نئی دہلی// احمد آباد طیارہ حادثے پر ایئر کرافٹ ایکسیڈنٹ انویسٹی گیشن بیورو (اے اے آئی بی) کی ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پائلٹوں نے طیارے میں انجنوں کو ایندھن سپلائی کرنے کے نظام کے دونوں سوئچ فوری طور پر آن کر دیے تھے ، لیکن تب تک بہت دیر ہو چکی تھی۔
ایئر انڈیا کی فلائٹ نمبر اے آئی171 (احمد آباد-لندن) کی کمان فرسٹ آفیسر پی ایف (پائلٹ فلائٹ) کلائیو کندر کے ہاتھوں میں تھی اور فلائٹ کاک پٹ کو پائلٹ مانیٹرنگ (پی ایم) کیپٹن سمیت سبھروال سنبھال رہے تھے ۔ پرواز کے دوران سینئر کیپٹین پرواز کی نگرانی اور انتظام کرتا ہے ۔ حادثے کے ایک ماہ بعد جاری ہونے والی اے اے آئی بی کی ابتدائی رپورٹ کے مطابق پرواز میں استعمال ہونے والے بوئنگ 787-8 طیارے نے احمد آباد ایئرپورٹ سے ٹیک آف کے فوراً بعد ہی اپنے دونوں انجنوں میں ایندھن سپلائی بند ہونے کی وجہ سے اونچائی پکڑنے کی رفتار کھونا شروع کر دیا تھا۔ اس دوران ایک پائلٹ نے دیکھا کہ فیول سسٹم کے دونوں سوئچ آف ہیں اور اس نے دوسرے سے پوچھا کہ تم نے ایسا کیوں کیا۔ دوسرے پائلٹ نے کہا کہ اس نے ایسا نہیں کیا۔
رپورٹ کے مطابق دونوں سوئچ کو فوری طور پر آن کر دیا گیا لیکن اس سے پہلے کہ انجن طاقت حاصل کرتے اور طیارہ دوبارہ بلندی پر اڑان کی رفتار حاصل کر پاتا، یہ میڈیکل کالج کے ہاسٹل سے ٹکرا گیا۔ رپورٹ میں صرف ایندھن بند ہونے سے متعلق کاک پٹ میں ہونے والی گفتگو کی مختصر تفصیل دی گئی ہے ۔ یہ نہیں بتایا گیا کہ گفتگو کس پائلٹ نے کی ہے ۔
اے اے آئی بی کے مطابق، "ایک پائلٹ کو دوسرے سے یہ پوچھتے ہوئے سنا گیا کہ تم نے کیوں کٹ آف کیا۔ دوسرے پائلٹ نے جواب دیا کہ میں نے ایسا نہیں کیا۔”
رپورٹ کے مطابق پائلٹس نے طیارے کو بچانے کی بھرپور کوشش کی۔ ایندھن کٹ آف ہونے کے 10 سے 14 سیکنڈ کے اندر، وہ دونوں فیول سوئچز کو ‘رن’ پوزیشن پر واپس کرنے میں کامیاب ہوگئے تھے ۔










