سڈنی،5 جنوری (یو این آئی )
ایشز سیریز کے پانچویں اور آخری ٹیسٹ کے دوسرے دن انگلینڈ کی ٹیم اپنی پہلی اننگز میں 384 رنز بنا کر آؤٹ ہو گئی، جس کے جواب میں آسٹریلیا نے کھیل کے اختتام تک 2 وکٹوں کے نقصان پر 166 رنز بنا لیے ہیں۔ آسٹریلیا کو انگلینڈ کی پہلی اننگز کا خسارہ ختم کرنے کے لیے مزید 218 رنز درکار ہیں۔
انگلینڈ نے دوسرے دن کے کھیل کا آغاز 211 رنز 3 کھلاڑی آؤٹ سے کیا۔ اسٹار بیٹر جو روٹ نے اپنی فارم کو برقرار رکھتے ہوئے شاندار بلے بازی کی اور اپنے ٹیسٹ کیریئر کی 41ویں سنچری مکمل کی۔ انہوں نے 242 گیندوں پر 15 چوکوں کی مدد سے 160 رنز کی اننگز کھیلی۔ہیری بروک 84 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے۔جیمی اسمتھ 46 رنز کی مفید اننگز کھیلی اور بین اسٹوکس بدقسمتی سے صفر پر آؤٹ ہو گئے۔
آسٹریلیا کی جانب سے مائیکل نیسر سب سے کامیاب بالر رہے جنہوں نے 4 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا، جبکہ مچل اسٹارک اور اسکاٹ بولینڈ نے دو دو وکٹیں حاصل کیں۔انگلینڈ کے 384 رنز کے تعاقب میں آسٹریلیا کے اوپنرز ٹریوس ہیڈ اور جیک ویدرلڈ نے 57 رنز کا آغاز فراہم کیا۔ انگلینڈ کے کپتان بین اسٹوکس نے بہترین بالنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے آسٹریلیا کی دونوں وکٹیں حاصل کیں۔ انہوں نے پہلے جیک ویدرلڈ (21) اور پھر مارنس لیبوشین (48) کو پویلین کی راہ دکھائی۔دوسرے دن کے اختتام پر ٹریوس ہیڈ 91 رنز پر ناٹ آؤٹ اورمائیکل نیسر 1 رن بنا کر کرموجود تھے۔
واضح رہے کہ سڈنی ٹیسٹ کا پہلا روز نشیب و فراز سے بھرپور رہا۔ کھیل کے اختتام تک انگلینڈ نے 3 وکٹوں کے نقصان پر 211 رنز بنا لیے تھے، تاہم بارش اور خراب موسم کے باعث کھیل مقررہ وقت سے پہلے ختم کر دیا گیا۔آسٹریلیائی بولرز نے پہلے سیشن میں انگلش بیٹنگ لائن کو لڑکھڑا دیا تھا، لیکن سینیئر بیٹر جو روٹ اور نوجوان اسٹار ہیری بروک نےآسٹریلیائی امیدوں پر پانی پھیر دیا۔ دونوں بلے بازوں نے چوتھی وکٹ کے لیے 154 رنز جوڑ کر ثابت کیا کہ میلبرن ٹیسٹ کی جیت کے بعد انگلینڈ کے حوصلے بلند ہیں۔انگلینڈ نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا جو آغاز میں درست ثابت نہ ہوا اور محض 57 رنز پر تین ٹاپ آرڈر بلے باز پویلین لوٹ گئے۔ بین ڈکٹ 27، زیک کرالی 16 اور جیکب بیتھل 10 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے۔اس نازک صورتحال میں جو روٹ (72) اور ہیری بروک (78) نے 154 رنز کی ناقابلِ شکست شراکت قائم کر کے ٹیم کو بحران سے نکال لیا۔آسٹریلیا کی جانب سے مچل اسٹارک، مائیکل نیسر اور اسکاٹ بولینڈ نے ایک ایک وکٹ حاصل کی۔
بارش نے اگرچہ پہلے دن کے کھیل میں خلل ڈالا اور چائے کا وقفہ وقت سے پہلے کرنا پڑا، لیکن جو روٹ اور بروک کی کریز پر موجودگی دوسرے روز آسٹریلیا کے لیے بڑا خطرہ بن سکتی ہے۔ آسٹریلیا سیریز پہلے ہی 1-3 سے جیت چکا ہے، مگر انگلینڈ اس آخری میچ کو جیت کر سیریز کا اختتام باوقار طریقے سے کرنے کے لیے پرعزم ہے۔






