سرینگر: حکام کے مطابق گزشتہ چھ ماہ کے دوران جموں و کشمیر میں وندے بھارت ایکسپریس کے ذریعے تقریباً 3.75 لاکھ مسافروں نے سفر کیا، جو اپنے پہلے سالِ آپریشن میں جموں ریلوے ڈویژن کے لیے ایک اہم سنگِ میل ہے۔
شری ماتا ویشنو دیوی کٹرا اور سرینگر کے درمیان یہ پریمیم ٹرین سروس۶جون کو ادھم پور،سرینگر،بارہمولہ ریل لنک(یو این بی آر ایل)منصوبے کے افتتاح کے بعد روانہ کی گئی، جس سے وادیٔ کشمیر کو ملک کے باقی حصوں کے ساتھ ہمہ موسمی ریل رابطہ حاصل ہوا۔
سینئر ڈویژنل کمرشل منیجر اوچت سنگھل نے کہا کہ ڈویژن نے مسافر خدمات، مال برداری اور آمدنی کے شعبوں میں بتدریج مضبوط رفتار حاصل کی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ابتدائی رکاوٹوں پر قابو پا کر ڈویژن نے مختصر مدت میں ٹھوس نتائج فراہم کیے ہیں۔
سنگھل نے پی ٹی آئی کو بتایا’’شری ماتا ویشنو دیوی کٹرا اور سرینگر کے درمیان وندے بھارت ایکسپریس کی دو جوڑی ٹرینوں کے ذریعے اب تک تقریباً 3.75 لاکھ مسافر سفر کر چکے ہیں‘‘۔
جنوری۲۰۲۵میں قائم اور یکم جون سے باقاعدہ طور پر نوٹیفائی ہونے والے اس ڈویژن نے گڈز شیڈ قائم کر کے مال برداری کی سرگرمیوں میں توسیع کی ہے، جہاں فوجی سازوسامان سے لے کر تجارتی سامان تک کی ترسیل کی جا رہی ہے۔
انفراسٹرکچر کی بہتری کے تحت امرت بھارت اسکیم کے تحت بائیجناتھ پاپرولا اسٹیشن کی ازسرِ نو تعمیر، ریاسی کو وندے بھارت کے اسٹاپیج کے طور پر شامل کرنا، تاریخی چناب برج کے لیے مطالعاتی دورہ، اور مذہبی سیاحت کے فروغ کے لیے کٹرا اور امرتسر کے درمیان وندے بھارت سروس کا آغاز شامل ہے۔
حکام کے مطابق۱۵ستمبر کو شروع کی گئی جموںپٹھان کوٹ پنجاب ریل کوریڈور اسکیم، جو باغبانی کی لاجسٹکس کو سہارا دینے کے لیے بنائی گئی، کے تحت۲۰ہزار ٹن سے زائد سیب کی نقل و حمل ممکن ہوئی۔ اننت ناگ گڈز شیڈ ایک بڑا کارگو مرکز بن کر ابھرا ہے، جہاں ڈیڑھ لاکھ ٹن سے زائد سیمنٹ، آٹوموبائل ریکس، ایف سی آئی کی غذائی اجناس کی ریک اور دیگر اشیا جیسے پلاسٹک کریٹس، انسولیٹڈ پینلز اور نمک کی ہینڈلنگ کی گئی۔ پہلی بار ٹینکوں اور توپ خانے پر مشتمل فوجی ٹرینیں وادی میں داخل کی گئیں، جس سے اسٹریٹجک نقل و حرکت میں اضافہ ہوا۔
حکام نے بتایا کہ پہلگام حملے کے بعد 24×7 مانیٹرنگ کے ساتھ خصوصی ٹرینیں چلا کر اور کوچز میں اضافہ کر کے ہنگامی صورتحال سے نمٹا گیا۔ آپریشن سندور کے دوران متعلقہ اداروں کے ساتھ تال میل رکھا گیا، جبکہ۶۲؍اگست کے سیلاب کے بعد کٹرا اور سنگلدان کے درمیان فلڈ ریلیف اسپیشل ٹرین چلائی گئی۔
آمدنی کے محاذ پر، نان فئیر آمدنی میں ڈیجیٹل اور اسٹیٹک اشتہارات کے ذریعے اضافہ کیا گیا، جن میں اسٹیشنوں، روڈ انڈر برج مقامات، ایل ای ڈی اسکرینوں اور وندے بھارت ٹرینوں کے اندر برانڈنگ شامل ہے۔ چھوٹے تجارتی آؤٹ لیٹس اور کیوسکس نے مقامی روزگار پیدا کیا اور مسافروں کی سہولت میں اضافہ کیا۔
نفاذی کارروائیوں کے دوران گزشتہ تین سہ ماہیوں میں بغیر ٹکٹ اور بے ضابطہ سفر کے۶۳ہزار کیسز پکڑے گئے، جن سے تقریباً 3.72 کروڑ روپے وصول ہوئے۔ خصوصی جانچ کے دوران جعلی ٹکٹ بھی ضبط کیے گئے۔ حکام کے مطابق۲۹دسمبر کو دس ملازمین کو مثالی خدمات پر پی سی سی ایم ایوارڈ سے نوازا گیا، جن میں گمشدہ مسافروں کو ان کے اہلِ خانہ سے ملانا اور ہنگامی امداد فراہم کرنا شامل ہے۔
نئے کاروباری اقدامات میں جموں توی اور پٹھان کوٹ کینٹ میں پارسل پیکنگ، محکمۂ وائلڈ لائف کے ساتھ مل کر بھیڑیوں کی نقل و حمل، ٹانڈا اسٹیشن سے 2.7 کروڑ روپے سے زائد مالیت کی مولاسس ٹریفک، چن اروریان گڈز شیڈ کی نوٹیفکیشن، کٹھوعہ کے لیے مکئی کی اندرونِ آمد ریکس، اور پیس میل کاغذی ٹریفک کا آغاز شامل ہے۔
مئی،جون کے دوران کٹرا اور جموں سے باندرہ تک چیری کی پندرہ ریکس روانہ کی گئیں اور پہلی بار متعدد ایس ایل آرز لیز پر دی گئیں۔ حفاظتی اقدامات میں ماہانہ سیفٹی بلیٹن کا اجرا، آگ کے خطرات کم کرنے کے لیے لیڈ وائر پر مبنی پارسل سیلنگ، اور نورترا، دیوالی چھٹھ اور انڈیگو بحران کے دوران پروازوں میں خلل کے موقع پر بھیڑ کے نظم و نسق کے انتظامات شامل ہیں۔
حکام نے کہا کہ پہلے سال کی کارکردگی تیز رفتار ادارہ جاتی استحکام، بہتر خدمات، آمدنی اور مال برداری میں اضافہ، اور بہتر ردِعمل کے نظام کی عکاس ہے، جس سے یہ ڈویژن خطے کے لیے ایک ابھرتا ہوا ٹرانسپورٹ اور لاجسٹکس محرک بن کر سامنے آیا ہے۔








