ایڈیلیڈ،22 دسمبر (یو این آئی ) آسٹریلیائی فاسٹ با لر مچل اسٹارک نے انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) سے کہا ہے کہ وہ ڈیسیزن ریویو سسٹم ( ڈی آر ایس) کی مکمل ذمہ داری خود سنبھالے۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹیکنالوجی کے استعمال میں عدم تسلسل اور بار بار کی غلطیاں اس سسٹم پر کھلاڑیوں اور شائقین کے اعتماد کو ٹھیس پہنچا رہی ہیں۔
ایڈیلیڈ ٹیسٹ میں آسٹریلیا کی 82 رنز سے جیت اور ایشز سیریز میں 3-0 کی برتری کے بعد اسٹارک نے موجودہ نظام کی فنڈنگ اور ڈھانچے پر سوالات اٹھائے،
اسٹارک نے سوال کیا کہ جب (امپائرز) اس ٹیکنالوجی کو استعمال کرتے ہیں، تو آئی سی سی اس کے اخراجات کیوں ادا نہیں کرتی؟
انہوں نے کہا کہ پوری دنیا میں ہر سیریز کے لیے ایک ہی کمپنی کی ٹیکنالوجی کیوں استعمال نہیں کی جاتی؟ الگ الگ سسٹمز (اسنیکو اور الٹرا ایج) سے الجھن اور مایوسی پیدا ہوتی ہے۔ایڈیلیڈ ٹیسٹ کے دوران ریئل ٹائم اسنیکو ( اسنیکو) کے ذریعے کئی حیران کن نتائج سامنے آئے۔ اسٹارک اس قدر برہم نظر آئے کہ انہیں اسٹمپ مائیک پر یہ کہتے ہوئے سنا گیا کہ "یہ بدترین ٹیکنالوجی ہے، اسے ختم کر دینا چاہیے۔
سابق آسٹریلیائی کپتان رکی پونٹنگ نے بھی ٹیکنالوجی پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا”ہم یہاں جو ٹیکنالوجی استعمال کر رہے ہیں وہ دوسرے ممالک کی نسبت اتنی اچھی نہیں ہے۔ امپائرز بھی اس پر بھروسہ نہیں کرتے۔ تھرڈ امپائر کو ایسے نتائج پر فیصلے کرنے پڑتے ہیں جو کبھی کبھی درست نہیں لگتے۔”
کپتان پیٹ کمنز نے بھی اعتراف کیا کہ آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ میں استعمال ہونے والی اسنیکو’ ٹیکنالوجی ہندوستان، انگلینڈ اور جنوبی افریقہ میں استعمال ہونے والی ‘الٹرا ایج’ سے مختلف اور غیر مستقل محسوس ہوتی ہے۔
فی الوقت آئی سی سی نے دو سسٹمز کو منظوری دے رکھی ہے۔ آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ میں سنیکو استعمال ہوتا ہے جبکہ باقی دنیا الٹرا ایج پر انحصار کرتی ہے۔ اسٹارک اور دیگر کرکٹرز کا ماننا ہے کہ اس فرق کو ختم کر کے ایک عالمی معیار مقرر کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔






