کولکاتہ، 18 ستمبر (یو این آئی) مرکزی حکومت کے چیف اکنامک ایڈوائزر وی اننت ناگیشورن نے جمعرات کو کہا کہ انہیں یقین ہے کہ امریکہ میں ہندوستانی اشیا پر بھاری درآمدی ٹیرف کا مسئلہ آٹھ سے دس ہفتوں میں حل ہو جائے گا۔
مسٹر ناگیشورن نے یہاں صنعتی تنظیم بھارت چیمبر آف کامرس کے زیر اہتمام مباحثے میں کہا، ”دونوں حکومتوں کے درمیان پردے کے پیچھے بات چیت چل رہی ہے ۔ مجھے یقین ہے کہ اگلے آٹھ سے دس ہفتوں میں ہم ہندوستانی سامان پر امریکہ کی طرف سے عائد کردہ درآمدی ٹیرف کا حل دیکھیں گے ۔
قابل ذکر ہے کہ امریکہ نے ہندوستان کے ساتھ تجارتی معاہدے پر کوئی اتفاق رائے نہ ہونے پر اگست کے اوائل میں 25 فیصد درآمدی ڈیوٹی عائد کردی تھی۔ اس کے بعد ٹرمپ انتظامیہ نے روس سے خام تیل کی خریداری کو امریکی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیتے ہوئے 27 اگست سے ہندوستان کے خلاف ٹیرف کو دوگنا کرکے 50 فیصد کر دیا۔
امریکہ نے اگست کے چوتھے ہفتے میں دوطرفہ تجارتی معاہدے کے مذاکرات کے چھٹے دور کے لیے آنے والی ٹیم کا دورہ بھی ملتوی کردیاتھا، تاہم ایسے اشارے مل رہے ہیں کہ ستمبر میں فریقین کے درمیان مذاکرات مثبت ہوں گے ۔
دونوں ممالک کے درمیان تجارتی تعلقات میں تناؤ کو کم کرنے کی سمت میں امریکہ کے ساتھ کسی پیشگی اعلان کے بغیر نئی دہلی آئے حکام کی ایک ٹیم کے ساتھ اسی ہفتے منگل کو ہوئی میٹنگ میں تجارتی معاہدے کی سمت میں کوشش تیز کرنے پر اتفاق ہوا ہے ۔ مذاکرات کو پٹری پر لانے کے مقصد سے امریکی معاون تجارتی نمائندے برینڈن لنچ کی قیادت میں امریکی تجارتی نمائندے کے دفتر کی ایک ٹیم کی یہاں کامرس ڈیپارٹمنٹ کے حکام کے ساتھ ایک اہم میٹنگ ہوئی۔ اس میں ہندوستانی ٹیم کی قیادت کامرس ڈپارٹمنٹ میں اسپیشل سکریٹری راجیش اگروال نے کی۔
اسی دن، وزارت تجارت اور صنعت نے ایک ریلیز میں کہا کہ بات چیت "مثبت اور مستقبل کے حوالے سے ” تھی اور اس میں تجارتی معاہدے کے مختلف پہلوؤں کا احاطہ کیا گیا۔ ریلیز میں کہا گیا کہ بات چیت کے دوران باہمی فائدہ مند تجارتی معاہدے تک پہنچنے کے لیے کوششیں تیز کرنے پر اتفاق کیا گیا تاکہ بامعنی نتائج جلد حاصل کیے جاسکیں۔
نئی دہلی میں امریکی سفارت خانے نے بھی ایک بیان میں کہا کہ ملاقات مزید اقدامات پر بات چیت کے لیے مثبت رہی۔
تجارت اور صنعت کے وزیر پیوش گوئل نے بھی امید ظاہر کی ہے کہ نومبر تک ہندوستان اور امریکہ کے درمیان ایک اچھا معاہدہ طے پا جائے گا۔








