جموں: جموں و کشمیر ڈائریکٹوریٹ آف فائر اینڈ ایمرجنسی سروسز اس وقت تقریباً۴۱فیصد افرادی قوت کی قلت سے دوچار ہے۔ آر ٹی آئی کے ذریعے حاصل شدہ معلومات کے مطابق، محکمے میں منظور شدہ۳۶۳۹آسامیوں کے مقابلے میں۱۴۹۰ عہدے خالی ہیں۔
ان خالی آسامیوں میں سے۱۰۳عہدے۱۵ دسمبر گزشتہ سال ملازمین کی برطرفی کے بعد خالی ہوئے، جب پانچ سال قبل ہونے والی بھرتیوں میں بے ضابطگیوں کا انکشاف ہوا۔
محکمۂ فائر اینڈ ایمرجنسی سروسز نے جموں کے آر ٹی آئی کارکن‘ رمن کمار شرما کو تحریری جواب میں بتایا’’اس وقت محکمے میں۲۱۴۹؍اہلکار خدمات انجام دے رہے ہیں۔ خالی آسامیاں گزٹیڈ اور نان گزٹیڈ دونوں زمروں میں، براہِ راست بھرتی اور ترقی کے کوٹہ کے تحت موجود ہیں۔ اس معاملے کو انتظامی محکمے کے ساتھ اٹھایا گیا ہے‘‘۔
پی ٹی آئی سے بات کرتے ہوئے رمن کمار شرما نے کہا کہ جموں و کشمیر میں فائر اینڈ ایمرجنسی سروسز کا محکمہ اپنی منظور شدہ قوت کا محض۵۹فیصد کے ساتھ کام کر رہا ہے۔انہوں نے کہا’’یہ کمی ایک ایمرجنسی رسپانس محکمے کے لیے نہایت تشویشناک ہے، خاص طور پر اس لیے کہ گزشتہ دس برسوں میں یونین ٹیریٹری بھر میں۵۰ہزار سے زائد بڑے اور چھوٹے آتش زدگی کے واقعات پیش آئے ہیں‘‘۔
اعداد و شمار کے مطابق، آپریشنل کیڈر سب سے زیادہ متاثر ہیں۔ فائر مین اور فائر مین ڈرائیورز کی۱۶۱۹منظور شدہ آسامیوں میں سے صرف۸۰۴پُر ہیں، جبکہ۸۱۵ آسامیاں یعنی نصف سے زیادہ خالی ہیں، جس سے محکمے کی ہنگامی ردِعمل صلاحیت پر سنجیدہ سوالات کھڑے ہو گئے ہیں۔
سینئر اور نگران عہدوں پر بھی شدید قلت پائی جاتی ہے۔
جوائنٹ ڈائریکٹر کے دونوں عہدے، ڈپٹی ڈائریکٹر کی تمام چھ آسامیاں، اور اسسٹنٹ ڈائریکٹر کی۱۶میں سے۸آسامیاں خالی ہیں۔ اس کے علاوہ محکمہ میں کوئی پراسیکیوشن آفیسر موجود نہیں، جبکہ ٹیلی فون آپریٹر کے تمام۱۲عہدے، پانچ ریڈیو مکینکس اور تین آر ٹی ایم آپریٹرز کی آسامیاں بھی خالی پڑی ہیں۔
دیگر خالی آسامیوں میں۲۳ڈویژنل فائر آفیسرز،۴۴؍ اسٹیشن آفیسرز‘۳۲لیڈنگ فائر مین‘۷۲فائر مین اور ایک ایڈمنسٹریٹو آفیسر شامل ہیں۔
ڈرائیورز(۳۱۴)اور سب آفیسرز(۹۰)کے عہدے بھی خالی آسامیوں کے اعتبار سے دوسرے نمبر پر ہیں۔ اس کے علاوہ، طبی اور اکاؤنٹس جیسے ضروری معاون عملے کے متعدد عہدے بھی تاحال پُر نہیں ہو سکے۔
۱۵ دسمبر۲۰۲۵کو جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے محکمے کے۱۰۳ ملازمین کو برطرف کر دیا تھا، جب یہ ثابت ہوا کہ پانچ سال قبل انہیں ایک من گھڑت اور مشکوک بھرتی عمل کے ذریعے غیر قانونی طور پر تعینات کیا گیا تھا۔
یہ کارروائی ایک انکوائری کمیٹی کی رپورٹ اور محکمہ کے فائر مینوں اور ڈرائیورز کی۲۰۲۰کی بھرتیوں میں مبینہ بے ضابطگیوں کے حوالے سے اینٹی کرپشن بیوروکی تحقیقات کے بعد عمل میں آئی۔
ایک اور سوال کے جواب میں، محکمہ نے بتایا کہ۲۰۱۵سے۲۰۲۵کے درمیان جموں و کشمیر میں۳ہزار۴۹۰بڑے اور۴۸ہزار۸۶۹چھوٹے آتش زدگی کے واقعات پیش آئے۔
بڑے آتش زدگی کے واقعات میں جموں سب سے آگے رہا، جہاں۶۳۷واقعات رپورٹ ہوئے، اس کے بعد سری نگر(۵۸۱)‘بڈگام(۴۸۲)‘گاندربل(
چھوٹے آتش زدگی کے واقعات میں بھی جموں سرفہرست رہا، جہاں 12,276 واقعات پیش آئے، اس کے بعد سری نگر (5,119)، بارہمولہ (4,493)، کپواڑہ (3,849)، اننت ناگ (3,319)، سامبا (2,856)، پلوامہ (2,431)، کٹھوعہ (2,358)، بڈگام (1,881)، کولگام (1,555)، شوپیاں (1,282)، اودھم پور (1,240)، راجوری (1,234)، ڈوڈہ (1,181)، پونچھ (950)، ریاسی (870)، رام بن (629)، بانڈی پورہ (600)، کشتواڑ (583) اور گاندربل (163) شامل ہیں۔
آر ٹی آئی کارکن نے کہا کہ فائر اینڈ ایمرجنسی سروسز کا محکمہ پورے یونین ٹیریٹری کے لیے نہایت اہم ہے اور اسے مضبوط بنانا ناگزیر ہے، خاص طور پر دور دراز اور پہاڑی علاقوں میں، جو سردیوں کے دوران اکثر منقطع ہو جاتے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ آپریشن سندور کے دوران بھی محکمہ نے اہم کردار ادا کیا اور سرحد پار گولہ باری کے دوران ہنگامی حالات سے مؤثر طور پر نمٹا۔
ان کے مطابق، محکمے کو مضبوط بنانا ردِعمل کے وقت کو بہتر بنانے، تیاری کی سطح بڑھانے اور جموں و کشمیر کے خطرے سے دوچار علاقوں میں ضروری خدمات فراہم کرنے کے لیے ناگزیر ہے۔










