سرینگر: اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں ایک سخت لہجے کے جواب میں بھارت نے کہا ہے کہ پاکستان کی جانب سے ریاستی پالیسی کے طور پر دہشت گردی کے مسلسل استعمال کو برداشت کرنا کسی طور معمول کی بات نہیں۔
نئی دہلی نے یہ ردعمل پاکستان کے مندوب کی جانب سے آپریشن سندور سے متعلق پیش کی گئی ایک ’جھوٹی اور خود غرضانہ‘ تصویر کے جواب میں دیا۔
اقوامِ متحدہ میں بھارت کے مستقل مندوب، سفیر پروتھانیینی ہریش نے، پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد کے بیانات پر سخت ردعمل دیا۔
احمد نے پیر کے روز اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں ’بین الاقوامی قانون کی بالادستی کی توثیق:امن، انصاف اور کثیرالجہتی نظام کو نئی روح دینے کے راستے‘ کے عنوان سے ہونے والی کھلی بحث کے دوران آپریشن سندور، جموں و کشمیر اور سندھ طاس معاہدے کا حوالہ دیا تھا۔
ہریش نے کہا کہ سلامتی کونسل کا منتخب رکن ہونے کے باوجود پاکستان کا ایجنڈا صرف ایک نکتے پر مرکوز ہے بھارت اور اس کے عوام کو نقصان پہنچانا۔
پاکستانی مندوب کی جانب سے یہ کہنے پر کہ آپریشن سندور کے جواب نے یہ ثابت کر دیا کہ ’جبر یا بے خوفی پر مبنی کوئی نیا معمول قابلِ قبول نہیں‘، بھارت نے سختی سے جواب دیا۔ ہریش نے کہا کہ دہشت گردی کو کبھی بھی معمول کے طور پر قبول نہیں کیا جا سکتا، جیسا کہ پاکستان چاہتا ہے۔
ہریش نے کہا’’ہم نے پاکستان کے نمائندے سے ’نئے معمول‘کی بات سنی ہے۔ میں ایک بار پھر دہرا دوں کہ دہشت گردی کو کبھی معمول نہیں بنایا جا سکتا، جیسا کہ پاکستان کرنا چاہتا ہے۔ پاکستان کی جانب سے ریاستی پالیسی کے طور پر دہشت گردی کے مسلسل استعمال کو برداشت کرنا معمول کی بات نہیں ہے‘‘۔
انہوں نے مزید کہا کہ بھارت اپنے شہریوں کی حفاظت اور سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے جو کچھ بھی ضروری ہوگا، وہ کرے گا۔
ہریش نے کہا’’یہ مقدس ایوان پاکستان کو دہشت گردی کو جائز قرار دینے کا فورم نہیں بن سکتا‘‘۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کے مندوب نے مئی گزشتہ سال بھارت کی جانب سے شروع کیے گئے آپریشن سندور کے بارے میں ’ایک جھوٹا اور خود غرضانہ بیان‘ پیش کیا۔
یہ آپریشن اپریل میں پہلگام میں ہونے والے دہشت گرد حملے کے جواب میں کیا گیا تھا، جس میں۲۶ شہری ہلاک ہوئے تھے، اور جس کا ہدف پاکستان اور پاکستان کے زیرِ قبضہ کشمیر میں دہشت گردی کا بنیادی ڈھانچہ تھا۔
ہریش نے کہا’’اس معاملے کے حقائق بالکل واضح ہیں۔ اپریل۲۰۲۵میں پاکستان کی سرپرستی میں کام کرنے والے دہشت گردوں نے پہلگام میں ایک سفاک حملے میں۲۶بے گناہ شہریوں کو قتل کیا۔ اسی معزز ادارے نے اس قابلِ نفرت دہشت گردانہ کارروائی کے مرتکبین، منصوبہ سازوں، مالی معاونین اور سرپرستوں کو جواب دہ ٹھہرانے اور انصاف کے کٹہرے میں لانے کا مطالبہ کیا تھا۔ ہم نے بالکل وہی کیا‘‘۔
ہریش کا اشارہ اپریل گزشتہ سال سلامتی کونسل کی جانب سے جاری کیے گئے اس پریس بیان کی طرف تھا، جس میں۱۵رکنی کونسل نے پہلگام دہشت گرد حملے کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کی تھی اور اس بات پر زور دیا تھا کہ اس گھناؤنے فعل کے ذمہ دار عناصر کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔
بھارتی مندوب نے زور دیا کہ آپریشن سندور کے تحت بھارت کی کارروائیاں نپی تلی، غیر اشتعال انگیز اور ذمہ دارانہ تھیں، اور ان کا مقصد دہشت گردی کے ڈھانچے کو تباہ کرنا اور دہشت گردوں کو ناکارہ بنانا تھا۔
ہریش نے کہا’’۹مئی تک پاکستان بھارت پر مزید حملوں کی دھمکیاں دے رہا تھا، لیکن۱۰مئی کو پاکستانی فوج نے براہِ راست ہماری فوج سے رابطہ کیا اور لڑائی روکنے کی التجا کی‘‘۔انہوں نے مزید کہا کہ بھارتی کارروائی سے متعدد پاکستانی فضائی اڈوں کو پہنچنے والا نقصان، بشمول تباہ شدہ رن ویز اور جلے ہوئے ہینگرز کی تصاویر، عوامی سطح پر دستیاب ہیں۔
پاکستان کی جانب سے جموں و کشمیر کا مسئلہ اٹھانے پر سخت ردعمل دیتے ہوئے ہریش نے کہا کہ پاکستان کو بھارت کے داخلی معاملات پر تبصرہ کرنے کا کوئی حق حاصل نہیں۔
بھارتی مندوب نے کہا’’جموں و کشمیر کا مرکز کے زیرِ انتظام علاقہ بھارت کا اٹوٹ اور ناقابلِ تنسیخ حصہ تھا، ہے اور ہمیشہ رہے گا‘‘۔
سندھ طاس معاہدے پر بات کرتے ہوئے ہریش نے کہا کہ بھارت نے۶۵برس قبل اس معاہدے میں نیک نیتی، خیرسگالی اور دوستی کے جذبے کے تحت شمولیت اختیار کی تھی۔انہوں نے کہا’’ان چھ دہائیوں سے زائد عرصے کے دوران پاکستان نے اس معاہدے کی روح کی خلاف ورزی کی، بھارت پر تین جنگیں مسلط کیں اور ہزاروں دہشت گرد حملے کیے۔ پاکستان کی سرپرستی میں ہونے والی دہشت گردی کے نتیجے میں ہزاروں بھارتی جانیں ضائع ہوئیں‘‘۔
پہلگام دہشت گرد حملے کے بعد، ہریش نے کہا کہ بھارت ’’بالآخر اس اعلان پر مجبور ہوا کہ سندھ طاس معاہدے کو اس وقت تک کے لیے معطل رکھا جائے گا جب تک پاکستان، جو عالمی سطح پر دہشت گردی کا مرکز ہے، سرحد پار اور ہر قسم کی دہشت گردی کی حمایت کو قابلِ اعتبار اور ناقابلِ واپسی طور پر ختم نہیں کرتا‘‘۔
مزید برآں، بھارت نے کہا کہ پاکستان کو قانون کی بالادستی پر خود احتسابی کرنی چاہیے۔
بھارتی مندوب نے کہا’’پاکستان اس کا آغاز اس سوال سے کر سکتا ہے کہ اس نے اپنی مسلح افواج کو۲۷ ویں آئینی ترمیم کے ذریعے ایک آئینی بغاوت کرنے کی اجازت کیسے دی، اور اپنے چیف آف ڈیفنس فورسز کو تاحیات قانونی استثنا کیسے دیا‘‘۔
یہ اشارہ نومبر گزشتہ سال وزیر اعظم شہباز شریف کی قیادت میں منظور کی گئی۲۷ویں آئینی ترمیم کی طرف تھا، جس کے تحت پاکستان کے فیلڈ مارشل عاصم منیر کو کسی بھی قانونی کارروائی سے تاحیات استثنا دیا گیا ہے۔










