کشمیر سے تعلق رکھنے والے ۲۶ سالہ ایک نوجوان کو اروناچل پردیش کے مغربی سیانگ ضلع سے پاکستان کے لیے جاسوسی کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔ اسی معاملے میں چند ہفتوں کے دوران یہ تیسری گرفتاری ہے۔
این ڈی ٹی وی کے مطابق ملزم کی شناخت ہلال احمد کے طور پر ہوئی ہے، جو گرفتاری سے قبل ضلع کے آلو قصبے میں مقیم تھا۔ رپورٹ کے مطابق اس نے مبینہ طور پر حساس معلومات پاکستان میں موجود اپنے ہینڈلرز کو فراہم کیں۔
اس سے قبل پہلے ملزم نذیر احمد ملک کو ۲۲ نومبر کو گرفتار کیا گیا تھا، جس پر خطے میں فوجی نقل و حرکت سے متعلق معلومات جمع کرنے اور آگے بھیجنے کا الزام ہے۔ وہ جموں و کشمیر کے ضلع کپواڑہ کا رہائشی ہے۔
بعد ازاں دوسرے ملزم صابر احمد میر، جو کپواڑہ کا ہی رہائشی ہے، کو اروناچل پردیش کے دارالحکومت اٹانگر سے گرفتار کیا گیا۔
رپورٹ کے مطابق تینوں ملزمان کی جموں و کشمیر سے ۳ہزار کلومیٹر سے زیادہ دور اروناچل پردیش میں موجودگی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ خطے میں’ملک مخالف عناصر کو فعال کرنے‘ کی ایک بڑی سازش کارفرما تھی۔
مغربی سیانگ کے سپرنٹنڈنٹ آف پولیس کارڈک ریبا نے بتایا کہ جموں و کشمیر کا رہائشی جسے جمعہ کی رات گرفتار کیا گیا، ۲۵ نومبر کو اروناچل پردیش کے پاپم پَرے ضلع میں ایک تجارتی میلے میں شرکت کے لیے آیا تھا۔
ذرائع نے بتایا کہ اس کے پاس ایک درست اِنر لائن پرمٹ (آئی ایل پی) موجود تھا اور اس کے دیگر کاغذات میں بھی کوئی خامی نہیں پائی گئی۔تاہم، انٹیلی جنس اطلاعات میں ’ممکنہ طور پر خطرناک سرگرمی‘ کی نشاندہی ہوئی، جس کے بعد پولیس نے اسے گرفتار کیا۔ بعد میں اسے اٹانگر پولیس کے حوالے کر دیا گیا۔
پہلے ملزم نذیر احمد ملک سے متعلق معاملے میں، پولیس نے اسے اٹانگر ضلع کے چِمپو گاؤں سے گرفتار کرنے کے بعد فرسٹ انفارمیشن رپورٹ (ایف آئی آر) درج کی۔ رپورٹ کے مطابق پولیس نے اس کی نقل و حرکت سے متعلق ’قابلِ اعتماد اور قابلِ عمل‘ انٹیلی جنس معلومات کے تجزیے کے بعد کارروائی کی۔
تفتیش کے دوران، اس نے مبینہ طور پر اعتراف کیا کہ وہ ٹیلیگرام ایپ کے ذریعے فوجی تنصیبات سے متعلق معلومات بھی پاکستان میں موجود اپنے ہینڈلرز کو بھیجتا تھا۔ رپورٹ کے مطابق اسے بنیادی نوعیت کے دھماکہ خیز مواد نصب کرنے اور آتش زنی کے ذریعے سکیورٹی نظام کو غیر مستحکم کرنے سے متعلق ہدایات بھی دی گئی تھیں۔
پولیس نے اس کے قبضے سے برآمد کیے گئے دو موبائل فونز میں موجود قابلِ اعتراض ٹیلیگرام پیغامات بھی دیکھے، ذرائع نے بتایا۔
نذیر احمد ملک سے ہونے والی پوچھ گچھ نے پولیس کو دوسرے ملزم صابر احمد میر تک پہنچایا، جسے اٹانگر کی ابوتانی کالونی سے گرفتار کیا گیا۔
رپورٹ کے مطابق صابر احمد میر بھی اسی پاکستانی ہینڈلر کے رابطے میں تھا جو ٹیلیگرام ایپ کے ذریعے دیگر دونوں ملزمان کی رہنمائی کر رہا تھا۔ مبینہ طور پر اس ہینڈلر نے اسے پاکستانی شہریوں کو غیر قانونی طور پر بھارت میں داخل کرانے کے راستے تلاش کرنے کا کام سونپا تھا، تاہم اس کی تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔
ایک سینئر پولیس افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا’’ہمیں اروناچل پردیش سے باہر سے اہم اطلاعات موصول ہوئیں۔ انہی الرٹس کی بنیاد پر ہماری ٹیموں نے دونوں ملزمان کو حراست میں لیا۔ ان کا مرکزی ہینڈلر، جس کے بارے میں خیال ہے کہ وہ ریاست سے باہر کہیں سرگرم ہے، تاحال ناقابلِ سراغ ہے۔ دونوں گرفتار افراد عدالتی حراست میں ہیں۔ ہم اس معاملے پر انتہائی سنجیدگی سے کام کر رہے ہیں کیونکہ یہ قومی سلامتی کا مسئلہ ہے‘‘۔
ایف آئی آر کے مطابق، صابر احمد میر کے فون سے حذف شدہ ڈیٹا نے نیٹ ورک میں اس کے کردار سے متعلق شکوک کو مزید تقویت دی۔ پولیس کے ابتدائی جائزے میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ ملزمان خفیہ معلومات کا تبادلہ کر رہے تھے’دشمن غیر ملکی عناصر‘ کے ساتھ رابطے میں تھے اور عوامی نظم و نسق اور قومی سلامتی کو نقصان پہنچانے کی ایک بڑی کوشش کا حصہ تھے۔
تینوں ملزمان کے خلاف بھارتیہ نیائے سنہیتا کی مختلف دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے، جن کے ساتھ آفیشل سیکریٹس ایکٹ اور اروناچل پردیش ایکٹ کی دفعات بھی شامل کی گئی ہیں۔
تحقیقات جاری ہیں اور پولیس کو شبہ ہے کہ ایک بڑے نیٹ ورک کے حصے کے طور پر مزید افراد بھی روپوش ہو سکتے ہیں۔
اروناچل پردیش میں یہ پیش رفت ہریانہ کے فرید آباد میں ایک دہشت گرد ماڈیول کے بے نقاب ہونے کے ایک ماہ بعد سامنے آئی ہے، جہاں مایوسی کے عالم میں ایک دہشت گرد نے دہلی کے لال قلعہ کے قریب کار بم حملہ کیا تھا، جس میں ۱۵؍افراد ہلاک ہوئے تھے۔










