جموں کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے منگل کے روز مرکزی وزیر ریلوے اشونی ویشنو سے اپیل کی ہے کہ وادی کشمیر کے عوام کو ریلیف پہنچانے کے لیے خصوصی ریل گاڑیاں چلائی جائیں تاکہ ضروری اشیاء وادی میں لائی جا سکیں اور پھلوں کو ملک کی منڈیوں تک پہنچایا جا سکے ۔
عمر عبداللہ نے اپنے نجی دفتر کے باہر نامہ نگاروں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا’’ہمارے پاس ریل پٹریاں کھلی ہیں۔ میں وزیر ریلوے سے درخواست کروں گا کہ اگر دو سے چار خصوصی ٹرینیں چلائی جائیں تاکہ ضروری سامان کشمیر پہنچے اور یہاں سے پھل باہر بھیجے جا سکیں تو عوام کو بڑی راحت ملے گی‘‘۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ جموں کشمیر کو حالیہ سیلاب اور اس کے بعد کی صورتحال کے سبب بھاری نقصان اٹھانا پڑا ہے اور مرکز سے امید ہے کہ ان نقصانات کا ازالہ کیا جائے گا۔
عمرعبداللہ نے کہا’’جانیں ضائع ہوئیں، مکانات اور دکانیں تباہ ہوئیں، سرکاری ڈھانچے کو بھی نقصان پہنچا ہے ۔ پھل بارش سے نہیں بلکہ شاہراہ کی بندش کے سبب ٹرکوں میں سڑ رہا ہے ‘‘۔
وزیر اعلیٰ نے مزید بتایا کہ مرکزی وزارتی ٹیم پہلے ہی ریاست کے نقصانات کا جائزہ لینے کے لیے آ چکی ہے ، جبکہ وزیر داخلہ امیت شاہ نے بھی خود جموں وکشمیر کا دورہ کر کے صورتحال کا جائزہ لیا۔
عام آدمی پارٹی کے ایم ایل اے معراج ملک پر پبلک سیفٹی ایکٹ عائد کرنے کے فیصلے پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ یہ اقدام غیر ضروری تھا۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ اب اس نے ایسا کیا کیا تھا جو پی ایس اے کے قابل تھا؟ کوئی لا اینڈ آرڈر مسئلہ ہوا تھا؟ کیا پتھراؤ ہوا تھا؟ اگر ایم ایل اے سے کوئی غلطی ہوئی تھی تو اسے اسمبلی میں اسپیکر کی نگرانی میں درست کیا جا سکتا تھا۔ ایسے سخت قانون کا سہارا لینا لوگوں کے جمہوریت پر اعتماد کو مجروح کرتا ہے ۔
عمرعبداللہ نے مزید کہا کہ۱۳جولائی کو لیڈروں کی حراست اور ۱۴جولائی کو پولیس کے ذریعے انہیں شہداء قبرستان جانے سے روکنے کی کارروائی بھی غلط تھی۔
وزیر اعلیٰ نے کہاکہ اس کے برعکس، وہ لوگ جو یہاں مذہبی جذبات کے ساتھ کھیل کر ماحول کو خراب کر رہے ہیں، ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ عام لوگوں کو ہراساں کیا جا رہا ہے اور پولیس تھانوں میں طلب کیا جا رہا ہے ۔










