واشنگٹن، 16 ستمبر (یو این آئی) امریکی صدر کے حکم پر امریکی فورسز نے وینزویلا میں فضائی حملہ کیا ہے ، ڈونلڈ ٹرمپ نے بتایا کہ آج صبح میرے حکم پر امریکی فورسز نے وینزویلا میں دوسرا فضائی حملہ کیا۔
ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ امریکی فوج نے پیر کے روز ایک بار پھر وینزویلا میں مبینہ طور پر منشیات لے جانے والی ایک کشتی کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں کشتی پر سوار 3 افراد ہلاک ہو گئے ۔
ٹرمپ نے یہ اعلان ٹروتھ سوشل پر ایک پوسٹ میں کیا، اور کہا کہ یہ حملہ اس وقت کیا گیا جب وینزویلا کے تصدیق شدہ منشیات فروش دہشت گرد بین الاقوامی پانیوں میں غیر قانونی منشیات (جو ایک مہلک ہتھیار ہے اور امریکیوں کو زہر دے رہی ہے !) امریکا لے جا رہے تھے ۔ یہ انتہا درجے کے پرتشدد منشیات فروش گروہ امریکی قومی سلامتی، خارجہ پالیسی اور اہم امریکی مفادات کے لیے خطرہ ہیں۔
ٹرمپ انتظامیہ کے مطابق تقریباً دو ہفتے قبل بھی وینزویلا سے منشیات لے جانے والی ایک تیز رفتار کشتی پر حملہ کیا گیا تھا، جس میں 11 افراد ہلاک ہو گئے تھے ۔ ٹرمپ نے اشارہ دیا کہ منشیات فروش گروہوں کو نشانہ بنانے کے لیے فوجی کارروائیاں مزید وسعت اختیار کر سکتی ہیں۔
بعد ازاں، پیر کے روز اوول آفس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے بتایا کہ انھیں اس تازہ حملے کی ویڈیو جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئرمین جنرل ڈین کین نے دکھائی ہے ۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ امریکہ کے پاس اس بات کا کیا ثبوت ہے کہ کشتی منشیات لے جا رہی تھی، تو ٹرمپ نے جواب دیا: ”ہمارے پاس ثبوت موجود ہیں۔ آپ صرف وہ سامان دیکھ لیں جو سمندر میں بکھرا پڑا تھا، کوکین اور فینٹانائل کی بڑی بڑی بوریاں ہر طرف پھیلی ہوئی تھیں۔”
ڈونلڈ ٹرمپ اس موقع پر یہ بھی کہا کہ بدامنی کے شکار شہروں میں مرحلہ وار نیشنل گارڈز تعینات کیے جائیں گے ، میمفس میں بدامنی عروج پر ہے ، شہروں میں جرائم کا خاتمہ کیا جائے گا، بائیں بازو کے شدت پسندوں نے چارلی کرک کے قاتل کا ذہن بدلا، انٹرنیٹ کے ذریعے نوجوانوں کو برین واش کیا جا رہا ہے ، بائیں بازوں کے شدت پسند ہمارے ملک سے نفرت کرتے ہیں۔








