جموں: بی جے پی لیڈر اور جموں وکشمیر اسمبلی میں لیڈر آف اپوزیشن سنیل شرما کا کہنا ہے کہ ریاستی درجے کی بحالی بی جے پی کا مدعا ہے اور پارٹی اس کو دے کر ہی رہے گی۔ ان کا الزام تھا کہ نیشنل کانفرنس اس مطالبے کو لے کر ڈرامہ بازی کر رہی ہے۔
شرما نے ان باتوں کا اظہار بدھ کو یہاں نامہ نگاروں کے ساتھ بات کرنے کے دوران کیا۔ انہوں نے کہا’’نیشنل کانفرنس کا ریاستی درجے پر اسمبلی کے باہر احتجاج ایک ڈھونگ تھا، وہ دل سے ریاستی درجہ نہیں چاہتے ہیں‘‘۔ ان کا کہناتھا’’نیشنل کانفرنس کا بڑا مطالبہ تھا کہ ان کے مشیر کو کابینہ کا درجہ ملے وہ ان کو مل گیا‘‘۔
حزب اختلاف کے لیڈر نے کہا کہ ریاستی درجہ بی جے پی کا مدعا ہے اور بی جے پی اس کو دے کر ہی رہے گی۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ مرکز نے جموں و کشمیر کو باز آباد کاری کیلئے۱۴۳۰ کروڑ روپیے دئے جس کا وزیر اعلیٰ نے مرکز کا شکریہ ادا کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ مرکز نے بطور ایس ڈی آر ایف ریلیف ۲و کروڑ روپیے فوری طور دئے۔
دریں اثنا نیشنل کانفرنس کے ترجمان اعلیٰ اور رکن اسمبلی تنویر صادق کا کہنا ہے کہ جموں وکشمیر کے لوگوں کو در پیش مشکلات کے ازالے کے لئے ریاستی درجہ بحال کیا جانا چاہئے۔انہوں نے کہا کہ مناسب وقت آگیا ہے کہ اب ریاستی درجہ بحال کیا جائے۔
ترجمان اعلیٰ نے ان باتوں کا اظہار بدھ کو یہاں نامہ نگاروں کے ساتھ بات کرنے کے دوران کیا۔انہوں نے کہا’’جو وزیر داخلہ امیت شاہ صاحب نے ہم سے وعدہ کیا ہے کہ مناسب وقت آنے پر ریاستی درجہ بحال کیا جائے گا مجھے لگتا ہے کہ وہ مناسب وقت آگیا ہے اور اب وعدہ پورا کیا جانا چاہئے‘‘۔
ان کا کہنا تھا’’جموں وکشمیر کے لوگوں کو بہت سارے مشکلات کا سامنا ہے ان کے ازالے کے لئے ریاستی درجہ بحال ہونا چاہئے‘‘۔
کشمیریوں کی باہر کی ریاستوں میں مبینہ ہراسانی کے متعلق بات کرتے ہوئے تنویر صادق نے کہا’’مجھے لگتا ہے کہ مختلف ریاستوں میں کشمیریوں کو ہراساں کرنا اب ایک فیشن بن گیا ہے‘‘۔انہوں نے وزیر داخلہ سے ان ریاستوں میں ایک ایڈوائزری جاری کرنے کی گذارش کی تاکہ کشمیریوں کو ہراساں کرنے کا سلسلہ بند ہوجائے۔
ایک اور سوال کا جواب دیتے ہوئے ان کا کہنا تھاؔ’’اگر جموں وکشمیر میں حالات ٹھیک ہیں تو ریاستی درجہ بحال کیا جانا چاہئے۔‘‘










