(ندائے مشرق ویب ڈیسک)
سرینگر/۳ستمبر
۱۸ جولائی کو، سرلا دیوی اس وقت چونک گئیں جب ان کے لینڈ لائن فون پر کال آئی۔ اس نمبر پر عام طور پر کوئی فون نہیں کرتا تھا؛ آخر ان کے پاس موبائل فون بھی تھا۔
۷۶ سالہ دیوی نے کال اٹھائی۔ دوسری طرف سے ایک عورت بول رہی تھی؛ اس نے کہا کہ وہ ایک ٹیلی کام کمپنی سے ہے اور پھر کال کو ممبئی پولیس کرائم برانچ سے جوڑ دیا۔
ایک ’’پولیس افسر‘‘ نے فون اٹھایا۔ جو کچھ اس نے کہا اس نے دیوی کو ہلا کر رکھ دیا… اس نے ان پر الزام لگایا کہ انہوں نے مبینہ طور پر پہلگام کے ہلاکت خیز دہشت گردانہ حملے‘ جس میں ۲۶؍افراد مارے گئے تھے‘ میں شامل دہشت گردوں کو فنڈ کیا ہے۔
اگلے ۲۴ دنوں میں، بزرگ خاتون کو اپنی زندگی بھر کی جمع پونجی ‘۴۳ لاکھ روپے سے زیادہ‘ منتقل کرنے پر مجبور کیا گیا تاکہ وہ اپنی بے گناہی ’’ثابت‘‘ کر سکیں۔ بعد میں انہیں احساس ہوا کہ وہ دھوکہ دہی کا شکار ہو گئی ہیں۔
سیکٹر ۳۶ نوئیڈا کے سائبر کرائم پولیس اسٹیشن میں درج اپنی شکایت میں دیوی نے کہا کہ کال کرنے والی نے ابتدا میں خود کو ایک بڑی ٹیلی کام کمپنی کے ہیڈ آفس کی نمائندہ بتایا۔
دیوی نے اپنی شکایت میں کہا’’کالر نے مجھ سے کہا کہ میرے نام پر ممبئی کے بائیکلہ میں ایک فون نمبر رجسٹرڈ ہے اور یہ غیر قانونی سرگرمیوں ‘جوا اور بلیک میلنگ ‘کے لیے استعمال ہو رہا ہے۔ پھر اس نے مجھے ممبئی پولیس کرائم برانچ سے جوڑ دیا، اور کہا کہ وہ مجھے اگلے اقدامات سمجھائیں گے۔ اس نے کہا کہ مجھے ان کو کلیئرنس سرٹیفکیٹ جمع کرانا ہوگا‘‘۔
اس کے بعد دیوی کو مبینہ طور پر کسی ایسے شخص سے جوڑا گیا جو خود کو ممبئی پولیس کرائم برانچ کا اے سی پی ظاہر کر رہا تھا۔ ’افسر‘ نے انہیں خبردار کیا کہ ان کے نام پر گرفتاری وارنٹ جاری ہو چکا ہے، اور ان پر حوالہ لین دین اور دہشت گردوں کو فنڈ کرنے میں ملوث ہونے کا الزام لگایا۔ اس نے دعویٰ کیا کہ ان کا نام حالیہ پہلگام حملے میں دہشت گردوں کو فنڈ دینے کے معاملے میں بھی سامنے آیا ہے۔
ان کی شکایت میں درج ہے’’میں۷۶ سالہ عورت ہوں…ایک بیوہ جو اکیلی رہتی ہے…میں خوف زدہ تھی اور ذہنی و نفسیاتی دباؤ میں تھی۔ وہ چاہتے تھے کہ میں اپنے تمام بینک اکاؤنٹس کی تفصیلات دوں اور گرفتاری سے بچنے کے لیے سکیورٹی منی جمع کرا دوں…انہوں نے کہا یہ رقم تفتیش کے بعد واپس کر دی جائے گی،‘‘ ۔
دباؤ میں آکر اور قانونی کارروائی کے خوف سے، شکایت کنندہ نے پولیس کو بتایا کہ اسے ہدایت دی گئی کہ وہ اپنے اکاؤنٹس کی ’’تصدیق‘‘ کرے اور کلیئرنس سرٹیفکیٹ کے لیے رقم منتقل کرے۔
۲۰ جولائی سے ۱۳؍ اگست کے درمیان، پولیس کے مطابق دیوی نے آر ٹی جی ایس، آئی ایم پی ایس اور کیو آر کوڈ کے ذریعے ایچ ڈی ایف سی، کرناٹک بینک اور پوسٹ آفس کے اپنے اکاؤنٹس سے تقریباً ۴۳ لاکھ روپے آٹھ ٹرانزیکشنز میں منتقل کیے۔ یہ رقم متعدد اکاؤنٹس میں بھیجی گئی۔
پولیس نے کہا کہ سائبر دھوکے باز مسلسل ان پر دباؤ ڈالتے رہے کہ مزید پیسے جمع کرائیں، اور واٹس ایپ اور ویڈیو کالز پر سینئر پولیس افسران کا روپ دھار کر انہیں دھمکیاں دیتے رہے۔ اپنی زندگی بھر کی جمع پونجی دینے کے باوجود، انہوں نے مزید ۱۵ لاکھ روپے کا مطالبہ جاری رکھا۔
پولیس نے کہا’’یہ صرف اس وقت ہوا جب وہ اپنے ایک جاننے والے وکیل سے رابطہ کر پائیں کہ انہیں احساس ہوا کہ وہ دھوکے کا شکار ہو چکی ہیں، اور پھر انہوں نے ان سے بات چیت بند کر دی،‘‘ ۔
اپنی شکایت میں دیوی نے کہا کہ اس جعلسازی نے نہ صرف انہیں مالی طور پر برباد کر دیا بلکہ شدید ذہنی دباؤ اور صحت کے مسائل بھی پیدا کر دیے۔ ’’پورے واقعے نے مجھے ہلا کر رکھ دیا ہے، میری ذہنی اور جسمانی صحت کو متاثر کیا ہے، میری تمام مالیات چھین لیں اور مجھے شدید مشکل میں ڈال دیا ہے،‘‘ انہوں نے لکھا اور پولیس سے درخواست کی کہ ملزمان کو ’’مثالی سزا‘‘ دی جائے۔
نوئیڈا پولیس نے متعلقہ دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا ہے۔پولیس نے کہا کہ پیسے کے سراغ اور ملزمان کی شناخت کے لیے تفتیش جاری ہے۔(بشکریہ انڈئن ایکسپریس)










