جموں و کشمیر ٹرانسپورٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن نے ہفتہ کے روز ۱۵ دسمبر کو مجوزہ ہڑتال واپس لینے کا اعلان کیا۔ یہ فیصلہ جموں سیکریٹریٹ میں ٹرانسپورٹ وزیر کے ساتھ ہونے والی ایک اہم میٹنگ کے بعد کیا گیا۔
ایسوسی ایشن کے جنرل سیکریٹری شیخ محمد یوسف نے بتایا کہ وزیر نے انہیں یقین دہانی کرائی ہے کہ ٹرانسپورٹرز کے حقیقی اور طویل عرصے سے زیر التوا مطالبات کو ایک مقررہ مدت کے اندر حل کیا جائے گا، جس کے بعد ہڑتال واپس لینے کا فیصلہ کیا گیا۔
یہ میٹنگ اس وقت منعقد ہوئی جب ٹرانسپورٹرز نے اس شعبے کو درپیش متعدد مسائل کے حل کے لیے پہلے ہڑتال کا اعلان کیا تھا۔
انہوں نے بتایا کہ میٹنگ کے دوران جن اہم مطالبات کو اٹھایا گیا، ان میں سڑک ٹیکس کی معقول تنظیم نو، بھاری جرمانوں اور چالانوں سے راحت، روٹ پرمٹس سے متعلق مسائل کا حل، فٹنس سرٹیفکیشن میں تاخیر، اور ایندھن کی قیمتوں اور انشورنس پریمیم میں اضافے کے باعث بڑھتی ہوئی آپریٹنگ لاگت شامل ہے۔
ٹرانسپورٹرز نے بعض ریگولیٹری اقدامات پر نظرثانی کا مطالبہ بھی کیا، جن کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ وہ چھوٹے آپریٹروں کو بری طرح متاثر کر رہے ہیں۔
شیخ محمد یوسف کے مطابق وزیر نے ٹرانسپورٹرز کے مسائل کو غور سے سنا اور یقین دلایا کہ حکومت ٹرانسپورٹ برادری کے مفادات کے تحفظ کے لیے پْرعزم ہے، جو جموں و کشمیر میں ضروری اشیاء کی ترسیل اور عوامی آمد و رفت کے نظام میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔
یقین دہانی کے بعد ٹرانسپورٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن نے اعلان کیا کہ ۱۵ دسمبر کو کوئی ہڑتال نہیں ہوگی اور کشمیر و جموں دونوں خطوں میں ٹرانسپورٹ خدمات معمول کے مطابق جاری رہیں گی۔
تاہم، ایسوسی ایشن نے یہ بھی واضح کیا کہ وہ دی گئی یقین دہانیوں پر عمل درآمد کی کڑی نگرانی کرے گی اور اگر وعدے پورے نہ کیے گئے تو احتجاجی تحریک دوبارہ شروع کرنے پر مجبور ہو سکتی ہے۔










