خرطوم، 15 اگست (یو این آئی) سوڈان کی فوج نیم فوجی دستے ریپڈ سپورٹ فورسز (آر ایس ایف) کو شکست دینے کے عزم پر قائم ہے، تاہم حقیقی امن کی کوششوں پر غور کرنے کے لیے تیار ہے۔ خودمختاری کونسل کے چیئرمین عبدالفتاح البرہان نے کہا ہے کہ ایسا کوئی بھی سمجھوتہ قابل قبول نہیں ہوگا جس کے نتیجے میں آر ایس ایف یا اس کے رہنما دوبارہ اقتدار میں واپس آئیں۔
سوڈانی مسلح افواج کے قیام کی 72ویں سالگرہ کے موقع پر جمعہ کو خطاب کرتے ہوئے البرہان نے کہا کہ آر ایس ایف کو شکست دینے کے فوجی عزم کا مطلب یہ نہیں کہ تنازع ختم کرنے کی کوششوں کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔
سرکاری خبر رساں ایجنسی سونا کے مطابق البرہان نے کہا، "اس ملیشیا کے خلاف لڑنے اور اسے شکست دینے کا ہمارا عزم امن کے لیے کسی بھی حقیقی کوشش سے آنکھیں بند کرنے کے مترادف نہیں ہے۔”
انہوں نے کہا کہ سوڈان ایسی چیز قبول نہیں کرے گا جسے انہوں نے "نامکمل امن” قرار دیا اور نہ ہی ایسا کوئی معاہدہ قبول کیا جائے گا جس کے تحت محمد حمدان دقلو المعروف حمیدتی کی قیادت میں آر ایس ایف کے "مجرموں اور قاتلوں” اور ان کے حامیوں کو دوبارہ سیاسی اقتدار حاصل کرنے یا حکومت میں شامل ہونے کا موقع ملے۔
البرہان نے کہا کہ فوج کا مؤقف مئی 2023 سے تبدیل نہیں ہوا، جب اس نے سیاسی تصفیے کی پیشگی شرط کے طور پر آر ایس ایف سے ہتھیار ڈالنے اور مقررہ علاقوں میں جمع ہونے کا مطالبہ کیا تھا۔
انہوں نے کہا، "امن کا راستہ اس ملیشیا کے ہتھیار ڈالنے اور مقررہ علاقوں میں جمع ہونے سے شروع ہوتا ہے، شہری اپنے علاقوں میں واپس آئیں اور زندگی معمول پر آئے، جہاں خدمات، سلامتی، تحفظ اور نگرانی موجود ہو۔”
انہوں نے مزید کہا کہ ایسے آر ایس ایف جنگجوؤں کے مستقبل پر بعد میں غور کیا جاسکتا ہے جو جرائم میں ملوث نہیں رہے۔
سیاسی محاذ پر البرہان نے کہا کہ انہوں نے ان قومی اور شعبہ جاتی گروہوں سے مشاورت شروع کردی ہے جنہوں نے سوڈانی ریاست، اس کے اتحاد اور اداروں کی حمایت کی ہے۔ ان مشاورت کا مقصد انہیں ریاستی اداروں کی تعمیر نو، بشمول قانون ساز کونسل، میں شامل کرنا ہے۔
انہوں نے قانون ساز کونسل کے قیام کو آئینی تقاضا قرار دیا۔
سوڈان کی موجودہ مشکل سیاسی صورتحال کے پس منظر میں البرہان نے کہا کہ سوڈانی مردوں اور خواتین کے ایک گروپ نے بھی بحران کے حل میں مدد کے لیے "خالصتاً سوڈانی مکالمے” کی ایک الگ پہل شروع کی ہے۔
ان کے مطابق مجوزہ مذاکرات کا آغاز سوڈان کے اندر سے ہونا چاہیے اور اس میں تمام سیاسی و سماجی قوتوں کو شامل کیا جانا چاہیے، جبکہ شہریوں کی مشکلات اور ان کے امن کے حق کو عمل کا مرکز بنایا جانا چاہیے۔
البرہان نے کہا کہ اس گروپ نے ایک آزاد قومی طریقہ کار قائم کرنے کی تجویز دی ہے جو ایک جامع مکالمے کی تیاری کرے گا۔ اس کا مقصد وسیع قومی اتفاق رائے پیدا کرنا اور ملک کو استحکام کی جانب گامزن کرنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ گروپ نے اپنی آزادی اور تمام فریقوں کے لیے کھلے پن پر زور دیا ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ ریاست اس بات کی ضمانت دے کہ مذاکرات محفوظ ماحول میں منعقد ہوں اور تمام شرکا کو ان میں شرکت کا موقع ملے۔
البرہان نے بتایا کہ انہوں نے اس درخواست کی منظوری دے دی ہے اور لاجسٹک معاونت کے ساتھ قانونی، سیاسی اور سکیورٹی ضمانتیں فراہم کرنے کا وعدہ کیا ہے۔
سوڈان میں اپریل 2023 سے فوج اور آر ایس ایف کے درمیان تباہ کن تنازع جاری ہے۔ اقوام متحدہ اور بین الاقوامی اداروں کے اندازوں کے مطابق لڑائی میں دسیوں ہزار افراد ہلاک اور تقریباً 1 کروڑ 30 لاکھ افراد بے گھر ہوچکے ہیں، جس کے نتیجے میں دنیا کے بڑے انسانی بحرانوں میں سے ایک جنم لے چکا ہے۔







