمی نہ کرنے کا فیصلہ لیا گیا ہے۔
افسر نے مزید کہا کہ حساس علاقوں میں اضافی فورسز کو تعینات رکھا گیا ہے جبکہ سڑکوں اور چوکوں پر نگرانی میں اضافہ کیا گیا ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ احتجاج کو بروقت روکا جا سکے۔ ان کے مطابق، پابندیوں کا مقصد عوام کی نقل و حرکت کو بلا وجہ محدود کرنا نہیں بلکہ پُرامن ماحول کو یقینی بنانا ہے۔
انتظامیہ سے وابستہ عہدیداروں نے اس بات کی تصدیق کی کہ صورتحال پر لمحہ بہ لمحہ نظر رکھی جا رہی ہے اور حالات بہتر ہونے کی صورت میں مناسب فیصلے کیے جائیں گے۔ انہوں نے لوگوں سے اپیل کی کہ افواہوں پر کان نہ دھریں اور صرف سرکاری ذرائع سے تصدیق شدہ معلومات پر ہی بھروسہ کریں۔
دریں اثنا بدھ کو تیسرے روز بھی کچھ حساس علاقوں میں پابندیاں نافذ رہیں ۔
حکام نے کہا کہ شیعہ برادری کی جانب سے مسلسل احتجاجی اجتماعات کے خدشے کے باعث حساس علاقوں میں الرٹ بدستور برقرار رکھا گیا ہے۔
شہر کے مصروف ترین مرکز لال چوک، گھنٹہ گھر، ریگل چوک اور ملحقہ مارکیٹوں میں پولیس اور سی آر پی ایف کی اضافی نفری تعینات رہی۔ کئی اہم چوراہوں پر رکاوٹیں نصب ہونے کی وجہ سے عام لوگوں کی آمدورفت محدود رہی، جبکہ شہر میں داخل ہونے والے مقامات پر خصوصی چیکنگ پوائنٹس قائم کیے گئے جہاں گاڑیوں اور پیدل چلنے والوں کی سخت تلاشی لی جا رہی تھی۔
ایک سینئر پولیس افسر نے بتایا کہ’احتجاج کے خدشات کو مدنظر رکھتے ہوئے وادی کے تمام حساس مقامات پر سیکورٹی مزید بڑھا دی گئی ہے۔
صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے اور کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے نمٹنے کے لیے فورسز مکمل الرٹ ہیں۔‘ ان کے بقول سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی افواہوں کو روکنے کے لیے سائبر نگرانی بھی سخت کر دی گئی ہے۔
سرینگر کے سعیدہ کدل، حسن آباد، شہید گنج، بمنہ، بڈگام، ماگام، گاندربل اور پلوامہ—میں بھی بدھ کو بھاری سیکورٹی تعیناتی دیکھنے میں آئی، جہاں ایک روز قبل ماتمی جلوس نکالے گئے تھے۔ مقامی لوگوں کے مطابق ان علاقوں میں چوکسی معمول سے کہیں زیادہ رہی، جبکہ پولیس اور فورسز کے گشت میں بھی اضافہ کیا گیا۔
انتظامیہ نے شہریوں سے اپیل کی کہ وہ امن و امان برقرار رکھیں، افواہوں پر یقین نہ کریں اور ضرورت کی صورت میں پہلے سے تصدیق شدہ معلومات پر ہی انحصار کریں۔ ساتھ ہی کہا گیا کہ یہ تمام اقدامات احتیاطی نوعیت کے ہیں اور حالات کو پوری طرح معمول پر لانے تک جاری رہیں گے۔










