جمعہ, ستمبر 11, 2026
  • ePaper
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
No Result
View All Result
Home کھیل

Nida-i-Mashriq by Nida-i-Mashriq
2025-09-25
in کھیل
A A
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail

متعلقہ

فرانسس ٹیافو نے ایلکس مائیکلسن کو شکست دے کر سیمی فائنل میں جگہ بنالی

انتم پنگھل کی ایشیائی کھیلوں میں تمغے پر نظریں

واشنگٹن،24 ستمبر( یو این آئی ) محققین نے کہا ہے کہ فٹ بال کے کھلاڑی جو بال کو پاس کرنے یا روکنے کے لیے اپنے سر کا استعمال کرتے ہیں، ان کے دماغ کی تہوں میں تبدیلیوں کے امکانات زیادہ اور دماغی صحت متاثر ہونے کا خدشہ ہوتا ہے۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق ایک نئے مطالعے میں کہا گیا کہ فٹ بال کو ’ہیڈ‘ کرنا یعنی سر سے مارنا فٹ بال کھلاڑیوں کی دماغی صحت کو متاثر کر سکتا ہے۔
محققین نے جریدے نیورولوجی میں رپورٹ کیا کہ جو کھلاڑی فٹ بال کو پاس کرنے یا روکنے کے لیے اپنے سر کا استعمال کرتے ہیں ان کے دماغ کی تہوں میں تبدیلیوں کے امکانات زیادہ ہیں، یہ تہیں دماغ کے جھری دار بیرونی حصے میں ہوتی ہیں جسے سیریبرل کورٹیکس کہتے ہیں۔محققین کے مطابق جن کھلاڑیوں میں دماغی تبدیلیاں زیادہ تھیں، انہوں نے علمی ٹیسٹوں میں بدتر کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔
کولمبیا یونیورسٹی کے ریڈیالوجی کے پروفیسر ڈاکٹر مائیکل لپٹن کے مطابق جن کھلاڑیوں نے زیادہ بار گیند کو ہیڈ کیا ان کے دماغ کی تہوں کے ایک خاص حصے میں زیادہ رکاوٹیں و خلل پایا گیا اور یہی رکاوٹیں سوچنے اور یادداشت کے ٹیسٹوں میں کمزور کارکردگی سے منسلک ہیں، یہ مطالعہ کھیلوں سے متعلق سر پر لگنے والی چوٹوں کے اثرات اور کنکشنز کے کھلاڑیوں کی دماغی صحت پر پڑنے والے اثرات کے بارے میں خدشات میں مزید اضافہ کرتا ہے۔
مطالعے کے لیے محققین نے نیو یارک سٹی کے بڑے علاقے میں 352 شوقیہ فٹ بال کھلاڑیوں، نیز غیر تصادمی کھیلوں میں حصہ لینے والے 77 دیگر کھلاڑیوں کے دماغ کے اسکین کیے، مطالعے میں شامل شوقیہ کھلاڑیوں کی اوسط عمر 26 سال تھی، فٹ بالرز کو اس بنیاد پر 4 گروپوں میں تقسیم کیا گیا کہ وہ کھیل کے دوران کتنی بار بال کو سر سے مارتے تھے، سب سے زیادہ گروپ میں اوسطاً 3 ہزار 152 ہیڈرز فی سال تھے، جبکہ سب سے کم گروپ میں 105 ہیڈرز فی سال تھے۔
محققین کا کہنا ہے کہ ان فٹ بال کھلاڑیوں میں جنہوں نے بال کو سب سے زیادہ سر سے مارا اسکینز نے دماغ کی تہوں میں واقع سفید مادے میں زیادہ تبدیلیاں دکھائیں، جیسے جیسے ہیڈرز کی تعداد میں اضافہ ہوا یہ سفید مادے کا علاقہ زیادہ متاثر ہوا، یہ خلل خاص طور پر آنکھوں کے سوراخوں کے بالکل اوپر واقع آربیٹو فنٹل ریجن کو متاثر کرتا ہے۔

ShareTweetSendShareSend
Previous Post

شاہین آفریدی نے شاداب خان کو پیچھے چھوڑ دیا

Next Post

ساف انڈر 17 چیمپئن شپ سیمی فائنل: ہندوستان نیپال مدمقابل

Nida-i-Mashriq

Nida-i-Mashriq

Related Posts

فرانسس ٹیافو نے ایلکس مائیکلسن کو شکست دے کر سیمی فائنل میں جگہ بنالی
کھیل

فرانسس ٹیافو نے ایلکس مائیکلسن کو شکست دے کر سیمی فائنل میں جگہ بنالی

2026-09-10
انتم پنگھل کی ایشیائی کھیلوں میں تمغے پر نظریں
کھیل

انتم پنگھل کی ایشیائی کھیلوں میں تمغے پر نظریں

2026-09-10
کھیل

پاکستان کی ٹیم میں اتنی بڑی تبدیلیاں ہوئیں، مجھے بھی خبر نہیں تھی: بابر اعظم

2026-09-10
کھیل

پیگولا نے واپسی کرتے ہوئے سیمی فائنل میں جگہ بنائی

2026-09-10
الکاراز پانچویں بار اور سبالینکا مسلسل چھٹے سال کوارٹر فائنل میں
کھیل

الکاراز پانچویں بار اور سبالینکا مسلسل چھٹے سال کوارٹر فائنل میں

2026-09-08
تنقیدوں کے باوجود لیبوشین آسٹریلیا کے دورہ جنوبی افریقہ کے لیے ٹیسٹ ٹیم میں برقرار
کھیل

تنقیدوں کے باوجود لیبوشین آسٹریلیا کے دورہ جنوبی افریقہ کے لیے ٹیسٹ ٹیم میں برقرار

2026-09-08
کھیل

شفالی ورما کو آؤٹ کرنے کے بعد فاطمہ ثناء پر سینڈ آف اشارے کے لیے جرمانہ لگایا گیا

2026-09-08
کھیل

راہل دراوڈ کے ساتھ اپنی تیاری کے بارے میں کافی بات چیت کی ہے: پڈیکل

2026-09-08
Next Post
ساف انڈر 17 چیمپئن شپ سیمی فائنل: ہندوستان نیپال مدمقابل

ساف انڈر 17 چیمپئن شپ سیمی فائنل: ہندوستان نیپال مدمقابل

  • ePaper

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

No Result
View All Result
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

This website uses cookies. By continuing to use this website you are giving consent to cookies being used. Visit our Privacy and Cookie Policy.