ویب ڈیسک
نئی دہلی؍۳مارچ
ایران کے شہر ارومیہ میں اپنے ہاسٹل سے محض۳۰۰میٹر کے فاصلے پر ہونے والے ایک دھماکے کے بعد بھارتی طلبہ شدید خوف میں مبتلا ہیں۔
سرینگر سے تعلق رکھنے والے ایک کشمیری میڈیکل طالب علم نے منگل کو پی ٹی آئی کو بتایا کہ خطے میں کشیدگی کے دوران حملے مسلسل جاری ہیں۔
ارومیہ یونیورسٹی آف میڈیکل سائنسز میں ایم بی بی ایس کے فائنل ایئر کے طالب علم لبیب قادری نے کہا کہ گزشتہ چند دنوں سے صورتحال انتہائی خراب ہے۔انہوں نے فون پر بتایا’’گزشتہ چند دنوں سے حالات بالکل بھی اچھے نہیں ہیں۔ یہاں ارومیہ میں مسلسل حملے ہو رہے ہیں۔ تقریباً ایک گھنٹہ پہلے ہمارے ہاسٹل سے صرف۳۰۰ میٹر کے فاصلے پر ایک دھماکہ ہوا ہے‘‘۔
قادری نے کہا کہ اسی روز اس سے قبل بھی ان کے ہاسٹل کے باہر ایک حملہ ہوا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ شہر کے مرکز میں واقع ہاسٹلوں میں اس وقت تقریباً۱۱۰ بھارتی طلبہ قریب۵۰ لڑکے اور اتنی ہی تعداد میں لڑکیاں مقیم ہیں۔
انہوں نے کہا’’سب پوچھتے ہیں کہ جب ایڈوائزری جاری ہوئی تو ہم ایران سے کیوں نہیں نکلے، لیکن زیادہ تر طلبہ کے ٹکٹ۲۸ فروری اور۶مارچ کے تھے۔ ایران سے بھارت کے لیے ہفتے میں صرف ایک یا دو پروازیں ہوتی ہیں، اس لیے ہم پہلے نہیں جا سکے‘‘۔
قادری نے مزید کہا کہ کئی طلبہ کو امید تھی کہ سفارتی مذاکرات جاری ہونے کی وجہ سے حالات بہتر ہو جائیں گے۔’’چونکہ بات چیت جاری تھی، ہمیں لگا کہ سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا۔ لیکن اب ہم یہاں پھنس چکے ہیں اور ہمیں سمجھ نہیں آ رہا کہ کیا کریں‘‘۔
ایک اور طالب علم موسیٰ رؤف نے کہا کہ ہاسٹل کے قریب حملے نے طلبہ کو شدید ذہنی صدمے سے دوچار کر دیا ہے۔انہوں نے کہا’’ہم سفارت خانے سے اپیل کرتے ہیں کہ کسی بھی ممکنہ طریقے سے ہمیں جلد از جلد نکالا جائے۔ صورتحال تیزی سے بگڑی ہے… اس لیے ہمارے لیے پہلے نکلنا ممکن نہیں تھا‘‘۔
رؤف نے کہا کہ پروازوں کی کمی کی وجہ سے وہ بروقت روانہ نہیں ہو سکے۔ان کا کہنا تھا’’ہم بھارتی سفارت خانے سے درخواست کرتے ہیں کہ اگر ممکن ہو تو ہمیں آرمینیا منتقل کیا جائے، کیونکہ ہمارے لیے وہاں پہنچنا زیادہ محفوظ آپشن ہوگا‘‘۔
یہ تنازع گزشتہ ہفتے ہفتہ کے روز امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر مربوط فضائی حملوں سے شروع ہوا، جس میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای ہلاک ہو گئے۔ اس کے بعد سے خطے میں حملوں اور جوابی حملوں میں شدت آ گئی ہے۔
قادری نے کہا کہ طلبہ اب بھارتی سفارت خانے کی ہدایات پر انحصار کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا ’’ابھی انہوں نے ہمیں بتایا ہے کہ نکلنے کا کوئی ممکنہ راستہ نہیں، اس لیے بہتر ہے کہ اندر ہی رہیں۔ سفارت خانہ جو بھی کہے گا، ہم اسی پر عمل کریں گے‘‘۔
دریں اثنا، وزارتِ خارجہ (ایم ای اے) نے کہا ہے کہ خطے میں بھارتی مشنز بھارتی شہریوں سے مسلسل رابطے میں ہیں اور ہیلپ لائنز فعال کر دی گئی ہیں۔
جموں و کشمیر اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن (جے کے ایس اے) نے وزیر خارجہ ایس جے شنکر اور وزارتِ خارجہ سے اپیل کی ہے کہ مکمل انخلا ممکن ہونے تک ایران میں بھارتی طلبہ کو کسی محفوظ مقام پر منتقل کرنے کا بندوبست کیا جائے۔
ایسوسی ایشن کے قومی کنوینر ناصر خوہامی نے کہا’’ہم گھبراہٹ میں فیصلوں کا مطالبہ نہیں کر رہے بلکہ حفاظتی اور پیشگی اقدامات کی درخواست کر رہے ہیں۔ یہ طلبہ مسلسل خوف کے سائے میں زندگی گزار رہے ہیں۔ صورتحال مزید بگڑنے سے پہلے انہیں ایران کے اندر ہی محفوظ علاقوں میں فوری طور پر منتقل کرنا ضروری ہے۔‘‘ (ایجنسیاں)










